غیر واضح تاخیرسے دعویٰ قابلِ سماعت نہیں رہتا:عدالت عظمیٰ
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جائیداد کے تنازعہ میں مدتِ سماعت (Limitation)، رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت اور ہائی کورٹ کے ریویژنل دائرہ اختیار کی حدود کو نظرانداز کرنا سنگین قانونی غلطی ہے۔۔۔
جو فیصلے کی درستگی پر اثرانداز ہو سکتی ہے ، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ریویو درخواست پر سماعت کے بعد تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ زیرِ بحث مقدمہ میں تنازعہ کھیوٹ نمبر 621 اور 623 سے متعلق جائیداد کا تھا جس میں فریقین نے مختلف رجسٹرڈ سیل ڈیڈز اور ریونیو اندراجات کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مدتِ سماعت کا قانون بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور غیر معقول و غیر واضح تاخیر کی صورت میں دعویٰ قابلِ سماعت نہیں رہتا۔ سپریم کورٹ نے کہا اس اصول کو نظرانداز کرنا قانونی غلطی کے مترادف ہے ۔ رجسٹرڈ دستاویزات قانون کے مطابق عوامی نوٹس تصور کی جاتی ہیں اور ان کی طویل عرصے تک عدم چیلنجنگ ان کی قانونی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے ۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہائی کورٹ کا ریویژنل دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے اور اس میں شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا یا ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے متفقہ نتائج کو تبدیل کرنا اسی صورت میں جائز ہے جب واضح قانونی یا ریکارڈ کی غلطی ثابت ہو۔ موجودہ کیس میں ان بنیادی قانونی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا جس کے باعث قانونی غلطی سرزد ہوئی۔عدالت نے ریویو درخواست منظور کرتے ہوئے سابقہ عدالتی فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ٹرائل کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلوں کو بحال کر دیا۔