ہسپتال میں خاتون جج کی وفات جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر
لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ہسپتال انتظامیہ کی لاپروائی سے خاتون سول جج کی وفات کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست پر درخواست گزار وکیل کو رجسٹرار آفس کا اعتراض دو روز میں دور کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے وکیل کو درخواست میں ترمیم کر نیکی بھی ہدایت کی۔ فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ سول جج ساجدہ محبوب ڈی جی خان میں تعینات اور گردوں کی بیماری کا شکار تھیں، 26 اپریل کو ان کا اسلام آباد میں گردہ ٹرانسپلانٹ ہونا تھا، 24 اپریل کو طبیعت خراب ہونے پر ساجدہ محبوب کو ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال لایا گیا، خاتون جج رات ساڑھے دس بجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک ہسپتال میں تڑپتی ر ہیں ،مریضہ کے نہ ڈائیلسز کئے گئے اور نہ ہی آکسیجن لگائی گئی، اطلاع کے باوجود ایم ایس اور سی ای او ہیلتھ نے کوئی ایکشن نہ لیا، سرکاری ہسپتال میں اگر سول جج بے یارو مددگار انتقال کر گئی ہیں تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ ،استدعا ہے کہ عدالت ذمہ داروں کیخلاف کمیشن بنا کر کارروائی کا حکم دے ،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے۔