پاکستان عالمی امن کی امیدوں کا مرکز،آج اسلام آباد میں امریکا،ایران مذاکرات

پاکستان عالمی امن کی امیدوں کا مرکز،آج اسلام آباد میں امریکا،ایران مذاکرات

ایرانی وفد پہنچ گیا ، امریکی حکام کی بھی آج آمد ، سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم سے ملاقات ، فیلڈ مارشل بھی موجود ، برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا شہباز شریف کو فون ،امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار دنیا کا سب سے طاقتوری سیٹ،مذاکرات کی کامیابی کا 24 گھنٹوں میں معلوم ہوجائے گا: ٹرمپ ،امریکی جہاز ہرمز سے گزر سکتے ہیں:ایران:اسرائیلی حملے میں 13 لبنانی سکیورٹی اہلکار شہید ، امریکا نے جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرنیکا وعدہ کیا :عراقچی

 اسلام آباد،تہران،بیروت(نامہ نگار،اے پی پی،اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)جنگ بندی کے بعد پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکرات آج اسلام آباد میں ہوں گے ، اس بڑی بیٹھک کے لئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے دیگر اراکین شامل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا ،وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی حکام آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے ، ادھروزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے وزیرِاعظم ہاؤس میں ملاقات کی ،ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار،چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے ،وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام دیا،وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب کی پاکستان کے لیے مسلسل معاشی و مالی معاونت قابلِ قدر ہے ، پاکستان اور سعودی عرب ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، سعودی وزیر خزانہ نے بھی پاکستان کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور امریکا،ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں کو بے حد سراہا۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم سٹارمر نے اسلام آباد امن مذاکرات کی میزبانی پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ،دونوں رہنماؤں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی برقرار رہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے سازگار ماحول ہونا چاہئے ۔دوسری طرف مذاکرات سے قبل دونوں ممالک کی طرف سے مثبت اشارے مل رہے ہیں ، ایران نے امریکی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی ہے ، ایران کے نائب وزیرِ خارجہ خطیب زادہ نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ کسی قسم کی دشمنی پر مبنی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں،بی بی سی کے مطابق انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے تاہم جہازوں کے محفوظ سفر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہیں ،ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد کردہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی ضروری ہے ، فریقین کے مابین باہمی طور پر طے پانے والے دو معاملات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے ،ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے یہ دونوں معاملات حل ہونے چاہئیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں ایران کے سفیر سے ٹیلی فونک گفتگو کے کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرنیکا وعدہ کیا تھا ، واشنگٹن کو اپنی ‘ذمہ داریوں’ کی پاسداری کرنی ہوگی، ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا تاہم امریکا کی دھوکا دہی والی فطرت کے سبب گہرے شکوک و شبہات باقی رہیں گے ،انہوں نے امریکا اوراسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کاوشوں کی ستائش کی اور کہا کہ ایران اسلام آباد مذاکرات میں پوری اتھارٹی کے ساتھ شرکت کرے گا ،ان مذاکرات کا ہدف اپنی فوجی کامیابیوں کوسفارتی طور پر مزید تقویت دینا ہوگا،نائب صدر نے مزید کہا کہ جنگ کے ان 40 دنوں میں ایران نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کیا، یہ جنگ سٹریٹجک حکمت عملیوں میں علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے لیے فیصلہ کن موڑ ہے ،انہوں نے ایرانی عوام کے مظاہروں کو سوفٹ پاور قراردیا ، دریں اثنا امن مذاکرات کی کوششوں کے دوران لبنا ن کے شہر نبطیہ پر اسرائیلی حملوں میں سٹیٹ سکیورٹی ادارے کے 13اہلکارشہید ہو گئے ، لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کے جنگی طیاروں نے شہر پر شدید حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں ایک حملہ نبطیہ کی سرکاری عمارت کے قریب کیا گیا،بمباری سے کئی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی ۔

جمعہ کی صبح سے صرفند کے علاقے میں 2 بار اسرائیلی فوج کی جانب سے بمباری کی گئی ۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے جمعہ کے روز علی الصبح جنوبی لبنان کے قصبے الخیام کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر حملہ کیا ہے ، جبکہ اسلامی مقاومت کے مجاہدین نے اشدود میں واقع بحری اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے لبنان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بغیر کسی فائدے کے رعایتیں دینا بند کرے ۔لبنا ن کی وزارت صحت کا کہنا ہے بدھ کے روز کئے گئے اسرائیلی حملے میں شہادتوں کی تعداد 357ہوگئی اور ایک ہزار 223افراد زخمی ہوئے ۔ دوسری طرف سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے امریکی ہم منصب مارکو روبیو نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔دونوں وزرائے خارجہ نے لبنان کی تازہ ترین صورتحال اور اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر بھی بات کی۔شہزادہ فیصل بن فرحان سے سپین کے وزیر خارجہ نے بھی رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال، سلامتی اور استحکام پر اثرات، اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر بات کی گئی۔

واشنگٹن (دنیا نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ہو سکتا ہے ،مثبت سمت میں پیش رفت جاری ہے ، اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا،امریکی صدر نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی، خطے میں کشیدگی میں کمی متوقع ہے ،ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کئے ہوئے ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے ،امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے ،صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں جانب سے سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے جو ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے ، اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی ، امریکی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کے آغاز سے قبل سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ د نیا کی طاقتور ترین نئی شروعات ہونے جا رہی ہے ۔

دوسری طرف نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں انہوں نے خبردار بھی کیا کہ امریکا اپنے بحری جہازوں کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے ، اگر معاہدہ نہ ہوا تو ا نہیں استعمال کریں گے ، دنیا کا سب سے طاقتوری سیٹ ہے ،مذاکرات کی کامیابی کا 24 گھنٹوں میں معلوم ہوجائے گا،ہم اپنے جہازوں پر بہترین ہتھیار لاد رہے ہیں، یہاں تک کہ اس سے بھی بہترین سطح کے ہتھیار جو ہم مکمل تباہی کے لیے استعمال کرتے ہیں، اگر ہمارا معاہدہ نہ ہوا تو پھر ہم ان ہتھیاروں کو استعمال کریں گے اور بہت موثر طریقے سے استعمال کریں گے ، ایرانی ایسے لوگ ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے کہ وہ سچ کہتے ہیں یا نہیں،ادھر مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو نے سے قبل میری لینڈ ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی قیادت نیک نیتی کے ساتھ بات چیت پرآمادہ ہوئی تو امریکا بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کو تیار ہے ، اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا، چالاکی کی کوشش کی تو امریکی مذاکراتی ٹیم مثبت ردعمل نہیں دے گی، انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعمیری گفتگو کے خواہاں ہیں ،جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے رہنما اصول فراہم کئے ہیں ان کی گائیڈلائن کے تحت مذاکرات میں شریک ہوں گے ، یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں