صاف ستھرا گھر، پرسکون زندگی

تحریر : اقصیٰ زاہد


آرگنائزیشن کے سنہری اصول

 روزمرہ کی مصروف زندگی میں گھر کی ذمہ داریاں نبھانا خواتین کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال، کھانا پکانا، مہمان داری اور دیگر امور کے درمیان اکثر گھر کی ترتیب اور صفائی متاثر ہونے لگتی ہے جس کا اثر نہ صرف ماحول پر بلکہ ذہنی سکون پر بھی پڑتا ہے۔ بے ترتیب گھر تھکن اور الجھن کو بڑھاتا ہے جبکہ منظم اور صاف ستھرا گھر زندگی کو آسان اور خوشگوار بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کی آرگنائزیشن کو محض صفائی نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی سمجھنا چاہیے جو سکون اور توازن پیدا کرتی ہے۔گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں انسان سکون، محبت اور تحفظ محسوس کرتا ہے۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین گھر کے نظم و نسق کی اصل روح سمجھی جاتی ہیں۔ اگر گھر منظم اور صاف ستھرا ہو  تو نہ صرف ذہنی سکون ملتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی بھی آسان ہو جاتی ہے۔ بے ترتیب گھر ذہنی دباؤ، وقت کے ضیاع اور تھکن کا باعث بنتا ہے جبکہ منظم گھر خوشگوار ماحول پیدا کرتا ہے۔ اس لیے آرگنائزیشن کے چند سنہری اصول اپنانا ہر خاتون کے لیے نہایت ضروری ہے۔

سب سے پہلا اصول’’ کم اشیا ، زیادہ سکون‘‘ ہے۔ ہمارے گھروں میں عموماً غیر ضروری سامان بھرا رہتا ہے، چاہے وہ پرانے کپڑے ہوں، ٹوٹے برتن یا غیر استعمال شدہ اشیا۔ یہ چیزیں نہ صرف جگہ گھیرتی ہیں بلکہ ذہنی بوجھ بھی بڑھاتی ہیں۔ اس لیے ہر تین سے چھ ماہ بعد گھر کا جائزہ لے کر غیر ضروری اشیاکو الگ کریں۔ جو چیز ایک سال سے استعمال نہ ہوئی ہو، اسے صدقہ کر دیں یا کسی ضرورت مند کو دے دیں۔ اس عمل سے گھر کشادہ اور دل ہلکا محسوس ہوتا ہے۔

دوسرا اہم اصول ہر چیز کی مخصوص جگہ مقرر کرنا ہے۔ جب گھر کی ہر چیز کی ایک جگہ متعین ہو تو اسے ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر باورچی خانے میں مصالحے، برتن اور دیگر سامان کو ترتیب سے رکھیں، کپڑوں کو الماری میں  ترتیب سے رکھیں اور بچوں کے کھلونوں کے لیے الگ باکس رکھیں۔ اس عادت سے نہ صرف صفائی برقرار رہتی ہے بلکہ بچوں میں بھی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔

تیسرا اصول روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے کام مکمل کرنا ہے۔ اکثر خواتین صفائی کو ایک بڑے کام کے طور پر لیتی ہیں  جس کی وجہ سے وہ تھکن اور بوجھ محسوس کرتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر روزانہ تھوڑا تھوڑا کام کیا جائے جیسے بستر سمیٹنا، برتن فوراً دھونا اور چیزوں کو استعمال کے بعد اپنی جگہ پر رکھنا تو گھر ہمیشہ صاف ستھرا رہتا ہے۔ یہ عادت وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہے۔

چوتھا اصول وقت کی منصوبہ بندی (Time Management) ہے۔ ایک منظم گھر کے لیے ضروری ہے کہ روزمرہ کے کاموں کا شیڈول بنایا جائے مثلاً ہفتے کے مخصوص دن کپڑے دھونے، صفائی کرنے یا بازار جانے کے لیے مختص کریں۔ اس طرح کام بکھرتے نہیں بلکہ ترتیب کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں۔ ایک سادہ ڈائری یا موبائل ایپ کے ذریعے بھی آپ اپنے کاموں کو منظم کر سکتی ہیں۔

پانچواں اصول باورچی خانے کی تنظیم ہے کیونکہ یہ گھر کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کچن منظم ہو تو کھانا بنانا آسان اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔ شفاف ڈبوں میں اشیامحفوظ کریں، لیبل لگائیں اور روزمرہ استعمال کی چیزیں آسانی سے پہنچ میں رکھیں۔ فریج کی صفائی اور ترتیب بھی ہفتہ وار بنیاد پر کریں تاکہ اشیاخراب نہ ہوں اور ضیاع سے بچا جا سکے۔

چھٹا اصول خاندان کی شمولیت ہے۔ گھر کی ذمہ داری صرف ایک فرد پر ڈالنا مناسب نہیں۔ بچوں اور دیگر افراد کو بھی چھوٹے چھوٹے کام سکھائیں جیسے اپنا بستر ٹھیک کرنا، کپڑے سمیٹنا یا کھانے کے بعد پلیٹ اٹھانا۔ اس سے نہ صرف آپ کا بوجھ کم ہو  گا بلکہ بچوں میں خود مختاری اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا۔

ساتواں اصول سادگی کو اپنانا ہے۔ اکثر ہم سجاوٹ کے نام پر غیر ضروری اشیاخرید لیتے ہیں جو بعد میں بے ترتیبی کا سبب بنتی ہیں۔ سادہ اور کم سے کم سجاوٹ نہ صرف خوبصورت لگتی ہے بلکہ صاف رکھنا بھی آسان ہوتا ہے۔ ہلکے رنگ، کھلی جگہ اور مناسب روشنی گھر کے ماحول کو مزید خوشگوار بناتے ہیں۔ آٹھواں اصول ذہنی سکون کو ترجیح دینا ہے۔ 

یاد رکھیں کہ ایک مکمل گھر وہ نہیں جو ہر وقت بے عیب نظر آئے بلکہ وہ ہے جہاں رہنے والے خوش اور مطمئن ہوں۔ اگر کبھی تھکن یا مصروفیت کی وجہ سے صفائی مکمل نہ ہو سکے تو خود پر دباؤ نہ ڈالیں۔ اپنی صحت اور سکون کو ترجیح دیں کیونکہ خوش اور مطمئن خاتون ہی گھر کو بہتر انداز میں سنبھال سکتی ہے۔یہ سمجھ لیں کہ آرگنائزیشن کوئی مشکل کام نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ جب آپ ان چھوٹے چھوٹے اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں گی تو نہ صرف آپ کا گھر صاف ستھرا ہوگا بلکہ آپ کی زندگی میں بھی سکون، ترتیب اور خوشی آ جائے گی۔  منظم گھر منظم ذہن کی عکاسی کرتا ہے ، یہی وہ راز ہے جو ہر کنبے کو خوشحال اور پرسکون زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سونا مہنگا ہو گیا سستے اور دلکش متبادل

عالمی معاشی اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آج کا پکوان:لزانیا

اجزا: دودھ: 1 لٹر، میکرونی: ایک پیکٹ، میدہ: دو کھانے کے چمچ، نمک: حسب ذائقہ، پسی کالی مرچ: ڈھائی چائے کا چمچ، انڈے: 4 یا 5 عدد

جگر مراد آبادی اثر انگیز شاعر

ان کا طرز شعر خوانی اپنے دور میں بہت مقبول رہا یہاں تک کہ لوگوں نے نقل کرنا شروع کر دی :میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےجگر شعر ترنم سے پڑھتے تھے اورموسیقی سے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ آواز بڑی لوچدار اور دلفریب تھی اسی لئے جس محفل میں وہ اپنا کلام سناتے، اسے نغمہ زار بنا دیتے تھے: جگر نے شاعری کی ابتدا فارسی سے کی‘ کچھ غزلیں فارسی میں کہیں لیکن جیسے جیسے ان کا رنگ نکھرتا گیا وہ اردو کی طرف آتے گئے اور پھر تمام تر صلاحیتیں اردو غزل کی آبیاری پر صرف کر دی

رشید حسن خاں :تحقیق اورجدید اصول تدوین

بیسویں صدی کے نصف اول میں حافظ محمود شیرانی، قاضی عبد الود ود، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور سید مسعود حسن رضوی کے تدوین کرد ہ بعض متن اور تدوین کی روایت کے محض ابتدائی نقوش ہی نہیں بلکہ مثالی نمونے ہیں۔

نیا فارمیٹ، کڑا امتحان:جوش وخروش پر سوالیہ نشان

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل)گیارہ: لیگ کے حوالے سے حالیہ فیصلے کرکٹ شائقین کیلئے حیران کن ہونے کیساتھ بحث طلب بھی ہیں: میچزلاہور اور کراچی تک محدود کرنا راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور کے شائقین کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں:جہاں 8 ٹیمیں لیگ کی عالمی ساکھ میں اضافہ کریں گی، وہیں تماشائیوں کی عدم موجودگی لیگ کے کمرشل ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے

جنت کا متلاشی (آخری قسط )

اُس انصاری نے کہا ’’ آپ نے جو کچھ دیکھا، بس یہی عمل تھا، میں تو اتنا ہی عمل کرتا ہوں‘‘۔