گوادر فری زون:چینی کمپنی کا پاکستان میں آپریشن بند کرنیکا اعلان
کراچی (محمد حمزہ گیلانی) یوم مزدور کے موقع پر بلوچستان کے گوادر فری زون میں کام کرنے والی ایک چینی کمپنی نے پاکستان میں اپنا آپریشن بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا، جسے سی پیک کے تناظر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے ۔
فارماسوٹیکل سپلائی چین سے وابستہ ہین گینگ ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ غیر یقینی پالیسی ماحول، انتظامی رکاوٹوں اور عملی سطح پر مسائل کے باعث کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران اسے شدید مالی دباؤ کا سامنا رہا، جس میں بجلی کے بھاری بل، معاہدوں کی خلاف ورزی پر جرمانے ، کنٹینرز پر ڈیمرج چارجز اور دیگر آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ ان مسلسل نقصانات نے کمپنی کی مالی پوزیشن کو کمزور کر دیا، جس کے بعد فیکٹری بند کرنے کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی نے چین کے کسٹمز اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیار سمیت تمام ضروری تقاضے مکمل کیے ، تاہم عملی طور پر اسے مطلوبہ منظوریوں کا اجرا نہ مل سکا، جس کے نتیجے میں برآمدات مسلسل رکی رہیں۔کمپنی نے اس صورتحال کو پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان واضح خلا قرار دیا ہے ۔ خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گوادر میں کام کے دوران کمپنی کو لاجسٹکس کے مسائل، بنیادی انفرااسٹرکچر کی کمی اور محدود سہولیات جیسے چیلنجز کا سامنا رہا، جس نے کاروباری سرگرمیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔یہ رکاوٹیں اب اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ کسی ایک ادارے کے بس میں انہیں حل کرنا ممکن نہیں رہا۔ کمپنی نے بی ٹو بی فورمز کے تناظر میں دیگر چینی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے قبل پالیسی کے نفاذ، ادارہ جاتی صلاحیت اور ممکنہ خطرات کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے ۔ ساتھ ہی کمپنی نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ایک واضح، مستقل اور قابل عمل پالیسی فریم ورک فراہم کریں تاکہ سرمایہ کاری کو عملی شکل دی جا سکے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق گوادر میں اس نوعیت کا اعلان نہ صرف سی پیک کے عملی نفاذ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کیلئے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے ، جس کے تدارک کیلئے فوری پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔