رانا ثنا اللہ کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر پیشکش
اختیار ہے تو قدم بڑھائیں،وزیر اعظم نے 3بارکہا ہم بات کرنا چاہتے :مشیر سیاسی امور سینیٹ میں پی ٹی آئی اور لیگی ار کان میں نوک جھوک، پانچ بلز منظور
اسلام آباد (وقائع نگار،نیوز ایجنسیاں )سینیٹ میں حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر پیشکش کردی۔ وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے 3 مرتبہ کہا ہم آپ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، آپ لوگ جب کہیں 24 گھنٹے میں آپ کی وزیر اعظم سے میٹنگ ہو سکتی ہے ۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ جہاں سے شروع ہوں گے بات وہی سے شروع ہوگی، اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کو وزیر اعظم کی آفر موجود ہے ، آپ قدم بڑھائیں اگر آپ کے پاس اختیار ہے ۔رہنما مسلم لیگ (ن )نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے صحت کے مسئلے ہوئے ، کیا جیل رولز میں لکھا ہے کہ ان کے گھر والوں کو بلایا جائے گا، ان کی نگرانی میں علاج ہوگا؟ جیل رولز میں ایسا نہیں ہے ۔سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو پاکستان میں موجود بہترین علاج دیا گیا ہے ۔ ایوان بالا میں تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے ار کان کے درمیان نوک جوک ہوئی ۔سینیٹرعلی ظفرنے کہا کہپاکستان خطرناک موڑ پر ہے ، خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے ۔ملک میں کمزور کے لیے الگ اور طاقتور کے لیے الگ قانون نافذ العمل ہے ۔ قیدی کو تنہائی میں رکھنا اور رات کے اندھیرے میں لانا لے جانا بڑا ٹارچر ہے۔
سینیٹر مشعال یوسفزئی کی تقریر کے دوران ناصر بٹ کھڑے ہو گئے اور معافی کا مطالبہ کر دیا۔ سینیٹرمشعال یوسفزئی کا کہنا تھاکہ ہم نے رانا ثناء اللہ کی بات پندرہ منٹ سنی۔ اعظم سواتی کا کہنا تھاکہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ کو قانون کے مطابق بنیادی حقوق نہیں مل رہے ۔ سینیٹر ناصر بٹ نے کہا ہے کہ کلثوم نواز کو مر کر ثابت کرنا پڑا کہ انہیں کینسر ہے ۔فرح گوگی جہاز میں بیٹھ کر بھاگ گئی۔آپ کا لیڈر کہتا تھا کہ نواز شریف کا جیل میں اے سی بند کر دیں۔یہ کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر گئے ۔ہم ملک کو ٹھیک کر کے گئے یہ ڈیفالٹ کر کے چلے گئے ۔ناصر بٹ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا شروع کیاگیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئیں مل کر جیلوں کی اصلاحات پر کام کریں۔ہماری سفارش ہے کہ انہیں سکیورٹی کی ضرورت ہے تو دی جائے ۔ایک طرف کہتے ہیں بشریٰ بی بی کو الگ کیوں رکھا جاتا ہے دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ خواتین کے ساتھ رکھا جاتا ہے ۔رانا ثناء اللہ صاحب بھی جیل میں رہے ۔ہم نے اس سے سیکھ کر جیلوں کو بہتر بنایا۔ سینیٹر ناصر بٹ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان اختلاف کا معاملہ ایوان بالا میں بھی پہنچ گیا،چیئرمین سینیٹ نے ناصر بٹ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لیے معاملہ رانا ثنا اللہ خان کے سپرد کر دیا۔
علاوہ ازیں سینیٹ نے پانچ پرائیویٹ ممبر بلوں کی متفقہ طور پر منظوری دیدی جبکہ تین پرائیویٹ ممبر بل قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے ۔ نجی کارروائی کے دوران بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن ثمینہ ممتاز زہری کا فیملی کورٹس ترمیمی بل اور پیپلزپارٹی کے سرمد علی کا عائلی عدالتیں ترمیمی بل دو ہزار چھبیس متفقہ طور پر منظور کر لئے گئے ۔ حقوق معذور افراد ترمیمی بل ، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل دو ہزار بائیس اور فوجداری قوانین ترمیمی بل دو ہزار تئیس کی بھی متفقہ منظوری دی گئی ۔ وزیرقانون نے بتایا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل میں کتے سمیت پالتو جانوروں کے کاٹنے کی صورت میں مالک کو سزا تجویز کی گئی ہے ۔ سینیٹ میں جووینائل جسٹس سسٹم ترمیمی بل ، کنزیومرز پروٹیکشن ترمیمی بل اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ترمیمی بل بھی پیش کئے گئے ۔ تینوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے ۔ البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے قیام اور فاطمہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل موخر کر دیئے گئے ۔ وزیر صحت کی عدم موجودگی کے باعث پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز پر قرارداد موخر کر دی گئی ۔