تیل مہنگاہونے سے فصلیں،برآمدات متاثرہونگی:خزانہ کمیٹی میں بحث
نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل، فسکل ریسپانسیبلٹی اینڈ ڈیبٹ لمٹیشن ترمیمی ایکٹ منظور
اسلام آباد (مدثر علی رانا)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 اور فسکل ریسپانسیبلٹی اینڈ ڈیبٹ لمٹیشن ترمیمی ایکٹ کی منظوری دے دی، وزیرمملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 12 ارب ڈالر سرمایہ کاری ہو چکی ہے ، اوورسیز کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے ، معاشی ماہر علی سلمان نے کہا کہ پاکستان کی ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو نقصان بڑھ سکتا ہے ، اگر بحران جاری رہا تو رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کو 10 تا 15 ارب ڈالر نقصان ہو سکتا ہے ۔
چیئرمین کمیٹی نوید قمر کی زیرصدارت اجلاس میں مرکزی بینک کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر اور بینکوں کے درمیان معاہدے میں نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 لاگو ہو گا، اس قانون کے تحت قرضوں کی سیٹلمنٹ کے معاہدے کیے جا سکیں گے ، یہ حکومتی بل سٹیٹ بینک کے نمائندے نے کمیٹی میں پیش کیا، دونوں فریقوں کے درمیان قرض لین دین معاہدہ طے پانے پر نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس ایکٹ لگے گا جس سے قرض وصولی کے وقت فریقین ایک دوسرے کے بقایا جات ایڈجسٹ کر سکیں گے ۔ نوید قمر نے کہا سٹے آرڈرز سے متعدد تنازعات بغیر حل ہوئے طویل عرصہ چلتے رہتے ہیں۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایکٹ لگنے سے فریقین کے درمیان تنازع کا ثالثی طریقہ کار سے حل نکالا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ڈیٹ لمٹیشن قانون کے مطابق قرضوں کی حد بالحاظ جی ڈی پی 60 فیصد تک ہونی چاہیے ، گزشتہ برس قرضوں کی حد بالحاظ جی ڈی پی 69.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال ملکی مجموعی قرضوں میں کمی کا امکان ہے ، بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2022 میں مقامی قرضوں کی میچورٹی 2 سال 6 ماہ کو اصلاحات کے تحت مدت کو بڑھایا گیا ۔ جاوید حنیف نے کہا کہ قرضوں کی مقررہ حد کے قانون کی خلاف ورزی ہو رہی اور پارلیمنٹ کو لاعلم رکھا جاتا ہے ۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مالیاتی خسارہ بڑھنے کی وجہ سے ملکی قرضے بڑھ رہے ، مالیاتی خسارہ کم کرنے کے اقدامات کیے گئے ، حکومت اس وقت پرائمری سرپلس میں ہے ۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ملکی مجموعی قرضوں کی سہ ماہی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جانی چاہیے ۔ ماہرین معاشیات نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو معاشی فریم ورک کیلئے خطرہ قرار دیا اور کہا مہنگائی، میکرو اکنامک فریم ورک،گیس، تیل، توانائی جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے ۔ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے سے رواں مالی سال درآمدی بل 4 ارب ڈالر مزید بڑھ سکتا ہے ، درآمدی و مقامی کھاد کی پیداوار کم ہونے سے آئندہ سیزن میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے اور دوسری جانب ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 30 کروڑ ڈالر تک کمی کا خدشہ ہے ۔
سینئر اکانومسٹ اور پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکسپرٹ نے بریفنگ میں کہا کہ میکرو اکنامک صورت حال کیلئے چیزیں اچھی نہیں، مہنگائی بڑا چیلنج ہے جو میکرو اکنامک فریم ورک متاثر کرے گا، معاشی ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی بڑی مقدار آر ایل این جی اور فرنس آئل سے بنتی ہے جن کی سپلائی متاثر ہے ، لوڈ شیڈنگ کی وجہ بھی یہی ہے کہ پیداوار متاثر ہے ، 33 گیگاواٹ کے برابر پاکستان میں سولر کپیسٹی ہے ۔ معاشی ماہرین نے کہا گزشتہ دو ماہ میں پٹرولیم مصنوعات 42 فیصد مہنگی ہوئیں ، پٹرولیم کا 80 فیصد استعمال ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک میں ہوتا ہے ، کچھ علاقوں میں اندرون شہر کرایوں میں 100 فیصد اور بعض جگہ 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان کی 60 فیصد ایکسپورٹ ٹیکسٹائل پر مبنی ہیں، فریٹ کاسٹ کی وجہ سے ملکی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔