ججز کے تبادلوں اور طاقتور کو استثنیٰ کیخلاف ہیں:حافظ نعیم

ججز کے تبادلوں اور طاقتور کو استثنیٰ کیخلاف ہیں:حافظ نعیم

آئینی ترامیم مسترد، دو برسوں میں آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا:امیر جماعت اسلامی حکمرانوں نے ہمیشہ عدلیہ کو دبانے کی کوشش کی:لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب

لاہور(سیاسی نمائندہ،کورٹ رپورٹر،آئی این پی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی بعض شقیں آئین اور شریعت سے متصادم ، ہم ان ترامیم کو مسترد کرتے ہیں،حکمرانوں نے ہمیشہ مختلف حربوں سے عدلیہ کو دبانے کی کوشش کی، ججز کے تبادلوں اور کسی طاقتور کو استثنیٰ کیخلاف ہیں ، امیر اور غریب کی تعلیم کا معیار الگ نہیں ہونا چاہیے ، 44 فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ، 24 سے 25 لاکھ مقدمات عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں، غریب کو کیسے انصاف مل سکتا ہے ؟ ، تیل،بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلا ف آج جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کے د وران احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالے جائیں گے ،مساجد میں آئمہ کرام خطبات جمعہ میں حکمرانوں کی بے حسی کے خلاف خطاب کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائیکورٹ بار کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میں کیا، لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ خان، سیکرٹری جنرل قاسم اعجاز سمرا، امیر جماعت اسلامی حلقہ لاہور ضیاء الدین ، اسلامک لائرز موومنٹ کے صدر اسد منظور بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے ، تقریب میں وکلاء کی بڑی تعداد شریک تھی۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ملک میں آئین اور عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوششیں تشویشناک ہیں ،ججوں کے تبادلے ، عدلیہ پر دباؤ اور استثنیٰ دینے جیسے اقدامات انصاف کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں ، یہ عدلیہ کی آزادی پر حملے کے مترادف ہے ، حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے ترامیم کر رہے ہیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ چند خاندانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے سیاسی جماعتوں پر قبضہ جما رکھا ہے ، اس وقت وکلا کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں ،بار ایسوسی ایشنز کو چاہیے وہ غریبوں کی قانونی معاونت کیلئے مؤثر نظام وضع کریں، تعلیم و صحت کے شعبوں کی نجکاری اور سرکاری اداروں کو آؤٹ سورس کرنا حکومتی ناکامی کا اعتراف ہے ،جماعت اسلامی نے بدل دو نظامتحریک شروع کر دی ، عید قربان کے بعد عوام اس ظالمانہ نظام کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے ،جماعت اسلامی ایسی پارٹی نہیں جو سربراہ کے قید میں جانے پر بکھر جائے ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں بربریت پر کسی سیاسی جماعت نے ٹرمپ کی مذمت کی نہ امریکا اور اسرائیل کیخلاف مظاہرہ کیا ۔صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتوں میں عوام کے مسائل بڑھائے گئے ،چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم کیخلاف درخواستیں سنی جائیں ،ہائیکورٹ کے ججوں کو سول ججوں کی طرز پر ٹرانسفر کیا جارہا ہے ،پوری بار ان اقدامات کو مسترد کرتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں