ایم ڈی کیٹ کا سوالیہ پرچہ امیدواروں سے واپس لینے کا حکم
20 ستمبر کو ٹیسٹ کے فوراً بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچہ جمع کر لیا جائے :پی ایم ڈی سی امتحانی عمل کی شفافیت کم ہوگی:طلبہ تنظیمیں، بے ضابطگیوں کا امکان زیادہ:ماہرین
لاہور (محمد بلال چودھری )میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے حوالے سے شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے 20 ستمبر کو ہونے والے ٹیسٹ کا سوالیہ پرچہ امیدواروں سے واپس لینے کا حکم دیدیا۔پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ نمبر 150/2026/345 میں اسلام آباد، لاہور، سکھر، پشاور اور کوئٹہ کی تمام کنڈکٹنگ یونیورسٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ٹیسٹ مکمل ہونے کے فوراً بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچہ جمع کر لیا جائے اور کوئی پرچہ امیدواروں کے حوالے نہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایم ڈی کیٹ میں طلبہ کو سوالیہ پرچہ امتحانی مرکز سے ساتھ لے جانے کی اجازت تھی جس سے وہ گھر جا کر سرکاری جوابی کلید سے اپنے نمبروں کا خود اندازہ لگا سکتے تھے ۔ نئے حکم کے بعد یہ شفافیت ختم ہو جائے گی۔طلبہ تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ پرچہ واپس لینے سے امتحانی عمل کی شفافیت کم ہوگی۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جب طلبہ کے پاس سوالیہ پرچہ ہی نہیں ہوگا تو وہ کاربن کاپی سے جوابی کلید کا موازنہ کیسے کریں گے ، جس سے بے ضابطگیوں کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔والدین اور طلبہ نے پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس متنازعہ فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور امتحانی عمل کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل محفوظ رہ سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments