جنگ کے 50 دنوں میں 50 ارب ڈالر کے تیل کا نقصان

 جنگ کے 50 دنوں میں 50 ارب ڈالر کے تیل کا نقصان

فروری کے آخر میں شروع ہونیوالے بحران کے بعد سے 50 کروڑ بیرل سے زائد تیل عالمی منڈی نہ پہنچ سکا یہ جدید تاریخ میں توانائی فراہمی میں بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ،اثرات برسوں تک محسوس کیے جائینگے :ماہرین

لندن (رائٹرز)ایران جنگ شروع ہونے کے تقریباً 50 دن بعد دنیا تقریباً 50 ارب ڈالر مالیت کے خام تیل کی پیداوار سے محروم ہو چکی ہے ، اور اس بحران کے اثرات آئندہ کئی مہینوں بلکہ برسوں تک محسوس کیے جائیں گے ۔ماہرین کے مطابق اس جنگ کی وجہ سے عالمی تیل منڈی متاثر ہوئی ہے ، سپلائی میں کمی آئی ہے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے ، جس کے اثرات عالمی معیشت پر طویل عرصے  تک پڑ سکتے ہیں۔فروری کے آخر میں شروع ہونے والے بحران کے بعد سے 50 کروڑ بیرل سے زائد تیل عالمی منڈی میں نہیں پہنچ سکا، جو کہ کلپر کے مطابق جدید دور کی سب سے بڑی توانائی کی سپلائی رکاوٹوں میں شمار ہوتا ہے ۔فروری کے آخر میں بحران شروع ہونے کے بعد سے اب تک 50 کروڑ (500 ملین) بیرل سے زائد خام تیل اور کنڈینسیٹ عالمی منڈی سے باہر ہو چکے ہیں، کلپر (Kpler) کے اعداد و شمار کے مطابق - جو جدید تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کار آئن مووٹ کے الفاظ میں، 50 کروڑ بیرل تیل کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر فضائی سفر کی طلب 10 ہفتوں تک ختم کرنے کے برابر؛ دنیا بھر میں تمام گاڑیوں کی سڑکوں پر آمد و رفت 11 دن کے لیے بند کرنے کے برابر؛ یا پوری عالمی معیشت کو 5 دن تک تیل کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے ۔رائٹرز کے اندازوں کے مطابق یہ مقدار امریکہ کی تقریباً ایک ماہ کی تیل کی طلب یا پورے یورپ کے ایک ماہ سے زائد استعمال کے برابر ہے ۔اسی طرح، یہ مقدار امریکی فوج کے تقریباً چھ سال کے ایندھن کے استعمال کے مساوی ہے ، جو مالی سال 2021 میں تقریباً 8 کروڑ (80 ملین) بیرل سالانہ استعمال پر مبنی ہے ۔مزید برآں، یہ اتنا ایندھن ہے کہ عالمی بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری کو تقریباً چار ماہ تک چلایا جا سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں