جنگ بندی،مفاہمتی عمل بحالی ،فریقین کتنے سنجیدہ؟

جنگ بندی،مفاہمتی عمل بحالی ،فریقین کتنے سنجیدہ؟

امریکی حملے ایران کو کمزور کرنے کی بجائے مزید متحد کیسے کر رہے ہیں

 (تجزیہ:سلمان غنی)

ایران کا یہ کہنا تو درست ہے کہ اس نے امریکا سے مذاکراتی عمل کی بحالی کی درخواست نہیں کی ،لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس نے اس بارے پاکستان پر اعتماد کیا اور پاکستان سمیت دوست ممالک کی کوششوں کے باعث مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ کیا غیر علانیہ عارضی جنگ بندی آگے چل پائے گی اور مذاکراتی اور مفاہمتی عمل بحال ہو پائے گا، تو آنے والے دنوں میں مذاکرات کی پیش رفت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ پائیدار امن کی طرف قدم ہے یا محض ایک عارضی مرحلہ۔ ایک مجوزہ منصوبے کے تحت فریقین کو 9 جولائی سے پہلے کی پوزیشن پر واپسی کی تجویز دی گئی۔ ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکا سے مذاکرات کی استدعا کی ہے نہ ایسے مذاکرات چل رہے ہیں ، دراصل وہ یہ کہہ رہا ہے کہ براہ راست امریکا سے نہیں بلکہ یہ سب کچھ ثالثوں کے ذریعہ ممکن بن رہا ہے۔

البتہ ایران مذاکراتی عمل کی بحالی کے ساتھ امریکا بارے اپنے تحفظات پیش کرتا آ رہا ہے کہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی امریکا نے کی۔ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو اولین ترجیح میں رکھے ہوئے ہے او رجوہری پروگرام پر کمپرومائز کیلئے تیار نہیں جبکہ دوسری طرف امریکا بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں آ رہا ،تو بڑا سوال یہی ہے کہ بداعتمادی کے عالم میں فریقین کے درمیان بات کیسے بنے اور چلے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع دراصل اقتصادی طاقت کی جنگ ہے اور خود امریکی حملے ایران کو کمزور کرنے کی بجائے مزید متحد کررہے ہیں۔ ادھر امریکا کو خود ابتر اندرونی صورتحال کا سامنا ہے جہاں صدر ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے اور وہ ہر حالت میں فتح چاہتے ہیں جو دوردور تک نظر نہیں آ رہی۔ دوسری طرف فریقین کی طرف سے پاکستان سمیت ثالثوں کی کوششوں کو مخلصانہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان، قطر، عمان اور چین اس صورتحال پر نمایاں طور پر اثرانداز ہو رہے ہیں، تاہم جنگ بندی کو برقرار رکھنے کا حتمی فیصلے کا اختیار امریکا، ایران کے پاس ہے ۔ ویسے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان شدید بداعتمادی کے باوجود دونوں کا پاکستان پر اعتماد ہے ، البتہ نئی پیدا شدہ صورتحال میں چین کا کردار اہم ہے ،چین ویسے بھی ایران کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اس لئے اس کی حمایت ایران پر دباؤ ڈالنے میں معاون ہے اور یہی وجہ ہے کہ عام تاثر یہ ہے کہ پس پردہ ثالثی کی کوششوں کے نتیجہ میں صورتحال بگڑنے سے بچ گئی ،لگتا یہی ہے کہ فریقین جنگ پر مصر تو ہیں مگر نقصا نات سے غافل نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مفاہمتی عمل کیلئے لچک دیتے نظر آ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...