ایران امریکا جنگ ،فریقین کوسیزفائراورفیس سیونگ درکار
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری، مذاکراتی عمل غیر یقینی مگربات چیت جاری
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پرامن حل اور مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ہی کی جنگ بندی کی اپیل پر فریقین نے سیز فائر پر آمادگی ظاہر کی، جس سے خطے میں وقتی طور پر کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کیلئے فضا ہموار ہوئی۔ جنگ بندی کے دوران حملوں میں کمی سے قیمتی جانیں محفوظ رہیں اور بنیادی ڈھانچہ بڑے نقصان سے بچا رہا۔پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اصل سوال یہی ہے کہ آیا فریقین اس عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے سیاسی لچک دکھانے پر آمادہ ہیں یا نہیں۔زمینی حقائق سے واضح ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد فریقین وقتی طور پر جنگ بندی اور سفارتی فیس سیونگ چاہتے تھے ، جس کے باعث مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی، اگرچہ ابتدائی کوششیں مکمل طور پر نتیجہ خیز نہیں ہو سکیں لیکن سفارتی عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار بھی نہیں ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن مکمل جنگ کی بجائے کسی قابل قبول سیاسی حل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی سخت انکار کے ساتھ ساتھ مشروط آمادگی کا عندیہ موجود ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتے ۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال دراصل ایک عبوری اور پیچیدہ سفارتی مرحلہ ہے ، جہاں جنگ اور مذاکرات دونوں آپشنز بیک وقت موجود ہیں۔ امریکا کی پالیسی بظاہر فیصلہ کن جنگ یا مکمل مذاکرات میں سے کسی ایک طرف واضح طور پر نہیں جھک رہی، بلکہ تاخیری اور دباؤ پر مبنی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ۔دوسری جانب ایران بھی نہ صرف دفاعی تیاریوں میں مصروف ہے بلکہ علاقائی ممالک سے روابط بڑھا کر اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
ایران کی حکمت عملی بظاہر جنگ بندی کے دوران اپنی دفاعی صلاحیت کو بحال اور ازسرنو منظم کرنے کی ہے ۔موجودہ عالمی منظرنامے میں یہ تنازع محض دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور علاقائی استحکام تک پھیل چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا سمیت کئی خطے اس کشیدگی کے براہ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق اگرچہ اسلام آباد سمیت مختلف سطحوں پر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار فریقین کی سیاسی لچک اور سنجیدگی پر ہے ۔ فی الحال کوئی بھی فریق مکمل پسپائی یا مکمل تصادم کی طرف جانے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کیلئے بھی شدید نقصان دہ ہوں گے ۔