کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کی منظوری
2,300 سے زائد اسمارٹ کیمروں، جدید مانیٹرنگ انفرااسٹرکچر کی تنصیب ہوگی
کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے فیزٹو کی منظوری دے دی، جس کے تحت شہر میں شہری سکیورٹی، نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کو مضبوط بنانے کے لیے 2,300 سے زائد اسمارٹ کیمروں اور جدید مانیٹرنگ انفرااسٹرکچر کی تنصیب کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ سیف سٹیز اتھارٹی (ایس ایس سی اے )کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے فیزٹو کے تحت مجموعی طور پر 2,314 اسمارٹ سرویلنس کیمرے نصب کیے جائیں گے ، جن میں 870 عمومی نگرانی، 1,300 آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن (اے این پی آر) اور فیشل ریکگنیشن سے لیس، 80 ٹریفک نفاذ کیلئے ، 56 موبائل سرویلنس یونٹس اور 8 ٹریفک سگنل مانیٹرنگ کیلئے مختص ہوں گے ۔یہ کیمرے کراچی کے مختلف اضلاع میں نصب کیے جائیں گے ، جن میں ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ 322 کیمرے ، اس کے بعد ضلع شرقی 220، کورنگی 27، کیماڑی 17، ملیر 16 اور ضلع غربی میں ایک کیمرہ نصب کیا جائے گا، جس سے شہر کے مانیٹرنگ نیٹ ورک میں نمایاں توسیع ہوگی۔ تقریباً 9.98 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل 12 ماہ میں متوقع ہے ، جبکہ کام مئی 2026 میں شروع ہونے کا امکان ہے ۔ انفرااسٹرکچر میں 9 پوائنٹس آف پریزنس (پی او پی) سائٹس شامل ہوں گی جن میں سولر اور جنریٹر بیک اپ، ایک اسمارٹ سرویلنس ٹاور، مرکزی کمانڈ سسٹم سے منسلک 50 پبلک پینک بٹن، آن بورڈ کیمروں سے لیس 8 رسپانس گاڑیاں اور 10 سرویلنس ڈرونز شامل ہیں۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ خریداری کے عمل میں مذاکرات کے ذریعے ایک ارب روپے سے زائد کی بچت کی گئی، جو مالی نظم و ضبط کی عکاسی ہے جبکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔