جیلوں کے حالات بہتر بنانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری : چیف جسٹس

جیلوں کے حالات بہتر بنانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری : چیف جسٹس

نظامِ انصاف میں بہتری فیصلوں سے نہیں، مو ثر عملدرآمد سے آئیگی ،بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ،فوجداری نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے :چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اصلاحات کا آغاز اڈیالہ سے ہونا چاہیے :سہیل آفریدی ،نئی جدید جیلیں بنا رہے :سرفراز بگٹی،قومی کانفرنس سے خطاب،اسلام آباد ڈیکلریشن پردستخط

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے کہا جیلوں کے حالات بہتر بنانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ،نظامِ انصاف میں بہتری فیصلوں سے نہیں، مو ثر عملدرآمد سے آئیگی،صحت، صاف پانی و دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ،فوجداری نظام معاشرے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ میں جیل اصلاحات سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، اسلام آباد، لاہور، پشاور، بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت، اعلیٰ پولیس و جیل حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام شرکا کو خوش  آمدید کہتے ہیں، زیر التوا مقدمات نمٹانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور نظام انصاف میں قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں کی حالت بہتر بنانا آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے ،نظامِ انصاف میں بہتری فیصلوں سے نہیں، مو ثر عملدرآمد سے آئے گی، انصاف کے نظام میں قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ،جیلوں میں صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کسی بھی معاشرے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور جیلوں کی بہتری کیلئے صوبائی سطح پر کمیٹیاں بھی قائم کی جا چکی ہیں،زیر التوا کیسز نمٹانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ،نظام انصاف میں احتساب کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں بانی پی ٹی آئی کے لیے اڈیالہ جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ناحق قید ہیں ،بانی کی صحت متاثر ہوئی، انہیں ذاتی معالجین سے علاج کی سہولت دی جائے ، ان کی بیٹوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرائی جائے اور اگر بہنوں سے ملاقات ممکن نہیں تو ان پر واٹر کینن کا استعمال نہ کیا جائے ،اڈیالہ جیل کے باہر ملاقاتیوں کیلئے انتظار گاہ بنائی جائے ۔ انہوں نے کہا جمہوریت میں جلسے کی اجازت ہوتی ہے ، یہاں جلسہ ہوتا ہے تو ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے ، کم سن بچوں پر دہشت گردی کی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ جیل اصلاحات بلوچستان حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کی بحالی، جیلوں کی سکیورٹی، ہنر مندی کے پروگراموں اور جدید سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ ان کے مطابق گنجائش کم ہونے کے باعث نئی جدید جیلیں تعمیر کی جا رہی ہیں، اس مقصد کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد جاری ہے ۔

قومی کانفرنس میں جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی حقوق، اصلاحات، جدید سہولیات اور فوجداری نظام انصاف کو مزید مو ثر بنانے سے متعلق مختلف تجاویز اور سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔جیل اصلاحات پرقومی کانفرنس کے موقع پر چاروں وزرائے اعلیٰ نے اسلام آباد ڈیکلریشن پردستخط کر دئیے ۔کانفرنس میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کا بوجھ کم کرنے اور قیدیوں کے مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا گیا، صوبوں نے ضمانت، پیرول، پروبیشن اور غیر حراستی متبادل نظام کو مو ثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ۔جیلوں میں صحت، ذہنی صحت،غذائیت،صفائی اور بنیادی سہولیات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ تعلیم، فنی تربیت، منشیات سے بحالی اور رہائی کے بعد بحالی پروگرامز کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

جیل اصلاحات کیلئے صوبائی سطح پر ٹائم لائن،وسائل کی فراہمی اور مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ فوجداری نظام کے تمام اداروں کے درمیان مو ثر رابطے اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے خواتین، بچوں، خصوصی افراد اور ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا جبکہ تشدد، بدسلوکی اور غیرانسانی سلوک کے خاتمے ،شکایات کے مو ثر ازالے پر زور دیا۔جیل اصلاحات آئینی، انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا قرار دیا گیا، اصلاحات کیلئے مشترکہ قومی کوشش جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں