ملزم کو ٹرائل سے قبل تمام دستاویزات کی فراہمی لازمی:لاہور ہائیکورٹ
دستاویزات فراہمی کے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی، یہ ملزم کو رعایت نہیں بلکہ قانونی حق :جسٹس تنویر عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج لاہور کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا، ملزم شوکت علی کو تمام دستاویزات فراہمی کی ہدایت
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے فوجداری مقدمات میں ملزموں کے حقوق سے متعلق اصولی فیصلہ جاری کر دیا،چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی ملزم کو ٹرائل کے آغاز سے قبل تمام دستاویزات کی فراہمی لازمی ہے اسکے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی، عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج لاہور کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملزم کو شکایت کنندہ کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام دستاویزات تک رسائی حاصل کرنا اس کا بنیادی قانونی حق ہے ،عدالت کے روبرو یہ معاملہ اس وقت آیا جب ایڈیشنل سیشن جج نے ملز م شوکت علی کی دستاویزات فراہمی کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کی شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ملزم کو تمام شواہد اور ریکارڈ تک مکمل رسائی دینا ضروری ہے ، دستاویزات کی فراہمی کسی قسم کی رعایت یا سہولت نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی حق ہے ، اور اس کے بغیر منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں، عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملزم کو مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیا جائے تو وہ اپنے دفاع کی مؤثر تیاری نہیں کر سکتا، عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے ، اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ملزم کو مقدمے کی تمام متعلقہ دستاویزات بروقت فراہم کی جائیں، عدالت نے ملزم شوکت علی کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام دستاویزات فراہم کریں تاکہ ٹرائل قانون کے مطابق شفاف انداز میں آگے بڑھ سکے ۔