رشید حسن خاں :تحقیق اورجدید اصول تدوین
بیسویں صدی کے نصف اول میں حافظ محمود شیرانی، قاضی عبد الود ود، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور سید مسعود حسن رضوی کے تدوین کرد ہ بعض متن اور تدوین کی روایت کے محض ابتدائی نقوش ہی نہیں بلکہ مثالی نمونے ہیں۔
خاص طور پر مولانا عرشی کی مرتبہ ’’ مکاتیب غالب ‘‘تو تدوین کے جدید معیارات پر بھی پوری اترتی ہے۔ اپنے معاصرین میں نسبتاً مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے تعداد اور معیار دونوں حوالوں سے تدوین کے اعلیٰ اور اچھے نمونے پیش کیے۔ مکاتیب غالب کے بعد انتخابِ غالب، تاریخ محمدی، دستور الفصاحت اور پھر دیوان غالب نسخہ عرشی کی صورت میں ان کی علمی کاوشیں ہمیشہ یادگار رہیں گی۔ جن کو بنیا دینا کر تدوین کے رہنما اصول بھی مرتب ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ان ناموں میں اور اضافہ ہوتا ہے اور جس طرح تدوین کے میدان میں بیسویں صدی کے نصف اول میں زیادہ معتبر نام مولانا امتیاز علی خاں عرشی کا ہے اسی طرح بیسویں صدی کے نصف آخر میں اپنے معاصرین میں سب سے معتبر نام رشید حسن خاں کا ہے۔ رشید حسن خاں ایسے محقق تھے جن میں تدوین کی صلاحیتیں تحقیق سے بھی بڑھ کر تھیں اور ان کو وہ استعمال میں بھی خوب لائے۔ کلاسیکی متون کی تدوین کے حوالے سے تعداد اور معیار دونوں لحاظ سے رشید حسن خاں اپنے استاد ِمعنوی مولانا امتیاز علی خاں عرشی سے بھی سبقت لے گئے ہیں۔
طالب علموں کی نصابی ضرورتوں کے لیے اُردو کی بعض کلاسیکی کتابوں کو صحتِ متن کے ساتھ اور کسی متن کے معتبر نسخے کی بنیاد پر مرتب کرنے کا آغاز رشید حسن خاں نے1963ء میں کیاتھا۔ تقریباً سال بھر کی محنت سے انہوں نے پہلے پہل1964ء میں ’’ باغ و بہار‘‘ کو مرتب کیا جو اسی سال شائع ہوئی۔یہ اور اس نوع کی اور متعدد کتا ہیں ان کے نیم تدوینی کاموں کی ذیل میں آتی ہیں۔ لیکن اس سے کم از کم یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ عملی طور پر کسی متن کو صحت کے ساتھ پیش کرنے کا آغا ز رشید حسن خاں نے 1963ء میں کیا تھا۔عملی تدوین سے رشید حسن خاں کی دلچسپی کا اوائل 1963ء کا ایک اور حوالہ بھی قابل ذکر ہے جس کو ان کی تدوین کا نقش ِاول کہا جا سکتا ہے۔ بحر لکھنوی کے ایک غیر مطبوعہ مختصر فارسی رسالے ’’ بحر البیان ‘‘کو انہوں نے اوائل1963ء میں مرتب کیا جو انجمن ترقی اُردو کے سہ ماہی رسالے اُردو ادب کے مارچ 1963ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ اس طرح 1963ء سے اپنی وفات تک عمر ِعزیز کے بیالیس برس انہوں نے تدوین کے نظری اور عملی پہلوؤں کو دیے۔ نتیجے میں تدوین کے معیار کو اتنابلند کر دیا کہ اس سے آگے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
رشید حسن خاں پہلے اور واحد مدون ہیں جو تدوین کو تحقیق سے آگے کی منزل قرار دیتے ہیں اور اس کو تحقیق سے الگ با قاعدہ ایک شعبہ علم و فن کہتے ہیں ورنہ ان سے پہلے تدوین کو تحقیق کی ایک شاخ ہی قرار دیا جاتا تھا۔ تدوین کے بارے میں رشید حسن خاں نے اپنے اس نقطہ نظر کو نظری مباحث میں پڑا واضح انداز سے بیان کیا ہے اور اپنی تدوین کے عملی نمونوں سے بھی ثابت کر دیا ہے کہ ہر محقق ، تدوین کرنے کے قابل نہیں ہوتا ، مدون کا درجہ اس سے بلند ہے اور اس کو زیادہ آزمائشوں اور ذمہ داریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ رشید حسن خاں کی عملی تدوین کا پہلا مثالی نمونہ ’’فسانۂ عجائب ‘‘ ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے تقریبا 1978ء میں مرتب کرنا شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اس کے تمام معلوم ضروری نسخے جمع کر چکے تھے۔ 1980 ء تک اس کے متن کا غالب حصہ مکمل کر کے کتابت بھی کروا چکے تھے کہ پٹنہ سے انہیں 1863 ء کا مصنف کا آخری نظر ثانی شدہ نسخہ مل گیا۔ اصولِ تحقیق کے مطابق اس کو بنیادی متن بنایا جانا تھا۔ رشید حسن خاں نے اپنی پچھلی محنت پر پانی پھیرا اور اس نسخے کو بنیاد بنا کر نئے سرے سے متن کو مرتب کرنا شروع کیا۔
رشید حسن خاں نے فسانہ عجائب کے مفصل مقدمے میں بنیادی اور ضروری معلومات کو درج کر دیا ہے۔ ان کا اصول یہ ہے کہ مقدمے کو زیادہ سے زیادہ اس متن کے متعلقات سے متعلق ہونا چاہے۔ مصنف کی سوانح اور دیگر احوال بھی صرف وہی دیا جائے جس کا اس متن سے براہ راست تعلق ہو۔ اس اصول کے پیش نظر کوئی ایسی بات معلوم نہیں پڑتی جو متن سے متعلق ہو اور رہ گئی ہو۔ اس طرح فسانہ عجائب کے متن اور اس کے متعلقات کے مباحث کو بڑے جامع انداز سے سمیٹ لیا گیا ہے۔ رشید حسن خاں نے اس متن کی ترتیب و تدوین میں آٹھ نسخوں کو پیش نظر رکھا ہے اور ان کا مفصل تعارف بھی کر دیا ہے۔