ناقص حکمت عملی : خوردنی تیل کا درآمدی بل 5.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

ناقص حکمت عملی : خوردنی تیل کا درآمدی بل 5.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

ملکی ضرورت کا 90 فیصد کوکنگ،پام آئل باہر سے منگوانا پڑ رہا، تیل دار بیجوں کی مقامی پیداوار صرف 11 فیصد ہے بھارت نے آئل سیڈ پروگرامز کیلئے 512 ارب فراہم کئے ، پاکستان کا متعلقہ بجٹ صرف 13 ارب تک محدود رہا

اسلام آباد (حریم جدون) پاکستان کیلئے خوردنی تیل اور تیل دار بیجوں کی درآمد کا بل بڑا مسئلہ بن گیا جس کا حجم تشویشناک حد تک 5 ارب 86 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا تاہم اس سے بھی تشویشناک امر یہ ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدی فوڈ آئٹمز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے ۔سرکاری دستاویزات میں فوڈ آئٹمز کے امپورٹ بل کے حوالے سے کئی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ملکی ضرورت کا 90 فیصد سے زائد کوکنگ اور پام آئل باہر سے منگوانا پڑ رہا ہے ۔ تیل دار بیجوں کی مقامی پیداوار کے فروغ کیلئے کئی اعلانات تو ہوئے تاہم پیداوار صرف 10 سے 11 فیصد کی انتہائی قلیل سطح پر جم کر رہ گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خوردنی تیل کے درآمدی بل میں کمی لانے کیلئے جنوری 2023 میں قومی سیڈ آئل پالیسی کی تیاری کا عمل شروع کیا گیا تاہم وزیراعظم آفس کی واضح ہدایات کے باوجود بیوروکریسی کی سست روی اور وزارت خوراک و ایف بی آر کی کھینچا تانی کے باعث یہ پالیسی تاحال فنڈز اور منظوری کی منتظر ہے ۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 2014 سے ایف بی آر کی جانب سے روکے گئے سیس کے کروڑوں روپے کے فنڈز بھی محکمہ آئل سیڈ کو منتقل نہیں کئے جاسکے جس سے مقامی زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔دستاویزات میں پاکستان اور بھارت میں زراعت پر خرچ کئے جانے والے بجٹ میں حیران کن فرق بھی سامنے آیا ہے ۔

بھارت نے اپنے آئل سیڈ پروگرامز کیلئے مجموعی طور پر 512 ارب روپے فراہم کئے جبکہ پاکستان کا متعلقہ بجٹ صرف 13 ارب روپے تک محدود رہا۔ اس کے علاوہ بھارت میں پام آئل پر کسٹمز ڈیوٹی 36 فیصد سے 160 فیصد تک برقرار رکھی گئی تاکہ مقامی کسانوں کو تحفظ ملے جبکہ پاکستان میں یہ ڈیوٹی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے مقامی انڈسٹری امپورٹڈ تیل پر انحصار کر رہی ہے اور تیل دار بیجوں کی پیداوار سے وابستہ کسان پریشان ہیں۔حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے 10 سالہ ماسٹر پلان پیش کیا گیا ہے جس میں کسانوں کو 10 ہزار سے 18 ہزار روپے تک فی ایکڑ سبسڈی کی تجویز دی گئی ہے ۔ اسی طرح زرعی مشینری پر 75 فیصد رعایت دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ بلوچستان کی بنجر زمینوں کو زیرکاشت لانے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عملدرآمد کیا گیا تو امپورٹ بل کی مد میں 41 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ممکن ہو سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...