جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے :پاکستان
غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں ناقابلِ تلافی ہوسکتی ہیں:ترجمان دفتر خارجہ سعودی عرب،عمان و دیگر ممالک کی اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملے کی مذمت
اسلام آباد (دنیا نیوز)پاکستان ، سعودی عرب ، عمان ودیگر ممالک نے اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملے کی مذمت کی ہے ، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان متحدہ عرب امارات کی برادر عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ، انہوں نے کہا جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے قوانین و قراردادوں میں درج جوہری تحفظ اور سلامتی کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی حالت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے ، اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں انسانی جانوں، ماحولیات اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن اور ناقابلِ تلافی نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ شہری جوہری انفراسٹرکچر کے تحفظ اور اس کی حرمت کو بین الاقوامی سطح پر ایک مسلمہ اصول کی حیثیت حاصل ہے ، جسے ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہئے۔
پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہوں۔بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق مذاکرات اور سفارتکاری ہی خطے میں دیرپا امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا سعودی عرب امارات کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ، ایسے حملے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق سلطنتِ عمان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی اور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے اور امارات کی سلامتی، خودمختاری اور سرزمین کے تحفظ کیلئے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے۔
عمانی حکام نے کہا کہ جارحانہ اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں جبکہ خطے کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد موثر راستہ ہے ۔انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کہا انڈیا متحدہ عرب امارات میں براکہ کے جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنانے والے حملے پر گہری تشویش رکھتا ہے ۔ اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور تنازع کے حل کیلئے مکالمے اور سفارت کاری کی جانب واپسی کی جائے ۔جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا جرمنی متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر ایران کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے ۔انہوں نے جوہری تنصیبات پر حملے کو پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا ایران کو چاہیے کہ وہ امریکا کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے ، اپنے پڑوسیوں کو دھمکیاں دینا بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کھولے ۔