ملک بھر میں گیس بحران بڑھنے لگا، نئے کنکشنز پر پھر پاپندی
اطلاق گھریلو صارفین پر ہوگا ، ، سپلائی بہتر ہوتے ہی لگا دینگے :حکام وفاقی حکومت کا پختونخوا کو سی این جی سٹیشنز کیلئے گیس دینے سے انکار :ذرائع
لاہور،پشاور(اپنے کامرس رپورٹر سے ،نیوز ایجنسیاں،دنیا نیوز)ملک بھر میں گیس بحران بڑھنے لگا جبکہ آر ایل این جی سپلائی متاثر ہونے پر نئے گیس کے کنکشنز پر پھر پابندی لگا دی گئی ،ذرائع کے مطابق وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے عائد پابندی کا اطلاق گھریلو صارفین پر ہوگا۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو سی این جی سٹیشنز کیلئے گیس دینے سے انکار کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث وزارت پٹرولیم ڈویژن نے آر ایل این جی کے گھریلو گیس کنکشنز روک دیئے ہیں اور پہلے سے دی گئی درخواستوں پر عملدرآمد ملتوی کردیاہے ، ارجنٹ واؤچر اور ڈیمانڈ نوٹس جمع کروانے والوں کے کنکشن کا عمل بھی روک دیا گیا ہے جس کے بعد ہزاروں نئے کنکشنز التوا کا شکار ہو گئے اور صارفین شدید پریشان ہو گئے ہیں ۔
ترجمان سوئی ناردرن کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی سپلائی رکنے کی وجہ سے عارضی طور پر نئے کنکشن روکے گئے ہیں ، گیس سپلائی بہتر ہوتے ہی کنکشنز لگانے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔۔یاد رہے کئی سالہ پابندی کے بعدمحض چند ماہ قبل ہی حکومت نے نئے کنکشنز دینے کا عمل شروع کیا تھا۔ ذرائع وزارتِ پٹرولیم کا کہنا ہے کہ نئے کنکشنز مہنگی درآمدی گیس (آر ایل این جی)پر دیئے جا رہے تھے ، اورگیس کا بل عام گیس کے مقابلے میں چار گنا زیادہ آ رہا تھا،نئے کنکشن کیلئے ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 6500 روپے سے بڑھا کر 23ہزار500 روپے کر دی گئی تھی جبکہ ترجیحی بنیادوں پر کنکشن کیلئے صارفین سے 25ہزار روپے اضافی وصول کئے جا رہے تھے ۔ ادھر وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو سی این جی سٹیشنز کیلئے گیس دینے سے انکار کردیاہے ،جس کے بعد خیبر پختونخوا کے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اوروفاقی حکومت کے جواب سے متعلق وزیراعلیٰ کو آگاہ کردیا۔ذرائع کے مطابق مزمل اسلم نے کہا کہ سی این جی بندش سے عوام کو شدید مشکلات ہیں جبکہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں گیس کی کمی ہے ، ایل این جی درآمد کے بعد اضافی گیس دینے پر غور کیا جائے گا۔