ایک ہی ٹرائل میں عمر قید کی سزائیں مسلسل چلیں گی:سپریم کورٹ

 ایک ہی ٹرائل میں عمر قید کی سزائیں مسلسل چلیں گی:سپریم کورٹ

تاثرپیداہوگاکئی افرادکے قتل کی سزاایک ہی قتل کے برابرہے :اپیل مسترد 5 سالہ عمر اغوا و قتل کیس کے 3مجرموں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

اسلام آباد (کورٹ،اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سیشن کورٹ کی جانب سے ایک ہی مقدمے میں دی گئی متعدد عمر قید کی سزائیں اصولی طور پر مسلسل چلیں گی، جب تک عدالت انہیں بیک وقت چلانے کا واضح حکم نہ دے ۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ شاہ حسین کیس کا پیراگراف 40 ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35 کی تشریح کے حوالے سے لازمی نظیر نہیں جبکہ بشیر بنام ریاست کیس میں دیا گیا پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ اب بھی قابل عمل اور موثر قانون ہے ۔جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دہرے قتل کیس میں مجرم قیصر عباس کی جیل پٹیشن اور فوجداری درخواست مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی اور حکم دیا تھا کہ دونوں سزائیں مسلسل چلیں گی۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی تھی،فیصلے میں کہا گیا کہ اگر متعدد قتل کی سزائوں کو بیک وقت چلانے کی اجازت دی جائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ ایک سے زائد افراد کے قتل کی سزا ایک ہی قتل کے برابر ہے جو انصاف اور قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہر انسانی جان کی اپنی الگ اہمیت ہے اور ہر قتل الگ سزا کا متقاضی ہے ، لہذا ایسے مقدمات میں سزاؤں کا مسلسل چلنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے ۔عدالت عظمی ٰنے دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ۔دوسر ی طرف سپریم کورٹ نے 5 سالہ عمر راٹھور اغوا و قتل کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے تین مجرموں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے حالات و واقعات کی کڑیوں کے ذریعے جرم ثابت کیا، تاہم کیس میں موجود باقی ماندہ شک سزائے موت برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنا۔ عدالت عظمیٰ نے مجرموں آفتاب ظفر، حمزہ جہانگیر اور یاسر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے حکم دیا کہ تینوں مجرم مقتول کے لواحقین کو پانچ، پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں۔ سپریم کورٹ نے شریک ملزم اسد ممتاز کی بریت کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کر دی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق پانچ سالہ عمر راٹھور کو 21 دسمبر 2019 کو تھانہ بہارہ کہو کی حدود سے تاوان کی غرض سے اغوا کیا گیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں