اہم سیاسی رہنماؤں کا ’’نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی‘‘ کے قیام کا اعلان

 اہم سیاسی رہنماؤں کا ’’نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی‘‘ کے قیام کا اعلان

قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کیلئے قومی حکومت ہی واحد راستہ بنتا جا رہا نئے سیاسی اتحاد کی صدارت مولانا فضل الرحمن کریں، عمران اسماعیل، فواد چودھری و دیگر

کراچی (سٹاف رپورٹر) ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان کراچی میں اہم سیاسی رہنماؤں نے ’’نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا۔قومی رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں تمام جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہو چکے ہیں جبکہ قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کیلئے قومی حکومت ہی واحد راستہ بنتا جا رہا ہے ۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کا سیاسی ماحول اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات کرنے کیلئے بھی تیار نہیں، جبکہ کراچی جنگ زدہ شہر کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ انہوں نے نئے سیاسی اتحاد کی صدارت مولانا فضل الرحمن کو دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ان خیالات کا اظہار عمران اسماعیل، فواد چودھری، محمد علی درانی، بیرسٹر سیف، وسیم شہزاد اور محمود مولوی نے پیر کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔عمران اسماعیل نے کہا کہ ملک کے حالات بہتر نہیں، ہم نے نیا سیاسی پلیٹ فارم ’’قومی ڈائیلاگ کمیٹی‘‘ بنائی ہے ، پاکستان میں ایک زہریلی سیاسی فضا قائم ہے اور موجودہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتیں ناراض ہیں، ہم تمام جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں اور مشترکہ اپوزیشن تشکیل دی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قومی حکومت بنائی جائے اور اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ بھی ساتھ ہو، جبکہ قومی حکومت شفاف انتخابات کرائے ۔ عمران اسماعیل کے مطابق ان کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ہوئی جس میں انہیں نئے سیاسی اتحاد کی صدارت کی پیشکش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی مسائل کا شہر بن چکا ہے ، یونیورسٹی روڈ اب تک مکمل نہیں ہو سکی جبکہ شہر میں پانی، بجلی اور سڑکوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی سے اپوزیشن جماعتیں اور عوام ناراض ہیں، ملک نے سفارتی کامیابیاں ضرور حاصل کیں مگر معیشت کمزور ہے ، پٹرول مہنگا ہو چکا ہے اور شہباز شریف حکومت مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اندرونی استحکام کیلئے قومی حکومت ضروری ہے ، آئینی، عدالتی اور انتخابی اصلاحات کی جائیں اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ مسائل سے پریشان ہیں اور شہر جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے ۔محمد علی درانی نے کہا کہ موجودہ نظام ہائبرڈ ہے جبکہ معرکہ حق کے بعد دفاع مضبوط ہوا لیکن معیشت کمزور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام مسائل کا شکار ہیں اور سیاسی جماعتوں کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر متحد کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ زرداری اور شریف خاندانوں نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے ، جبکہ پاکستان کو خوشحال بنانے کیلئے اصل عوامی نمائندوں کو اقتدار دینا ہوگا۔رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی مفاہمت، اداروں کے ساتھ مذاکرات اور قومی سطح پر اتفاقِ رائے ہی پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں