معرکہ حق کی کامیابی اللہ کا انعام ، دشمن کی ہر سازش ملکر ناکام بنائینگے : بنیان مرصوص کانفرنس
شرکاء کا افواجِ پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی،قومی پرچم اٹھا کر حب الوطنی کا اظہار ،پاکستان زندہ باد کے نعرے فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا:مولانا عبدالخبیر آزاد و دیگر کا خطاب
راولپنڈی (نیوز رپورٹر) معرکۂ حق بنیان مرصوص و استحکامِ پاکستان کانفرنس کا انعقاد ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا جس میں شرکا نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے ایک سال مکمل ہونے پر مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش اورمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا ۔کانفرنس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی و خطیب بادشاہی مسجد لاہور مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے کی۔ اس موقع پر کمشنر راولپنڈی عامر خٹک، آر پی او بابر سرفراز الپا، اے ڈی سی جی ڈاکٹر ملیحہ سحر اور دیگر انتظامی افسران بھی موجود تھے ۔ کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی اللہ کا انعام ہے ،دشمن کی ہر سازش ملکر نا کا م بنائینگے ۔فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا۔پوری قوم شہداء پاکستان معرکہ حق بنیان مرصوص کی عظیم تاریخی فتح پر افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کو سلام و خراج تحسین پیش کرتی ہے ، اپنے صدارتی خطاب میں مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر تاریخی کامیابی حاصل کی اور قوم آج اس فتح کی سالگرہ منا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قیادت کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔دیگر مقررین نے کہا کہ دشمن قوتیں ملک میں انتشار اور فرقہ واریت پھیلانا چاہتی ہیں تاہم پوری قوم متحد ہو کر ایسی سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے قومی یکجہتی اور استحکام کے فروغ پر زور دیا۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے افواجِ پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، قومی پرچم اٹھا کر حب الوطنی کا اظہار کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔
آخر میں ملکی سلامتی، ترقی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، مقبوضہ کشمیر، غزہ و فلسطین کی آزادی اور عالمِ اسلام کے استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔کانفرنس میں پیر قاضی عبدالغفار قادری،مفتی فتح محمد راشدی،پیر سعادت علی شاہ،علامہ عارف حسین واحدی،قاری اقبال رضوی،پیر سید چراغ الد ین شاہ،علامہ زبیر احمد ظہیر،اسفندیار بھنڈارا،بشپ جوزف ارشد،سردار سنٹوک سنگھ،علامہ احسان اللہ منصور،مفتی عبدالرحمن، علامہ سجاد نقوی،مولانا عبدالرحمن،علامہ عبدالستار نیازی،علامہ ارشد عابدی،علامہ مقصود توحیدی،پیر سید عمر فاروق شاہ،مولانا عابد اسرار،مولانا بلال گولڑوی،مفتی تنویر احمد،علامہ مصطفی حیدر نقوی،علامہ زاہد عباس کاظمی،سید قاسم علی شاہ،مولانا سیف اللہ سیفی،صاحبزادہ سید محمد عبدالبصیر آزاد،پیر محمد شاہ حسین محمدی و دیگر علمانے شرکت کی۔