آئینی عدالت :بھرتی کیس میں سندھ ہائیکورٹ کافیصلہ معطل
11افراد کی گریڈ 17، 18اور 19میں بھرتیاں پی ایس سی کے بغیرکیسے کی گئیں؟
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے گریڈ 17اور اس سے اوپر بھرتیوں سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ۔ مقدمے کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ گریڈ 17 سے اوپر کی بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے بغیر کیسے کی گئیں اور کیا تقرریوں کے وقت مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ 11 افراد کو گریڈ 17، 18 اور 19 میں بھرتی کیا گیا تھا اور یہ تقرریاں سندھ حکومت کے ایک پراجیکٹ کے تحت کی گئی تھیں تاہم متعلقہ پراجیکٹ اب ختم ہو چکا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر بھرتیوں میں کوئی غلطی ہوئی ہے جسے اب درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ مذکورہ ملازمین آٹھ سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اپنی اہلیت کو کلیئر کریں ۔