سائوتھ ایشین گیمزپھرملتوی ہونے کا امکان
کھیلوں میں سیاست اور اختلافات ختم نہ ہوسکے:35ویں نیشنل گیمز کا کراچی میں انعقاد خوش آئند ہے لیکن2021ء کی سائوتھ ایشین گیمز 2026ء میں بھی منعقد نہ کرانا سمجھ سے بالاتر ہے،2025ء میں بھی پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اورکھیلوں کی قومی فیڈریشنوں کے باہمی تعلقات تضادات کا شکار رہے
نئے سال 2026ء کا آغاز ہوچکا لیکن پاکستانی کھیل کے میدانوں میں سیاست اور مبینہ اختلافات ختم نہ ہوسکے،2025ء میں بھی پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور مختلف کھیلوں کی قومی فیڈریشنوں کے باہمی تعلقات تضادات کا شکار رہے۔گزشتہ سال پاکستان میں کھیلوں کے منظر نامے کیلئے ایک ملا جلا لیکن سبق آموز دور کے طور پر سامنے آیا،کچھ شعبوں میں بتدریج ترقی دکھائی دی اور دیگر میں چیلنجز درپیش رہے، پاکستان کرکٹ کوبھی تضادات کا سامنا رہا۔
2025ء کے اوائل میں پاکستان سپورٹس بورڈ کے اقدامات اور اصلاحات سے ایسا لگ رہاتھا کہ پی ایس بی، پی اواے اور نیشنل سپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان ہم آہنگی ہوپائے گی اور کھیلوں سے سیاست اور مبینہ اختلافات ختم ہو جائیں گے لیکن یہ ہم سب کی خواہش تو رہی مگر عملی طور پر تمام فریقین گرین شرٹس کی بہتری، بحالی و کامیابی کیلئے ایک نہ ہوسکے، بلکہ سرکار اور قومی فیڈریشنوں کے ارباب اختیار تضادات کا شکار ہی رہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے متعدد فیڈریشنوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے، پابندیاں عائد کیں، کئی عہدیداروں پر بھی پابندی لگائی گئی لیکن اس سے ابھی تک تو کوئی خاص بہتری سامنے نہ آسکی۔ سال کے آخری مہینے میں 35ویں نیشنل گیمز کا کراچی میں انعقاد ہوا جو خوش آئند ہے لیکن ان قومی کھیلوں میں بھی پی ایس بی اور پی اواے کے درمیان کئی معاملات میں اختلافات سامنے آئے اور مختلف کھیلوں کی آرگنائزیشن پر پی ایس بی کی جانب سے ایک خط کے ذریعے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
کھیلوں میں سیاست اور مبینہ اختلافات کا سب سے بڑا نقصان جو اس وقت سامنے آرہاہے وہ چودہویں سائوتھ ایشین گیمز کے انعقاد میں پراسرار رکاوٹ ہے۔پاکستان نے جو بین الاقوامی ایونٹ2021ء میں کرانا تھا وہ 2026ء میں بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔2026 ء کے سائوتھ ایشین گیمز ایک ملٹی سپورٹس ایونٹ ہے جو پاکستان میں منعقد ہوگا۔ لاہور مرکزی میزبان جبکہ اسلام آباد، فیصل آباد اور کراچی ذیلی میزبان شہر ہوں گے۔پاکستان 1989ء اور2004 ء کے بعد تیسری بار جنوبی ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کرے گا اور پہلی باریہ کھیل اسلام آباد سے باہردوسرے شہروں میں بھی منعقد ہوں گے۔ان گیمز میں میزبان پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان، انڈیا، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔
2019ء کے سائوتھ ایشین گیمز نیپال میں ہوئے تھے جس کے بعد یہ گیمز2021ء میں منعقد ہونا تھے جو کورونا وائرس کے باعث مارچ 2023 ء میں شیڈول ہوئے، مارچ 2024 ء تک ملتوی کر دئیے گئے اور پھر 23 جنوری سے 6فروری 2026 ء تک دوبارہ شیڈول کیا گیا، لیکن ابھی تک ان بین الاقوامی کھیلوں کی تیاریاں نظر نہیں آر ہیں اور مجوزہ شیڈول کے مطابق رواں ماہ ان کھیلوں کا انعقاد ممکن نہیں۔
چودہویں سائوتھ ایشین گیمزکی تیاریاں جنوری 2021ء میں شروع ہوئیں ،لیکن 5سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مختلف فریقین کی مبینہ چپقلش، سرد مہری اور الگ الگ ترجیہات و مفادات کے باعث ان بین الاقوامی کھیلوں کی تیاری غیرتسلی بخش ہی قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ ابھی تک ہم نے ان مقابلوں کیلئے وینیوز ہی فائنل نہیں کیے توپھر تیاری کیسے ممکن ہے؟مجوزہ شیڈول میں صرف 18روز باقی ہیں لیکن ابھی اس میگا ایونٹ کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ ابھی تک حکومت کی جانب سے ان کھیلوں کیلئے تیاریاں انتہائی سست روی کاشکار اور غیرتسلی بخش ہیں۔قومی اتھلیٹس مایوسی کا شکارہیں جبکہ فریقین پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ صرف رسمی طور پر کبھی حکومت اورپی اواے میں گفت و شنید ہوتی رہتی ہے جس میں زیادہ تر شکوے شکایات ہی کیے جاتے ہیں۔ اس پر عمل نشستن، گفتن اوربرخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا جس کانتیجہ ابھی تک تو صفر بٹا صفر ہی ہے۔
وزیراعظم پاکستان محمدشہبازشریف نے ان کھیلوں کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن پاکستان سپورٹس بورڈاور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جانب سے ابھی تک کوئی خاص پیشرفت سامنے نہ آسکی اور ان کھیلوں کا 2026ء میں انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ سائوتھ ایشین گیمز میں ہم میزبان ہیں اس لئے زیادہ سے زیادہ میڈلز آنے چاہئیں، تمام فیڈریشنیں ابھی سے بھرپور تیاری شروع کریں، ٹریننگ کیمپ لگائے جاتے، تاکہ بہتر نتائج آئیں۔تشویشناک امریہ ہے کہ تاحال بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان 1989ء میں چوتھی سیف گیمز اسلام آباد کی میزبانی کر چکاہے، پھر 2004 ء میں ان کھیلوں کانام سائوتھ ایشین گیمز رکھ دیاگیااورنویں سائوتھ ایشین گیمز کی میزبانی بھی اسلام آباد کے حصے میں آئی۔ چودہویں سائوتھ ایشین گیمز میں کل 27کھیلوں کے مقابلے ہوں گے جن کاحتمی فیصلہ سائوتھ ایشین اولمپک کونسل کی میٹنگ میں کیاجائے گا تاہم ان میں سے 25کھیلوں کافیصلہ میٹنگ میں ہو گا جبکہ 2کھیل پاکستان میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی مرضی سے شامل کرے گا ۔جن کافیصلہ پاکستان اولمپک کونسل باہمی مشاورت سے کرے گی۔
بحیثیت میزبان پاکستان کیلئے بہترین موقع ہے کہ ان کھیلوں کے انعقاد سے ایک تو دنیا کو یہ ثابت کرکے دکھائے کہ وطن عزیز کھیلوں کیلئے پرامن ترین ملک ہے، ہمارے لوگ کھیل اورکھلاڑی سے پیار کرتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ملک میں تمام کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ ٹیموں اور اتھلیٹس کی شرکت یقینی بنا کر ان کھیلوں میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام ٹیموں کے ٹریننگ کیمپ فوری طورپر منعقدکئے جائیں ، ان کیمپوں کیلئے پہلے تو شفاف ٹرائلز کرائے جائیں اوران سے اتھلیٹس کاانتخاب کرکے انہیں جدید ٹریننگ کی بہترین سہولیات مہیاکی جائیں ۔ ہمارے پاس سائوتھ ایشین گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے تمام سہولیات اوروسائل دستیاب ہیں، ضرورت صرف اس امرکی ہے کہ ہم قومی جذبے اورسبزہلالی پرچم کی سربلندی کومدنظر رکھتے ہوئے باہمی تضادات کوپس پشت ڈالیں اورمتحد ہوکر کام کریں۔ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر بھی ان کھیلوں کے انعقاد کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔