سونا مہنگا ہو گیا سستے اور دلکش متبادل

تحریر : کشور فاطمہ


عالمی معاشی اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 پاکستان سمیت دنیا بھر میں سونا نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ خواتین کے لیے خوبصورتی اور روایت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ مگر جب سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگے تو لازمی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب خواتین کیا پہنیں؟ خوش قسمتی سے فیشن کی دنیا میں ایسے کئی متبادل زیورات موجود ہیں جو نہ صرف سستے ہیں بلکہ انداز اور دلکشی میں کسی طور کم نہیں۔

چاندی،سادگی میں نفاست

چاندی صدیوں سے زیورات کی دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔ سونے کے مقابلے میں اس کی قیمت کہیں کم ہے جبکہ  اس کی چمک اور نزاکت دل موہ لینے والی ہوتی ہے۔ خاص طور پر آکسائیڈائزڈ سلور جیولری آج کل بہت مقبول ہے، جسے کرتی، ساڑھی یا ویسٹرن لباس کے ساتھ بھی پہنا جا سکتا ہے۔ چاندی کے زیورات نہ صرف بجٹ فرینڈلی ہیں بلکہ روزمرہ استعمال کیلئے بھی بہترین انتخاب ہیں۔

آرٹیفیشل جیولری

مصنوعی زیورات یا آرٹیفیشل جیولری نے حالیہ برسوں میں بے حد ترقی کی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں ایسے ڈیزائن دستیاب ہیں جو دیکھنے میں بالکل اصلی سونے یا ہیرے جیسے لگتے ہیں۔ بریسلیٹ، چوڑیاں، ہار اور جھمکے ہر چیز آرٹیفیشل میں خوبصورتی سے تیار کی جا رہی ہے۔ شادی بیاہ یا تقریبات کیلئے خواتین اب مہنگے سونے کے بجائے ہلکے اور سٹائلش آرٹیفیشل زیورات کو ترجیح دے رہی ہیں۔

امریکی ڈائمنڈ

اگر کوئی خاتون ہیرے جیسی چمک چاہتی ہے مگر اصل ہیروں کی قیمت برداشت نہیں کر سکتی تو امریکن ڈائمنڈ بہترین انتخاب ہے۔ یہ زیورات نہ صرف خوبصورت ہوتے ہیں بلکہ نسبتاً سستے بھی ہوتے ہیں۔ پارٹی ویئر یا برائیڈل فنکشنز کے لیے یہ ایک عمدہ متبادل بن چکے ہیں۔

کاپر اور براس جیولری

تانبے (Copper) اور پیتل (Brass) سے بنے زیورات بھی اب دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں۔ ان کا رنگ اور ساخت ایک منفرد، دیسی اور روایتی احساس دیتی ہے۔ خاص طور پر ہاتھ سے بنے ہوئے جیولری پیسز میں یہ دھاتیں نہایت دلکش  لگتی ہیں۔ یہ زیورات نہ صرف کم قیمت ہوتے ہیں بلکہ ماحول دوست بھی سمجھے جاتے ہیں۔

بیڈز اور پتھروں کے زیورات

موتیوں، رنگ برنگے پتھروں اور بیڈز سے بنے زیورات نوجوان لڑکیوں میں خاصے مقبول ہیں۔ یہ زیورات لباس کے مطابق مختلف رنگوں میں دستیاب ہوتے ہیں اور ہر موقع کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کم قیمت ہونے کے باوجود ایک سٹائل سٹیٹمنٹ بن جاتے ہیں۔

ہینڈ میڈ اور کسٹم جیولری

آج کل ہینڈ میڈ اور کسٹمائزڈ جیولری کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ خواتین اپنی پسند، نام یا کسی خاص ڈیزائن کے مطابق زیورات بنوا رہی ہیں۔ یہ نہ صرف منفرد ہوتے ہیں بلکہ جذباتی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ مقامی ہنرمندوں کی بنائی ہوئی  جیولری کو فروغ دینا نہ صرف معیشت کے لیے بہتر ہے بلکہ ہمیں ایک الگ شناخت بھی دیتا ہے۔

پرلز (موتی)

موتی ہمیشہ سے نفاست اور وقار کی علامت رہے ہیں۔ سادہ موتیوں کا ہار یا بالیاں ہر عمر کی خواتین پر جچتی ہیں۔ یہ نہ زیادہ مہنگے ہوتے ہیں اور نہ ہی فیشن سے باہر ہوتے ہیں اسی لیے یہ ایک محفوظ اور دیرپا انتخاب ہیں۔اگرچہ یہ تمام متبادل زیورات سونے کے مقابلے میں سستے ہیں لیکن خریداری کرتے وقت معیار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اچھی کوالٹی کا انتخاب کریں تاکہ جلدی خراب نہ ہوں یا الرجی کا باعث نہ بنیں۔ اسی طرح موقع اور لباس کے مطابق زیورات کا انتخاب آپ کی شخصیت کو مزید نکھار سکتا ہے۔آج خواتین کے پاس کئی ایسے متبادل موجود ہیں جو نہ صرف خوبصورت اور جدید ہیں بلکہ جیب پر بھی بھاری نہیں۔ اصل خوبصورتی مہنگے زیور میں نہیں بلکہ اسے پہننے کے انداز اور اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر انتخاب سمجھداری سے کیا جائے تو کم قیمت زیورات بھی آپ کو اتنا ہی دلکش بنا سکتے ہیں جتنا سونا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

صاف ستھرا گھر، پرسکون زندگی

آرگنائزیشن کے سنہری اصول

آج کا پکوان:لزانیا

اجزا: دودھ: 1 لٹر، میکرونی: ایک پیکٹ، میدہ: دو کھانے کے چمچ، نمک: حسب ذائقہ، پسی کالی مرچ: ڈھائی چائے کا چمچ، انڈے: 4 یا 5 عدد

جگر مراد آبادی اثر انگیز شاعر

ان کا طرز شعر خوانی اپنے دور میں بہت مقبول رہا یہاں تک کہ لوگوں نے نقل کرنا شروع کر دی :میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےجگر شعر ترنم سے پڑھتے تھے اورموسیقی سے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ آواز بڑی لوچدار اور دلفریب تھی اسی لئے جس محفل میں وہ اپنا کلام سناتے، اسے نغمہ زار بنا دیتے تھے: جگر نے شاعری کی ابتدا فارسی سے کی‘ کچھ غزلیں فارسی میں کہیں لیکن جیسے جیسے ان کا رنگ نکھرتا گیا وہ اردو کی طرف آتے گئے اور پھر تمام تر صلاحیتیں اردو غزل کی آبیاری پر صرف کر دی

رشید حسن خاں :تحقیق اورجدید اصول تدوین

بیسویں صدی کے نصف اول میں حافظ محمود شیرانی، قاضی عبد الود ود، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور سید مسعود حسن رضوی کے تدوین کرد ہ بعض متن اور تدوین کی روایت کے محض ابتدائی نقوش ہی نہیں بلکہ مثالی نمونے ہیں۔

نیا فارمیٹ، کڑا امتحان:جوش وخروش پر سوالیہ نشان

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل)گیارہ: لیگ کے حوالے سے حالیہ فیصلے کرکٹ شائقین کیلئے حیران کن ہونے کیساتھ بحث طلب بھی ہیں: میچزلاہور اور کراچی تک محدود کرنا راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور کے شائقین کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں:جہاں 8 ٹیمیں لیگ کی عالمی ساکھ میں اضافہ کریں گی، وہیں تماشائیوں کی عدم موجودگی لیگ کے کمرشل ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے

جنت کا متلاشی (آخری قسط )

اُس انصاری نے کہا ’’ آپ نے جو کچھ دیکھا، بس یہی عمل تھا، میں تو اتنا ہی عمل کرتا ہوں‘‘۔