تحریک انصاف رہنما ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

تحریک انصاف رہنما ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

گزشتہ روز انسداد دہشتگردی عدالت نے چاروں ملزموں کی ضمانت منظور کی تھی پولیس نے پرانے مقدمے میں دوبارہ گرفتارکرلیا، حلیم عادل کی گرفتاری کی مذمت

کراچی (سٹاف رپورٹر) تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ضمانت پر رہائی کے بعد پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا۔پیر آباد تھانے میں درج مقدمے میں ضمانت منظور  ہونے اور مچلکے جمع کرانے کے بعد عدالت کی جانب سے ریلیز آرڈر جاری کیا گیا، تاہم پولیس نے رہنماؤں کو کورنگی صنعتی ایریا میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ایک اور مقدمے میں گرفتار کرلیا۔ تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے مطابق رہنما عالمگیر خان اور دوا خان صابر کو جیل کے اندر ہی گرفتار کیا گیا جبکہ ایڈووکیٹ خالد محمود اور معراج شاہ کو جیل سے رہائی کے فوری بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اتوار کے روز ریڈ زون میں احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں دیگر ملزموں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ماتحت عدالت سے ضمانت منظور ہونے پر انہیں پیر آباد کے گزشتہ برس کے مقدمے میں بطور نامعلوم ملزم گرفتار کیا گیا،

جبکہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت نے چاروں ملزموں کی ضمانت منظور کی تھی۔ جمعہ کو مچلکے جمع کرانے کے بعد رہائی کے احکامات جاری ہوئے تو پولیس نے ایک اور مقدمے میں انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا۔ حلیم عادل شیخ نے رہنماؤں کی دوبارہ گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بلاول بھٹو زرداری کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے اور چور حکمرانوں کو مہنگائی کے خلاف احتجاج بھی برداشت نہیں۔ اتوار کے احتجاج پر 24 رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد انہیں پرانی دہشت گردی کی ایف آئی آرز میں ملوث کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا سندھ میں قانون کی حکمرانی ختم ہوچکی ہے اور پیپلزپارٹی کی حکومت پولیس کے ذریعے جبر کا نظام چلا رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا تمام جھوٹے مقدمات فوری ختم اور تحریک انصاف کے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں