پٹرول کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کر سکتے ہیں : حافظ نعیم

 پٹرول کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کر سکتے ہیں : حافظ نعیم

مہنگائی کا بوجھ ناقابل برداشت ، عوام کو ریلیف دیا جائے ، حکومتی جماعتیں فارم 47 کی پیداوار :امیر جماعت اسلامی انتظامی یونٹس کیخلاف نہیں، مقامی حکومتیں قائم کی جائیں:پریس کانفرنس ، لاہور بار کا دھرنوں کی حمایت کا اعلان

لاہور (سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس نہ لیا گیا تو آج ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پٹرول کے ہر لٹر پر بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور مہنگائی کا بوجھ ناقابل برداشت ہوچکا ہے ۔مال روڈ فیصل چوک پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی، آئی پی  پیز اور مہنگائی کے خلاف دھرنے کے تیسرے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت نے رات کو پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا، جس سے عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے ۔ حکومت قیمتیں کم کرے اور پٹرولیم لیوی ختم کرکے پٹرول 225 روپے فی لٹر کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب آدمی لیوی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، بجلی اور گیس کے بلوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد ہیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ آٹا 160 روپے کلو اور روٹی 25 روپے کی ہوچکی ہے ، کسان بھی مہنگائی سے پریشان ہیں جبکہ کھاد ان کی پہنچ سے دور ہوگئی۔ تعلیم، صحت اور زراعت کو تباہ کردیا گیا، پنجاب میں 11 ہزار سکول آؤٹ سورس کیے گئے ہیں۔

انہوں نے پیپلزپارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تعلیم تباہ کردی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اقتدار میں آنے کے وقت ملکی قرضہ 45 ہزار ارب روپے تھا جو اب 95 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم سمیت حکومتی جماعتیں فارم 47 کی پیداوار ہیں، عوام کو سندھی اور مہاجر کی بنیاد پر تقسیم نہ کیا جائے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی انتظامی یونٹس کے خلاف نہیں، آئین کے مطابق بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ پنجاب میں 2015 کے بعد جبکہ بلوچستان میں آج تک بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے ۔ دھرنے خواتین اور وکلا بھی شریک ہوں گے ۔دریں اثنا لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان حیات باجوہ نے دھرنے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری بھی جماعت اسلامی کے احتجاج میں شریک ہوگی۔ کراچی اور پشاور میں گورنر ہاؤسز کے باہر بھی جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...