اردو ادب میں پاکستانیت کا اظہار

تحریر : نعیم فاطمہ علوی


جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان اردو ہے۔اردو ادب کو تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کرنے والے اہل قلم کا تعلق خواہ شاعری سے ہو یا نثر نگاری سے مٹی کی خوشبو اس کے تخلیقی تجربے کو نکھارتی اور سنوارتی ہے۔

 گو اردو ادب کا بیج برصغیر میں بویا گیا مگر جب پاکستان بنا تو تقسیم اور ہجرت نے اہل قلم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ ابھی وہ اس دکھ کے تاثر سے باہر نہیں نکل پائے تھے کہ 65ء اور 71ء کی جنگ نے ذہنوں میں انقلاب بر پا کر دیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب فرماتے ہیں کہ جنہوں نے زندگی کے کسی شعبے میں سوچنے اور تخلیق کرنے کا کام کیا ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ شخص جسے اپنے ملک، اپنی زمین سے محبت نہ ہو وہ کوئی تخلیقی یا فکری کام کر ہی نہیں سکتا۔ ادیب کے مزاج میں تو ہمیشہ اس ملک اس کے لوگ اور ان کی اتھاہ محبت کا جذبہ غیر شعوری طور پر موجود رہتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کا خیال ہے کہ پاکستانی ادیب کا لکھا ہوا وہ ادب جس میں پاکستانی قوم کے مسائل وابتلاکا تذکرہ ہو یا جس سے پاکستانی قوم کا تشخص اجاگر ہوتا ہو اسے پاکستانی ادب قرار دیا جا سکتا ہے۔

 موجودہ پاکستانی معاشرہ جن خطوط پر استوار ہے اس کے پیچھے صوفیاکرام ہیں جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے اس دھرتی میں بسنے والوں کے ذہنوں کی آبیاری کی۔ ان کے کلام میں ہمیں علاقائی رنگ بھی نظر آتا ہے اور مٹی کی خوشبو بھی دامن دل سے لپٹ لپٹ جاتی ہے۔ آزادی کے بعد رفتہ رفتہ علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کے اشتراک عمل سے پاکستان میں اردو کا ایک نیا منفرد آہنگ اور جدا اسلوب وضع ہوتا چلا گیا۔ کیونکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیاحت رشتے داریاں باہمی میل ملاپ، روز ی روٹی کی تلاش، یہ سب ضرور تیں اس تبدیلی کا سبب ہیں۔ اس لیے پاکستانی ادب میں پاکستان کی مختلف تبد یوں کی رنگارنگی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

 ادب چونکہ زندگی اور معاشرت سے آب ودانہ حاصل کرتا ہے لہٰذا گردوپیش ہونے والی تمام تبدیلیاں دکھ ، سکھ، محبتیں نفرتیں ، لاشعوری طور پر ادب کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ فسادات کا المیہ، ہجرت کا کرب، غیر مستحکم سیاسی نظام ، آمریت کا تسلسل، جنگیں ،افغانستان اور مسئلہ کشمیر، زلزلہ، سیلاب سب پاکستانی ادب کے نمایاں موضوعات ہیں۔ اب آپ غزل کو لیجیے پاکستان بننے سے پہلے کی غزل اور آج کی غزل میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ اب غزل میں صرف عشق و عاشقی یا محبوب کی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ ہجرت کے موضوع سے لے کر سیاسی، سماجی ، عدم مساوات، آلودگی ، پسماندگی خواندگی ہر طرح کے موضوعات غزل کے شعرانے باندھے ہیں۔ بنگلہ دیش کے پس منظر میں نصیر ترابی کی غزل، وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی ،بھی وطنیت کی محبت میں ڈوبی ایسی غزل ہے جس نے ایک عالم کو اپنے حلقۂ اثر میں لیا۔ پاکستان بھارت جنگ کے نتیجے میں وطن پرستی کی حامل نظموں کی تخلیق ہوئی جس میں بے شمار نظمیں، ترانے اورر جزیہ اشعار تخلیق کیے گئے ہیں۔ اس زمانے میں اہل قلم نے غیر محسوس طریقے سے اپنی تحریروں کو پاکستانی تشخص کے لیے وقف کیے رکھا۔ انہوں نے اپنے تخلیقی عمل سے اس بات پر زور دیا۔ کہ پاکستانی ادیب اور شاعر کو پاکستانی تمدن اور پاکستانی قوم کی مجموعی امنگوں اور آرزؤں کا ترجمان ہونا چاہیے۔ جزبہ قومیت کے اشتراک سے قومی شاعری کو ایک الگ صنف ادب کے طور پر متعارف کروانے والے اہم قومی شعرا صبا اکبر آبادی، طفیل ہوشیار پوری، سید ضمیر جعفری، کلیم عثمانی ، امید فاضلی، جمیل الدین عالی، حمایت علی شاعر، احمد ندیم قاسمی، قیوم نظر، شبنم رومانی نے قومی شاعری پر مبنی اس موضوعاتی رویے کو باقاعدہ ایک رجحان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

علامہ نیاز فتح پوری چمنستانِ اُردو کی ہمہ جہت شخصیت

وہ شاعر،افسانہ نگار، ناقد،محقق،مفکر،مؤرخ،عالم دین،نفسیات دان ،صحافی،مترجم ،کیا کیا نہ تھے:دنیائے اردو میں نیاز بحیثیت مترجم بھی ایک بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے ترجموں میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ طبع زاد معلوم ہوتے ہیں۔جہاں تک انشا پردازی کا سوال ہے وہ اس فن میں اپنے معاصرین سے بہت آگے نظر آتے ہیں

پشاورزلمی اور حیدرآباد کنگز مین آج مدمقابل

پی ایس ایل11 کا فائنل معرکہ:زلمی پانچویں مرتبہ فائنل کھیل رہی ہے،کنگزمین پہلی بار ٹرافی کی جنگ کیلئے میدان میں اترے گی:اسلام آبادیونائیٹڈ اور لاہور قلندرز تین، تین جبکہ پشاورزلمی، کراچی کنگز، ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اب تک ایک، ایک ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہیں:بابراعظم نے پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 4سنچریوں کاعثمان خان اور ایک سیزن میں سب سے زیادہ 588رنزکا فخرزمان کا ریکارڈ برابر کردیا

پی ایس ایل 11:ریکارڈز

پی ایس ایل 11 کے رواں سیزن میں جو29مارچ کو شروع ہوا تھا میں متعدد پرانے ریکارڈز ٹوٹے اور ان کی جگہ نئے ریکارڈز بنے، جن میں سے چند ریکارڈز درج ذیل ہیں۔

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔