ایران امریکا مذاکرات غیر یقینی،جنگ پھر شروع ہو سکتی:نجم سیٹھی
امریکی صدر پر مختلف قسم کے پریشر ،پھنسا ہوا ہے ، ایران اپنے مقاصد میں کلیئر ہے حالیہ مذاکرات میں ایران سنجیدہ تھا،پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دنیا نیوز کے پروگرام’’ آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے ، حکومت اس بارے میں کسی کو بتا نہیں رہی،کیونکہ یہ معاملہ سنجیدہ ہے ، ابھی تک کوئی چیز طے نہیں ہوئی،توپھر حکومت کیا بتائے گی؟،صدر ٹرمپ ہر دن اپنی لائن تبدیل کرلیتے ہیں،جس دن ٹرمپ اور ایران فیصلہ کرلیں گے کہ کچھ چیزیں طے ہو گئی ہیں تو پھر ایران متفق ہو جائے گا پھر دیکھا جائے گا امریکی کس کو بھیجتے ہیں،ایران کی طرف سے کس کو بھیجا جاتاہے، حالیہ مذاکرات میں ایران سنجیدہ تھا، اپنے ساتھ 70 بندے لایا،ان میں ماہرین بھی شامل تھے ،ہرموضوع کے اوپر فائلز لے کر آئے بات چیت کرنے کیلئے تاکہ بات آگے چلے اور گفتگو شروع ہوجائے ،موٹی موٹی بات کے اوپر بات شرو ع ہوجائے ، پھر اس کے بعد باریکیوں میں چلے جائیں گے ، امریکا کی طرف سے کوئی سنجیدگی نہیں تھی،میں نے پہلے دن کہا تھا کہ امریکی ٹیم جو آرہی ہے ،اس سے کوئی معاملہ حل نہیں ہو گا،کوئی بریک تھرو نہیں ہوگا،یہ صرف سننے آیا ،کچھ کرنے نہیں آیا،صدر ٹرمپ پر مختلف قسم کے پریشر ہیں، ٹرمپ ایک فیصلہ نہیں کرپا رہا وہ پھنسا ہوا ہے ،ایران اپنے مقاصد میں کلیئر ہے ،اس لئے سارے امریکن اور یورپین تبصرہ نگار کہہ رہے ہیں ایران کا ہاتھ بھاری ہے۔
امریکا کمزور پوزیشن میں ہے ،ٹرمپ کمزورپوزیشن میں چھوڑ کر آیا یا کوئی تصفیہ کرے گا تو اڑ جائے گا،اسلام آباد میں جو تیاریاں ہورہی ہیں یہ اچھی بات ہے ، کسی وقت بھی ہوسکتا ہے کہ فیصلہ ہوجائے کہ یہ چیزیں طے ہو گئی ہیں کہ کل مل لیتے ہیں، تو اس کیلئے سب تیار بیٹھے ہوں،ایران اور امریکا والے تیار بیٹھے ہوں گے ،یہ معاملہ دو تین، چار دن آگے چل سکتا ہے ، اس دوران بات چیت ٹوٹ بھی سکتی ہے ،جنگ پھر سے شروع بھی ہو سکتی ہے ،حکومت کا فیصلہ درست ہے کہ اسلام آباد میں سب کچھ بند کردو اور تیار رہو،شارٹ نوٹس پر دونوں طرف سے مذاکرات کار آسکتے ہیں،تیاریاں دیکھ کر ہمارے دوست پرجوش ہوجاتے ہیں ، ایسی صورتحال نہیں ہے ،ابھی کوئی یقینی بات نہیں ہے ،ممکن ہے وفد نہ آئے ،ٹرمپ کا یہی فیصلہ ہو کہ ہم نے اب فوجی کارروائی کرنی ہے ،ہوسکتاہے ٹرمپ کہہ دے کہ بات نہیں بن رہی ہم نے فوجی کارروائی کرنی ہے ،اس لئے ان کی کوئی گارنٹی نہیں وفد کب آتاہے ،آجائے تو بہت اچھا ہے تاکہ ایک اور راؤنڈ ہوجائے ، یا تو سیز فائر کو بڑھانا پڑے گا یا جنگ ہوجائے گی، بیچ میں کوئی راستہ نہیں ،اگلے دو یا تین دن میں نہیں آتے تو صدر ٹرمپ کو سیز فائر کی مدت بڑھانا پڑے گی ،جنگ بندی کی مدت اسی صورت بڑھ سکتی ہے جب ان کو خیال ہو ابھی ملاقات ہوسکتی ہے کچھ ایشوز پر گفتگو کرنا ہے ، کوئی حل تلاش کرنا ہے ،اگر ٹرمپ فیصلہ کرتا ہے کہ ہم نے اور جنگ کرنی ہے تو پھر و ہ نہیں آئیں گے ،وہیں سے اعلان کرکے جنگ شروع کردیں گے۔