بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ
کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کا وہ حقیقی طور پر مستحق ہے۔ تعلیمی نصاب میں معلوماتی مواد پر تو زور دیا جاتا ہے، لیکن بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں، تخیل اور مطالعے کے ذوق کو پروان چڑھانے کیلئے معیاری ادب کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہماری نئی نسل کتابوں سے دور اور اسکرینوں کے قریب ہوتی جا رہی ہے، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔
ہر سال دنیا بھر میں 2 اپریل کو ’’بچوں کی کتب کا عالمی دن‘‘(International Children`s Book Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد بچوں میں کتاب پڑھنے کا شوق پیدا کرنا اور ان کی تعلیم و تربیت میں کتابوں کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ دن زیادہ تر خاموشی سے گزر جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی اہمیت کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کا یہ مستحق ہے۔ہم نے جب اس دن کے حوالے سے مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے بات کی اور انہیں بچوں کیلئے کتابوں کے اسٹال لگانے یا کسی چھوٹے سے پروگرام کے انعقاد کی تجویز دی تو اکثر لوگوں نے اس کو غیر ضروری سمجھاجبکہ کئی افراد اس دن کے بارے میں مکمل لاعلم تھے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم ابھی تک بچوں کے ادب اور مطالعے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے علم و تحقیق کا دامن چھوڑ دیا وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی۔ دوسری جانب ہم بہت سے مغربی دن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں، چاہے ان کا ہماری معاشرتی یا اخلاقی اقدار سے کوئی تعلق نہ ہو۔ مثال کے طور پر ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہر سال بڑے پیمانے پر تقاریب اور تحریریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ٹی وی، موبائل فون، انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز نے بچوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود کتاب کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ کتابیں نہ صرف بچوں کے ذہن کو وسعت دیتی ہیں بلکہ ان کی شخصیت سازی اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اکثر کہا جاتا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس مستقبل کی تیاری کیلئے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے بچوں کیلئے معیاری کتابوں کا ذخیرہ تیار کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں شائع ہونے والی بہت ساری بہترین بچوں کی کتابیں بھی دوبارہ شائع نہیں کی گئیں۔ نتیجتاً ہمارے بچے اپنی ثقافت اور تاریخ سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی کارٹون اور فلموں کے ذریعے دوسری تہذیبوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں بچوں کیلئے رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں اور کئی اخبارات بھی ہفتہ وار بچوں کے صفحات شائع کرتے ہیں، جو ایک خوش آئند بات ہے۔ تاہم ان میں اکثر فرضی کہانیوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو تاریخ، اسلام، سائنسی شخصیات اور قومی ہیروز کے بارے میں زیادہ مواد فراہم کیا جائے تو ان کی ذہنی اور فکری تربیت بہتر انداز میں ممکن ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بچوں کیلئے لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد نہایت ہی کم ہے۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں، جیسے اچھے لکھاریوں کی کمی، قارئین کی کم تعداد، اشاعت کیلئے سرمایہ کی قلت اور بچوں کے ادب کو کم اہمیت دینا۔ حالانکہ بچوں کیلئے لکھنا نہایت حساس اور مشکل کام ہے کیونکہ اس میں سادگی کے ساتھ گہرائی پیدا کرنا پڑتی ہے۔
انٹرنیشنل چلڈرن بُک ڈے پہلی مرتبہ 1967ء میں منایا گیا تھا۔ اس دن دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کی کتابوں کے میلے منعقد کیے جاتے ہیں، کتابوں کے اسٹال لگائے جاتے ہیں اور بچوں کا ادب لکھنے والوں کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی اگر اس دن کو منظم انداز میں منایا جائے، اسکولوں میں کتاب میلے لگائے جائیں، بچوں کیلئے ادبی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے اور والدین اپنے بچوں کو کتاب بطور تحفہ دینے کی روایت کو فروغ دیں تو یقیناً مطالعے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔