حادثاتی نہیں، ہم نظریاتی، اختیاری، ارادی پاکستانی ہیں، خالد مقبول

حادثاتی نہیں، ہم نظریاتی، اختیاری، ارادی پاکستانی ہیں، خالد مقبول

اگر ہم نے اپنے حصہ کاپاکستان لے لیا توبے نام و نشان ہوجاؤ گے ، چیئرمین متحدہ ایک طبقہ وسائل پیدا کرے ، دوسرا قابض ہوجائے ، ایسا صوبہ نہیں چلنے دینگے ، خطاب

میرپور خاص (بیورو رپورٹ)چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میرپورخاص پوسٹ آفس چوک پر بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانیان پاکستان نے پاکستان ارادہ اور اختیار کرکے حاصل کیا تھا،ہم نظریاتی، ارادی اور اختیاری پاکستانی ہیں، حادثاتی پاکستانی نہیں۔ اگر ہم نے اپنے حصے کا پاکستان لے لیا تو بے نام و نشان ہوجاؤ گے ۔یہ نام و نشان، ایوان و اقتدار میرے اباؤ اجداد کی خیرات ہے ، سڑکوں پر نکل آئے تو ایوان چھوڑ کر جانا پڑے گا، انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے وسائل پر قبضہ کیا لیکن عوام کے دلوں پر قبضہ نہیں کرسکے ۔عوام کے دلوں کی بھڑاس نکلی تو حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ایک طبقہ وسائل پیدا کرے اور دوسرا طبقہ قابض ہوجائے، ایسا صوبہ نہیں چلنے دیں گے۔

سندھ میں نسل پرست جماعت کی حکمرانی ہے موجودہ حالات میں پاکستان کو اس سے زیادہ کوئی خطرہ نہیں۔ہم اٹھتے ہیں تو ہندوستان نہیں رہتا، جہاں ہمارے قدم پڑیں وہاں پاکستان بن جاتا ہے ۔ہم نے ہندوستان کی تقسیم پر اپنے لہو سے مہر ثبت کی، بعض قوتوں نے اس تاریخی جدوجہد پر کالک ملنے کی کوشش کی، ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ ہم نے نہیں لگایا تھا۔ایم کیو ایم موروثی سیاست کو مسترد کرتی ہے ۔عام عوام کی حقیقی نمائندگی چاہتے ہیں۔انہوں نے باور کرایا کہ ہم لڑنا جانتے ہیں لیکن لڑنا نہیں چاہتے کیونکہ مسائل کا آخری حل مذاکرات ہی ہیں۔ ہماری طاقت مصنوعی ہجوم نہیں، عوام کی نظریاتی قوت ہے ۔ارتقاء یافتہ تہذیب کے امین ہیں۔ماہ اگست کے بعد حتمی جدوجہد کا آغاز کرینگے۔ تیاری کرلیں، پاکستان آپ کے حوالے ہونے جارہا ہے۔

ہمیں اپنے اجداد کا پاکستان واپس لینا ہے ، اپنا ایک ایک حصہ واپس لیں گے ۔ہماری شرافت کا کچھ زیادہ فائدہ اٹھایا گیا، ہم جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہی پاکستان ہے ۔ہماری زبان پاکستان کی قومی زبان اور تہذیب پاکستان کی تہذیب ہے ۔ہم سے زیادہ ضروری پاکستان ہے ۔ایم کیو ایم اور کارکنان کا محبت کا سودا ہے یہ مریدوں سے نہیں شہیدوں سے سجی تحریک ہے ۔تمام مظلوم و محکوم قومیتوں کا مقدمہ بھی ہم ہی لڑیں گے ۔ایم کیو ایم لسانی جماعت نہیں ایک تحریک ہے ۔ پاکستان کی تعمیر میں جن لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا ان کی اولادوں کو بھی اس ملک کی سیاسی، معاشی اور انتظامی نظام میں باعزت اور موثر مقام ملنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صوبے لسانیت پر قائم اور عصبیت سے بھرے ہیں۔ اس موقع پر سینئر مرکزی رہنما سید امین الحق، شبیر احمد قائمخانی، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی،ارشد ظفیر،شریف خان ودیگر موجود تھے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...