غرور کا انجام
گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔
مگرمچھ اپنے مضبوط جبڑوں اور وزنی دم کی وجہ سے پہلے ہی مشہور تھا، لیکن جیسے ہی اسے راجہ کا لقب ملا، اس کے دماغ میں غرور کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ وہ خود کو جھیل کا خدا سمجھنے لگا اور ننھے آبی جانوروں کو حقیر جاننے لگا۔
ایک تپتی دوپہر مگرمچھ جھیل کے کنارے دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک سارس قریب آکر مچھلی پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ سارس کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے مگرمچھ کی نیند میں خلل پڑا تو وہ غرا کر بولا: یہاں سے رفو چکر ہو جا، ورنہ ایک ہی وار میں تیری ٹانگیں قلم کر دوں گا۔ سارس خوف سے تھر تھر کانپتا ہوا دور اڑ گیا۔
مگرمچھ ابھی غصے میں ہی تھا کہ اسے ریت پر ننھی سی سنہری مچھلی تیرتی نظر آئی جو لہروں کے ساتھ غلطی سے کنارے کے قریب آ گئی تھی۔ مگرمچھ نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولا: میں چاہوں تو ایک لقمے میں تجھے تیرے پورے خاندان سمیت نگل لوں۔ سمجھ نہیں آتا کہ قدرت نے تم جیسے کمزوروں کو پیدا ہی کیوں کیا ہے؟ تم نہ تو لڑ سکتی ہو اور نہ ہی ڈرا سکتی ہو۔
سنہری مچھلی نے ہمت جمع کی اور نرمی سے کہا: راجہ صاحب! خالق نے کسی کو بھی بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ ہر چھوٹے بڑے کا اپنا مقام ہوتا ہے۔
ابھی یہ تکرار جاری تھی کہ اچانک آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں اور خوفناک طوفان آ گیا۔ جھیل کے قریب پرانا بحری جہاز کا ملبہ تھا جس کے بھاری لوہے کے حصوں کے درمیان تنگ راستہ بن گیا تھا۔ طوفانی لہروں سے بچنے کیلئے مگرمچھ تیزی سے اس ملبے کے اندر بنے کمرے نما حصے میں گھس گیا اور مچھلی بھی اس کے پیچھے وہیں پناہ لینے پہنچی۔
جیسے ہی طوفان کی لہریں ٹکرائیں، جہاز کا بھاری بھرکم لوہے کا دروازہ زوردار آواز کے ساتھ گرا اور اس چھوٹے سے کمرے کا راستہ بند ہو گیا۔ اب باہر نکلنے کیلئے تھوڑا سا سوراخ باقی بچا تھا۔
مگرمچھ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زور زور سے دروازے پر سر مارنا شروع کیا لیکن لوہا ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ ہانپتے ہوئے بولا: میں اپنی طاقت سے ابھی اسے توڑ دوں گا۔مچھلی مسکراتی رہی کہ اسے حقیقت حال کا علم تھا۔
کچھ دیر بعد مگرمچھ کو احساس ہوا کہ پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔ وہ گھبرا کر بولا: چھوٹی مچھلی! کچھ کرو، ہم یہاں مر جائیں گے۔مچھلی نے سکون سے کہا: ہم نہیں، صرف آپ۔ کیونکہ اللہ نے مجھے اتنا چھوٹا بنایا ہے کہ میں اس ننھے سے سوراخ سے باہر نکل کر اپنی جان بچا سکتی ہوں۔ آپ کو اپنی جسامت پر ناز تھا، اب اسی کے قیدی بن کر رہیں۔
یہ کہہ کر سنہری مچھلی پھرتی سے اس چھوٹے سے سوراخ سے پھسل کر باہر کھلے سمندر میں چلی گئی جبکہ طاقتور مگرمچھ اس لوہے کے پنجرے میں قید اپنی بے بسی پر آنسو بہاتا رہ گیا۔ وہ اپنے ہی غرور کے ہاتھوں انجام تک پہنچ گیا تھا۔