رحیم یار خان میں خسرے کی وبا پھوٹ پڑی ،9اموات ،50بچے متاثر

رحیم  یار  خان  میں  خسرے  کی  وبا  پھوٹ  پڑی ،9اموات ،50بچے  متاثر

بستی حکیم عبداللہ میں دو بھائی ، تین سالہ ندیم، 5ماہ کا فہیم زاہد،میمونہ،عشرت،حسینہ ،سکینہ ، آمنہ، فضا افضل چل بسے محکمہ صحت وبا سے لاعلم نکلا، ہلاکتوں کی اطلاع پر انتظامیہ متحرک ، بستی کا سروے شروع، ڈپٹی کمشنر کا نوٹس، رپورٹ طلب

 رحیم یارخان(ڈسٹرکٹ رپورٹر )نواحی بستی میں خسرے کی وبا پھوٹ پڑی، 9 اموات 50بچے متاثر۔ محکمہ صحت کے ذمہ داران نواحی بستی میں پھوٹنے والی خسرے کی وبا اوربڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے لاعلم نکلے ۔ میڈیاکی نشاندہی پر متاثرہ بستی میں گھرگھر سروے  کا عمل شروع، ڈپٹی کمشنر کا سخت نوٹس، سی ای او ہیلتھ سے رپورٹ طلب کرلی، علاقہ میں بڑھتی ہوئی وبا کے باعث خوف وہراس۔ تفصیل کے مطابق  رحیم یارخان کے نواحی علاقہ کے موضع مراد پور سانگھی کی بستی حکیم محمدعبداللہ اعوان میں خسرے کی وبا پھوٹ پڑی ہے جس کے باعث دو حقیقی بھائیوں سمیت 9بچے جاں بحق جبکہ 50سے زائد بچے بیماری میں مبتلا ہیں۔ رابطہ کرنے پر علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی روز سے علاقہ میں خسرے کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس سے اب تک ایک ہی بستی کے دوحقیقی بھائیوں تین سالہ ندیم زاہد اور 5ماہ کے فہیم زاہد سمیت 2سالہ میمونہ، 2سالہ عشرت فاطمہ، 2سالہ حسینہ، 3 سالہ سکینہ، 6سالہ آمنہ اور 6سالہ فضا افضل جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ اسی بستی کے 57بچے خسرے کی وبا سے بری طرح متاثر ہیں۔ میڈیا کی نشاندہی پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے لئے جانیوالے نوٹس اوررپورٹ طلب کرنے پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر بابر نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کسی بھی علاقہ میں خسرے کی وبا کی تصدیق سے صاف انکار کیا اوربتایا کہ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں خسرے سے متاثرہ کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ دوسری جانب رابطہ کرنے پر بستی کے مکینوں نے خسرے کی پھوٹنے والی وبا اور ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے محکمہ صحت کی مبینہ غفلت کو ذمہ دار قراردیا۔میڈیا کے ذریعے خسرے کی وبا کی نشاندہی پر محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پہنچ گئیں اورگھر گھر سروے کا عمل شروع کردیاگیا جبکہ خسرے کی وبا کے پھوٹنے اور بڑے پیمانے پر بچوں کی ہلاکتوں پر خوف وہراس پایاجارہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں