باہمی معاملات کے اسلامی اُصول
’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘(القرآن) قرآن وسنت میں متنازع معاہدوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو! خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے‘‘( شعب الایمان ) ’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘(صحیح بخاری)
اجتماعی زندگی کے باہمی معاملات (لین دین) کو ایک دوسرے سے بخوبی نبھانا ہمارا ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے ، اس لئے کہ باہمی معاملات کی صحیح پاس داری ہی آدمی کو ایک مہذب انسان ایک اچھا شہری اور ایک نیک فرد بننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ معاشرت اور معاملات دین اسلام کے دو بڑے شعبے ہیں، لیکن افسوس کہ ان کی طرف توجہ اس قدر کم کی جاتی ہے یہاں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔گویا کہ ہم نے یہ دونوں دین کے شعبے عملاً اپنی زندگی سے خارج کر رکھے ہیں۔ حالانکہ عبادات سے متعلق شریعت کے احکامات ایک چوتھائی ہیں بقیہ تین چوتھائی احکامات معاملات اور معاشرت سے متعلق ہیں ۔ معاملات کی خرابی کا اثر عبادات پر ہوتا ہے۔
حدیث مبارکہ میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس حال میں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ کو رو رو کر پکارتے ہیں کہ یااللہ! میرا یہ مقصد پورا کردیجیے، فلاں مقصد پورا کر دیجیے، بڑی عاجزی کے ساتھ دعائیں کر رہے ہوتے ہیں، لیکن کھانا ان کا حرام، لباس ان کا حرام اور ان کا جسم حرام آمدن سے پرورش پایا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کی دُعا کیسے قبول ہو گی۔ (جامع ترمذی: 2989)
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں باہمی معاملات کے اصول و ضوابط کوانتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔شریعت نے لین دین کے معاملے میں باہمی رضا مندی کو اِس کا پہلا اُصول قرار دیاہے، تاکہ فریقین آزادانہ طور پربغیر کسی خوف وخطر کے باہمی رضامندی سے اپنا معاملہ جاری رکھ سکیں۔ یعنی باہمی لین دین کے معاہدے کی توثیق کیلئے ضروری ہے کہ دونوں فریقین باہمی طور پررضا مند ہوں۔ایسا معاہدہ جس میں جبرو اکراہ، دھوکہ دہی، غلط بیانی اور دیگر غیر قانونی عناصر شامل ہوں اُس کو شریعت باطل قرار دے کر باہمی معاملے کو حرام و ناجائز کہتی ہے۔اور شریعت باہمی معاملے میں اس عہد کو اس لئے باطل اور حرام قرار دیتی ہے کہ اس میں باہمی رضا مندی اور آپس کے معاہدے میں اتفاق شامل حال نہیں ہوتا۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ (النساء: 29)۔اسی طرح حضورِ اکرم ﷺنے فرمایا: ’’فروخت کا معاہدہ صرف باہمی رضامندی سے درُست ہے‘‘(ارواء الغلیل:ج 05ص125 )۔
قمار اور جوے سے بچاؤ بھی اسلامی اُصولوں میں ایک انتہائی اہمیت کا حامل اُصول ہے۔ اسلام نے جوا کی تمام صورتوں کوسختی سے منع کیا ہے اسلام میں میسر اور قمار جوا کی ایسی اقسام ہیں جو مکمل طور پر ممنوع ہیں۔ میسر سے مراد بغیر کوئی مشقت اور ذرائع آمدن استعمال کیے، یعنی دوسروں کوحق سے محروم کرتے ہوئے دولت کو اکٹھا کرنا۔ مطلب بہت آسانی سے منافع حاصل کرنا، مثال کے طور پر لاٹری کا پیسہ، پانسے سے کھیلنا اور بازی یا شرط لگانا میسر کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔قمار وہ آمدنی، منافع یا حصول منافع پر مشتمل ہے جس کا مکمل انحصار قسمت اورموقع پر ہو۔ قرآن مجید نے ان سے بچنے کی تنبیہ فرمائی ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور (عبادت کیلئے) نصب کیے گئے بُت اور (قسمت معلوم کرنے کیلئے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں،سو تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ‘‘ (المائدہ:90)
عصر حاضرمیں اسلامی قانون کا تصورِربا بالعموم اور اسلامی بینکنگ کے آغاز سے بالخصوص ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ ربا کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتی اور بلندی کے ہیں۔ اصل رقم میں ایک ہی جنس کی دو چیزوں کے درمیان ایک غیر قانونی اضافہ ربا کہلاتا ہے۔ربا کی ممانعت قرآن و احادیث میں بہت سے جگہوں پرفرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور اللہ تعالیٰ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے‘‘(سورۃالبقرہ:275)
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو،پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ پر خبردار ہو جاؤ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال (جائز) ہیں، نہ تم خود ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے‘‘(سورۃ البقرہ:278،279)
خیلابہ اور غش بھی اسلامی اصولوں میں فریب اور دھوکہ دہی کے معنوں میں آتے ہیں ۔ قرآن اور سنت نے دھوکہ دہی اور جھوٹ سے منع کیا ہے۔ خلابہ، غش اور تطفیف کے الفاظ قرآن مجید میں دھوکہ دہی کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ فروخت کی جانے والی چیز کی خرابی کو چھپانا،دھوکہ کے کاموں میں ناپ تول کی کمی کو (تطفیف) ایک چیز کی قیمت بڑھانے کیلئے غلط بولی لگانا (نجش)، ایک دودھ دینے والے جانور کی پیداوار کو خریدار کے سامنے غلط بیان کرنا (تسریعہ) کہا گیا ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے یہ لوگ جب (دوسرے) لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو (ان سے) پورا لیتے ہیں اور جب انہیں (خود)ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں،کیا یہ لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے کہ وہ (مرنے کے بعد دوبارہ) اٹھائے جائیں گے،ایک بڑے سخت دن کیلئے‘‘ (المطففین: 01 تا 05)۔ان آیات مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ناپ تول کر نے والے پر کتنی بڑی وعید ہے ۔
حضورِ اقدس ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘ (صحیح بخاری: 1973، صحیح مسلم: 1532)۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ایماندار اور سچا دکاندار قیامت کے دن اللہ کے نبیوں، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ ہو گا‘‘ (جامع ترمذی: 1209)
قرآن پاک کی طرح حدیث مبارکہ میں بھی متنازع معاہدوں کو بھی بہت سختی سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ایک فروخت میں دو فروختوں سے منع فرمایا‘‘۔اسی طرح کسی کی چیز اُس کی دلی رضامندی کے بغیر استعمال کرنے کو شریعت نے حرام و ناجائز قرار دیا ہے۔حضرت ابو حرہ ؓ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’ خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو! خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے‘‘(رواہ البیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ: 2946)
اگر کسی کی کوئی چیز قیمت دے کر لی جائے تو شریعت اور عرف میں اس کو بیع و شراء (خریدو فروخت) کہا جاتا ہے اور اگر اجرت اور کرایہ معاوضہ دے کر کسی کی چیز استعمال کی جائے تو شریعت اور عرف میں’’اجارہ‘‘ ہے اور اگر بغیر کسی معاوضہ اور کرایہ کے کسی کی چیز وقتی طور پر استعمال کیلئے لی جائے اور استعمال کے بعد واپس کر دی جائے تو ’’عاریت‘‘ ہے۔ یہ سب صورتیں جائز اور صحیح ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہﷺ کی ہدایات و ارشادات تفصیل سے موجود ہیں۔لیکن کسی دوسرے کی چیز لے لینے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر زبردستی اور ظالمانہ طور پر اس کی مملوکہ چیز لے لی جائے۔ شریعت کی زبان میں اس کو ’’غصب‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ حرام اور سخت ترین گناہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص نے کسی دوسرے کی کچھ بھی زمین ناحق لے لی تو قیامت کے دن وہ اس زمین کی وجہ سے (اور اس کی سزا میں) زمین کے ساتوں طبق تک دھنسایا جائے گا ‘‘(صحیح بخاری: 2452)۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ایک عورت نے حضرت امیر معاویہؓ کے دور ِخلافت میں حضرت سعید بن زیدؓکے خلاف (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے میری فلاں زمین دبالی ہے۔ حضرت سعیدبن زیدؓ کو اس جھوٹے الزام سے بڑا صدمہ پہنچا، انہوں نے مروان سے کہا کہ کیا میں اس عورت کی زمین دبائوں گا اورغصب کروں گا؟ میں نے تو رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سخت وعید سنی ہے۔اس کے بعد انہوں نے (دکھے دل سے) بددعا کی کہ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ اس عورت نے مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگایا ہے تو اس کو اس کی آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دے اور اس کی زمین ہی کو اس کی قبر بنا دے۔ (واقعہ کے راوی حضرت عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) پھر ایسا ہی ہوا، میں نے خود اس عورت کو دیکھا وہ آخری عمر میں نابینا ہو گئی،پھر ایک دن چلی جا رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر پڑی اور بس وہ گڑھا ہی اس کی قبر بن گیا (صحیح بخاری: 3198)۔