پاکستان ایران سعودیہ حوثیوں کے مابین سفارتی پل بن سکتا
براہ راست ثالثی کے بجائے مشترکہ سفارتی سہولت کاری حقیقت پسندانہ ماڈل
(تجزیہ: سلمان غنی)
سعودی عرب کے خلاف یمنی حوثیوں کی مسلسل جارحیت اور خصوصاً مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش نے عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس حوالے سے اسلامی دنیا کی حکومتوں پر بھی دباؤ آ رہا ہے ، پاکستان نے تو اپنا موقف واضح کر رکھا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سلامتی پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔ پاکستان مسئلے کے پرامن حل کے لئے سفارتی محاذ پر سرگرم ہے ، سعودی عرب سے اپنی وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی لیڈر شپ سے رابطوں میں ہے ۔
پاکستان یہ واضح کرتا دکھائی دے رہا کہ علاقائی تنازعات میں مقدس مقامات کو کسی قیمت اور کسی بھی صورت میں فریق نہ بنایا جائے کیونکہ ایسی کسی صورت میں عالم اسلام کاردعمل شدید ہو سکتا ہے ، پاکستان تو ایسے اشارے دیتا بھی نظر آ رہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان اس تنازع میں ثالثی کی سہولت فراہم کر سکتا ہے ۔پاکستان کے لئے ایک ا ہم توازن یہ ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر غیر مبہم موقف اختیار کرے لیکن ساتھ ہی یمن کے تنازع کو مزید وسیع علاقائی محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے سفارتی راستہ کھلا رکھے ۔ ویسے بھی پاکستان خارجہ محاذ پر سعودی عرب کو ترجیح قرار دینے کے ساتھ ایران سے بھی اچھے روابط رکھتا ہے اور دونوں سے روابط اسے ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ حقیقت پسندانہ ماڈل یہ ہوگا کہ پاکستان براہ راست ثالثی کے بجائے مشترکہ سفارتی سہولت کاری کا اہتمام کرے ، پاکستان سعودی عرب اور ایران سے رابطہ کرے ،عمان حوثیوں کے ساتھ روابط قائم کرے اور او آئی سی مسلم سفارتی حمایت کو استعمال کرے ۔حرمین شریفین کا معاملہ کسی ایک حکومت جماعت یا مکاتب فکر کا نہیں یہ پوری ملت اسلامیہ کی حساسیت کا معاملہ ہے اس لئے یمن یا سعودی عرب کے سیاسی اختلافات کو مقدس مقامات کے تحفظ سے الگ رکھنا ضروری ہے ، یہی نکتہ نظر ممکنہ سفارتکاری کو محض مذمتی بیان سے آگے لے جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان صرف مکہ دفاعی معاہدے میں ہی شامل نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور خلیج کے عرب ممالک کے ساتھ ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن میں بھی شامل ہے جسے آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو تحفظ دینے کے لئے قائم کیا گیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments