کل111 ویں برسی:الطاف حسین حالیؔ،بڑے پائے کے نقاد، شاعر، ادیب، انشا پرداز اور مورخ

تحریر : پروفیسر نذیر احمد


وہ ادب اور شاعری کو انسان کی پوری تاریخی، تہذیبی اور روحانی زندگی کے تناظر میں دیکھتے تھے

حیات ِحالی …ایک نظرمیں

الطاف حسین حالی 1837ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پانی پت ہی میں حاصل کی اور قرآن پاک حفظ کیا ۔17 برس کی عمر میں ان کی شادی کردی گئی۔ حالی کو باقاعدہ تعلیم کا موقع نہیں مل سکا۔پانی پت اور دہلی میںا نہوں نے کسی ترتیب و نظام کے بغیر فارسی ،عربی،فلسفہ و منطق اور حدیث و تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ادب میںانہوں نے جو خاص بصیرت حاصل کی وہ  اُن کے اپنے شوق ِمطالعہ اور محنت کی بدولت تھی۔ دہلی کے قیام کے دوران وہ مرزا غالب کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے اور ان کے بعض فارسی قصائد ان ہی سے سبقاً پڑھے۔ شاعری میں وہ خود کومیر کا مقلد بتاتے ہیں۔ 1879ء میں سر سید کی ترغیب پرمثنوی مدو جزر اسلام  لکھی جو ’’ مسدس حالی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔   1884ء میں حالی نے ’’حیاتِ سعدی‘‘ لکھی۔ یہ اردوکی با اصول سوانح نگاری میں پہلی اہم کتاب ہے۔’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ حالی کے دیوان کے ساتھ  1893ء میں شائع ہوئی جو اُردو تنقید نگاری میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔اس نے  جدید تنقید کی بنیاد رکھی۔ ’’یادگارِ غالب‘‘ 1897ء میں شائع ہوئی۔ یہ غالب کے حالاتِ زندگی اور اُن کی شاعری پر تبصرہ ہے۔ ’’حیاتِ جاوید‘‘  1901ء میں شائع ہوئی۔ یہ سر سید کے حالاتِ زندگی اور اُن کے کارناموں کی دستاویز ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی تقریباً ایک صدی کی  تہذیبی تاریخ بھی ہے۔1904ء میں حکومت برطانوی ہند نے انہیں شمس العلما کے خطاب سے نوازا ۔  ایک سو گیارہ سال قبل،31 دسمبر 1914ء میں حالی کا انتقال ہوا۔

حالی غالب کے شاگرد تھے اور شاید سب سے ذی علم شاگرد رہے ہیں۔ وہ اردو میں نقد نویسی کے بانی تھے اور بعض اعتبار سے اب تک کوئی ان کا ہم پلہ نہیں ہوا ہے۔ تنقید پر ان کی مشہور تصنیف ’’مقدمہ شعر و شاعری ‘‘ہے۔ یہ کتاب ایک نہایت ہی مہذب، متمدن اور شائستہ ذہن کا عکس ہے۔ حالی جیسا سلجھا ہوا ذہن کم ہی ملے گا۔ ان کا کلاسیکی رچائو اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ ان کی شخصیت کا بہترین اظہار ان کی تنقید کی زبان اور اسلوب میں ہوا ہے جس کی تعریف میں سارے نقاد رطب اللسان ہیں۔ وہ صرف نقاد ہی نہیں بنیادی طور پر بڑے دانشور تھے۔ وہ ادب اور شاعری کو انسان کی تاریخی، تہذیبی اور روحانی زندگی کے تناظر میں دیکھتے تھے۔

حالی ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرم رہے لیکن ان کے یہاں کہیں ہنگامہ آرائی کا نام و نشان نہیں۔ وہ حوصلہ شکن اور تاریک دور میں اپنی تہذیب کے بکھرے ہوئے اجزا کو سمیٹتے رہے۔ ان امور کی بنا پر ان کی شخصیت میں ایسا حسن اور رچائو پیدا ہو گیا تھا کہ وہ آج بھی نہایت دل نواز ہے۔ حالی نے صاف اور سادہ طرز ایجاد کی لیکن اس طرز میں بے رنگی نہیں، پھسپھسا پن نہیں۔ حالی نے نثر کو ایک نیا طرز دیا۔ ان کی کوشش تھی کہ جو لطف ہو وہ صرف مضمون کی ادا میں ہو، جو اپنے دل میں ہو وہی دوسرے کے دل میں اترے تاکہ دل سے نکلے اور دل میں بیٹھے۔ یہی ان کی نثر کی انفرادی خوبصورت ہے۔

حالی صرف نقاد اور ادیب ہی نہ تھے بڑے درجے کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری کے دو انمول نمونے پیش کئے جاتے ہیں جن سے ان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ پہلی نظم غالب کا مرثیہ ہے، شخصی مرثیوں میں اس سے بہتر کسی اور مرثیے کا تصور نہیں ہو سکتا۔ان کے مرثیے کی کوئی مثال اُردو میں نہیں ملتی۔دوسری نظم مسدس حالی ہے جس کا دوسرا نام مدّ و جزر اسلام ہے۔ ایسی پرجوش عبرت انگیز، سبق آموز، دلوں کو ابھارنے اور غیرت دلانے والی نظم ہماری کسی زبان میں نہیں۔ یہ نظم ہماری قومی زندگی کا کامل مرقع ہے۔ اس میں ہمارے خط و خال صاف نظر آتے ہیں۔ پھر حسنِ بیان نے اسے معراج کمال تک پہنچا دیا ہے۔ اس میں ایسے تیز نشتر ہیں جو جگر کے پار ہو جاتے ہیں۔مسدس حالی زندہ جاوید کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کی درد بھری آواز ہمیشہ دلوں کو تڑپاتی رہے گی اور اس کے درد مندانہ اقوال دلوں میں گھر کئے بغیر نہیں رہیں گے۔

حالی کے ذہنی ارتقا میں ان کے لسانی و ادبی شعور کو بڑا دخل ہے۔ ان کی علمی لیاقت، غالب اور شیفتہ کی صحبت میں ان کے شعری مذاق کی تربیت، اردو شعر و ادب کے مطالعے کی وسعت، سر سید کی تحریک میں شرکت، کرنل ہالرائیڈ اور محمد حسین آزاد کے ساتھ لاہور میں انجمن پنجاب کے جدید نظم کے مشاعروں کے آغاز اور  لاہور ہی میں ملازمت کے دوران انگریزی زبان و ادب کی خوبیوں سے واقفیت کی وجہ سے حالی کے لسانی و ادبی شعور میں پختگی، بالیدگی، گہرائی اور گیرائی آئی جس کا ثبوت ہمیں ان کے شعری و ادبی کارناموں میں ملتا ہے۔

حالی کے فکر و فن پر اُن کے بعد کئی لوگوں نے لکھا ہے مگر انہوں نے زبان و بیان کے بارے میں اپنے جو خیالات پیش کئے ہیں وہ پہلو  سب سے اہم ہے۔ مقدمہ شعر و شاعری میں حالی نے کئی جگہوں پر الگ الگ شعر و شاعری میں زبان کے الفاظ و تراکیب، روزمرہ، محاوروں اور استعاروں کے استعمال کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حالی نے مقدمہ شعر و شاعری میں اردو زبان کے لسانی پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔حالی اپنی مشرقی تعلیم کی وجہ سے عربی زبان و ادب کے بڑے دلدادہ تھے۔ عربی شاعری، نقد و انتقاد کے بارے میں اُن کی معلومات خاصی تھیں۔انہوں نے مقدمہ شعر و شاعری میں کئی عرب شعرا کا نام  لیا ہے۔ حالی پیروِ مشرق زیادہ تھے پیروِ مغرب کم۔ شعر میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہئیں، اس عنوان کے تحت حالی نے ملٹن کا حوالہ دیتے ہوئے تین باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شعر کی خوبی یہ ہے کہ سادہ ہو، جوش سے بھرا ہو اور اصلیت پر مبنی ہو۔ حالی کے ناقدین پروفیسر آل احمد سرور، کلیم الدین احمد، شمس الرحمن فاروقی، عبادت بریلوی، محمد حسن عسکری، وارث علوی، ابوالکلام قاسمی، حامدی کاشمیری، احتشام حسین، وزیر آغا وغیرہ نے ملٹن کے اور عربی شعرا وغیرہ کے حوالے سے جو بات حالی نے کہی ہے اس پر خوب بحث کی ہے اور یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ حالی نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ لکھتے وقت بیشتر عربی مآخذوں سے مدد لی ہے۔مقدمے کی ابتدا میں حالی نے شعر و شاعری کی اہمیت و افادیت کے بارے میں عمومی بحث کی ہے ۔شاعری میں قدما کی تقلید کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تقلید سے صرف شاعری ہی کو نہیں زبان کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔تقلید اور جھوٹی شاعری سے شاعری چند مضامین میں محدود ہو جاتی ہے۔ زبان بجائے اس کے کہ اس کا دائرہ وسیع ہو، وہ اپنی قدیم وسعت بھی کھو بیٹھتی ہے۔

 حالی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک سلطنت کے مانند ہے جس میں عالم محسوسات، دولت کے انقلابات، سیرت انسانی، معاشرتِ نوع انسانی تمام چیزیں جو فی الحقیقت موجود ہیں اور تمام وہ چیزیں جن کا تصور مختلف اشیا کے اجزا کو ایک دوسرے سے ملا کر کیا جا سکتا ہے سب شاعری کی سلطنت میں محصور ہیں۔ شاعری کی قلمرواسی قدر وسیع ہے جس قدر خیال کی قلمرو۔حالی قوت ِمتخیلہ کو شاعری کیلئے سب سے مقدم اور ضروری چیز قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہی وہ چیز ہے جو شاعری اور غیر شاعری میں فرق پیدا کرتی ہے۔ تخیل کو دور ازکار نہیں ہونا چاہئے، اس میں وہ مشاہدے کی اہمت پر بھی زور دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربہ یا مشاہدہ کے ذریعے سے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے اور پھر اس کو الفاظ کے ایسے دلکش پیرائے میں جلوہ گر کرتی ہے جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے۔ تخیل کا عمل اور تصرف جس طرح خیالات میں ہوتا ہے اسی طرح الفاظ میں بھی ہوتا ہے۔حالی کا یہ خیال درست ہے کہ جو شاعر لفظ کی قدرو قیمت سے واقف ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ کون سا لفظ کیا اثر رکھتا ہے ،اس کے اختیار کرنے یا ترک کرنے سے کیا خاصیت بیان میں پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ وزن اور قافیہ کی قید ناقص اور کامل دونوں قسم کے شاعروں کو اکثر ایسے لفظ کے استعمال مجبور کرتی ہے جو خیال کو بخوبی ادا کرنے سے قاصر ہے۔ حالی نے لفظ اور معنی کے رشتے کے بارے میں  ابن خلدون کی رائے پیش کی ہے کہ انشا پردازی کا ہنر نظم میں ہو یا نثر میں محض الفاظ میں ہے معانی میں ہرگز نہیں۔ معانی صرف الفاظ کے تابع ہیں، الفاظ اصل ہیں۔ اگر ضرورت ہے تو صرف اس بات کی ہے کہ ان معانی کو کس طرح الفاظ میں ادا کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منتخب کلام

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور

ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں

یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر

تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق

رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں

بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کا

خط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

حالی نشاط نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو اب

آئے ہو وقتِ صبح ،رہے رات بھر کہاں

………………

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط

الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا

اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست

زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا

دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں

اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا

راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر

دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا

کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے

پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ

ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر

یعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا

منتخب اشعار

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

………………

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

………………

صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

………………

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

………………

آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

………………

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

………………

بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

………………

نعت رسول مقبولﷺ

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

خطا کار سے درگزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کو زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا

مس خام کو جس نے کندن بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا

ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے

سنہری باتیں

٭…تم خدا کو راحت میں نہ بھولو، وہ تمہیں مصیبت میں نہیں بھولے گا۔٭…ایمان کے ساتھ صبر کی وہی حیثیت ہے جو سر کی تن کے ساتھ۔

دریا ئوں کی تہہ میں پتھر کیوں ہوتے ہیں؟

ڈھلوان پہاڑوں پر کشش ثقل کی وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہت تیزی سے بہتا ہے۔ پانی میں کاٹ دینے اور توڑ پھوڑ کرنے کی زبردست طاقت ہوتی ہے۔