اسلام آباد مذاکرات ، غیر یقینی صورتحال برقرار : ابھی حصہ لینے کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا: ایران جنگ بندی ختم ہوئی تو حملے دوبارہ شروع کرسکتے ہیں : ٹرمپ

 اسلام آباد مذاکرات ، غیر یقینی  صورتحال برقرار : ابھی حصہ لینے کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا: ایران جنگ بندی ختم ہوئی تو حملے دوبارہ شروع کرسکتے ہیں : ٹرمپ

ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ کو آگاہ کردیا،چین کا ایرانی جہاز روکے جانے پر اظہار تشویش، ایران کی عملے کے اہل خانہ کی موجودگی کے باعث محدود جوابی کارروائی اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ، شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں ایران امریکا مذاکرات کاانعقاد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ ،صدر یورپی کونسل کا فون، سفارتی کوششوں کو سراہا

اسلام آباد، تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد میں امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بر قرار ، ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی حصہ لینے کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا جنگ بندی ختم ہوئی تو حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں ۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا کہ ایران امریکا کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے تاہم عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسلام آباد نے ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جو ایران کی امن کوششوں میں دوبارہ شمولیت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ثالث ملک پاکستان ناکہ بندی ختم کرانے اور ایران کی شرکت یقینی بنانے کے لیے مثبت کوششیں کر رہا ہے ۔جنگ بندی اس وقت خطرے میں پڑتی دکھائی دی جب امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو روک لیا ہے جو ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ واشنگٹن نے ظاہر کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں، تہران اپنے مطالبات تبدیل نہیں کرے گا۔امریکا کی کوشش تھی کہ جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے پاکستان میں جلد مذاکرات شروع کیے جائیں اور اسلام آباد میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے تھے۔

تاہم بقائی نے کہا کہ امریکا غیر معقول اور غیر حقیقی مو قف پر اصرار کر رہا ہے ۔ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے کے مطابق پاکستان کے اہم ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا تھا کہ ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے اور ٹرمپ نے اس مشورے پر غور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔امریکا ایران جنگ بندی کے خاتمے کے قریب ٹرمپ نے 7 اپریل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کی حتمی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔مذاکرات سے منسلک ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق یہ جنگ بندی منگل کو امریکی وقت کے مطابق شام 8 بجے ختم ہو جائے گی، جو عالمی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 3:30 بجے ایران میں ہوگا۔جنگ بندی میں توسیع کے امکان پر سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا: مجھے نہیں معلوم، شاید نہیں۔ شاید میں توسیع نہ کروں۔ لیکن ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

بعد ازاں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے ۔ ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ ہماری ڈیل سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ڈیل سے بہت بہتر ہوگی، یہ ایسی ڈیل ہوگی جس پر دنیا فخر کرے گی،انہوں نے کہا کہ اوباما کا معاہدہ تاریخ کا بدترین معاہدہ تھا۔ٹرمپ نے مزید کہا ایران کے ساتھ معاہدہ ‘نسبتاً جلدی’طے پا جائے گا۔انہوں نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ وہ کسی قسم کے ‘دباؤ’ میں آ کر معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔انہوں نے کہا ‘یہ ہرگز درست نہیں۔ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی جنگ سے متعلق رپورٹنگ پر کڑی تنقید کی اور اس حوالے سے انھوں نے خاص طور پر نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جرنل کا نام لیا۔انھوں نے امریکی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ‘ایران کی جیت کی خواہش رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا ‘اگر کوئی امریکی میڈیا کی رپورٹنگ پر انحصار کرے تو اسے یوں محسوس ہوگا جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو۔ ایران بھی انھی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے ‘کنفیوژن’ کا شکار ہے ۔اپنی پوسٹ میں انھوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایران کو ‘بالکل تباہ کر رہی ہے ’ اور اسے اس وقت تک نہیں ہٹایا جائے گا جب تک کوئی ‘معاہدہ’ نہیں ہو جاتا۔انہوں نے کہا ایران 50کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے جو قلیل مدت کیلئے بھی ایک ناقابلِ برداشت نقصان ہے ۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکی حکام کے غیر تعمیری اور متضاد اشارے ایک تلخ پیغام دیتے ہیں۔ وہ ایران کی ہتھیار ڈالنے کی خواہش رکھتے ہیں،انہوں نے ایکس پر مزید کہا کہ ایرانی دباؤ کے سامنے نہیں جھکتے ۔ادھر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ تاجروں کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے ۔ آبنائے ہرمز میں ٹریفک تقریباً مکمل طور پر رکی ہوئی ہے ، 12 گھنٹوں میں صرف تین جہاز گزرے۔

امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اتوار کے روز ایران کے پرچم والے ایک کارگو جہاز پر فائرنگ کی جو بندر عباس بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا، اور چھ گھنٹے کے تعطل کے بعد اس کے انجن ناکارہ بنا دئیے گئے ۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے ویڈیو بھی جاری کی جس میں میرینز ہیلی کاپٹروں سے رسیوں کے ذریعے جہاز پر اترتے دکھائی دیتے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ جہاز ممکنہ طور پر ایسے سامان لے جا رہا تھا جسے امریکا فوجی مقاصد کیلئے دہرے استعمال کا سامان قرار دیتا ہے ۔ایران کی فوج نے کہا کہ جہاز چین سے آ رہا تھا اور امریکا پر مسلح قزاقی کا الزام عائد کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے امریکی واضح جارحیت کا مقابلہ کرنے کی تیاری ظاہر کی، تاہم عملے کے اہل خانہ کی موجودگی کے باعث فوری کارروائی محدود رہی۔چین نے اس زبردستی روکنے  پر تشویش کا اظہار کیا۔یورپی اتحادی، جنہیں ٹرمپ نے اپنی جنگی کوششوں میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، اس بات پر تشویش رکھتے ہیں کہ امریکی مذاکراتی ٹیم ایک تیز اور سطحی معاہدہ چاہتی ہے جس کے بعد تکنیکی طور پر پیچیدہ اور طویل عمل درکار ہوگا۔پاکستان نے اگرچہ مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر لی ہے ، تاہم ان کے انعقاد کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

اسلام آباد میں تقریباً 20 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں۔ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں ایران امریکا مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار،وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے ۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے امریکی اور ایرانی سفیروں سے اپنی ملاقات پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا،جبکہ ایران کی مذاکرات میں شرکت یقینی بنانے کیلئے روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔دریں اثنا وزیر اعظم سے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ٹیلی فونک رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔شہباز شریف نے یورپی کونسل کے صدر کو خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔دونوں رہنماؤں نے دیرپا عالمی سلامتی کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا اور اہم امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔علاوہ ازیں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جاری علاقائی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی اور جنگ بندی سے متعلق معاملات میں باہمی رابطوں اور تعاون کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر ہم آہنگی کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دے دیا۔

سرگئی نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی ہے ۔اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کی وزیرِخارجہ پینی وونگ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ پینی وونگ نے نائب وزیرِاعظم کی سفارتی کوششوں اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس ضمن میں سفارتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کی تعریف بھی کی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات کے پہلے دور سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان مکالمے اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، دونوں رہنماؤں نے عالمی معیشت، خصوصاً ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے وسیع اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں