نیا فارمیٹ، کڑا امتحان:جوش وخروش پر سوالیہ نشان

تحریر : زاہداعوان


پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل)گیارہ: لیگ کے حوالے سے حالیہ فیصلے کرکٹ شائقین کیلئے حیران کن ہونے کیساتھ بحث طلب بھی ہیں: میچزلاہور اور کراچی تک محدود کرنا راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور کے شائقین کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں:جہاں 8 ٹیمیں لیگ کی عالمی ساکھ میں اضافہ کریں گی، وہیں تماشائیوں کی عدم موجودگی لیگ کے کمرشل ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کا گیارہواں ایڈیشن اپنی تاریخ کا سب سے منفرد اور مشکل ترین سیزن ثابت ہونے جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف 8 ٹیموں کی شمولیت سے ایونٹ کی وسعت میں اضافہ ہوا ہے، وہیں تماشائیوں کے بغیر خالی سٹیڈیمز اور صرف دو شہروں تک محدود شیڈول نے اس کے جوش و خروش پر سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔پی ایس ایل 11 کے حوالے سے حالیہ فیصلے کرکٹ شائقین کیلئے جتنے حیران کن ہیں، اتنے ہی بحث طلب بھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی)نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور ایندھن کے بحران کے پیش نظر ایونٹ کو محدود کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

میگا ایونٹ کا آغاز 26 مارچ سے قذافی سٹیڈیم لاہور میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز اور نئی ٹیم حیدرآباد کنگز مین کے درمیان افتتاحی میچ سے ہو چکا ہے۔جس میں لاہور قلندرز نے حیدرآباد کنگزمین کو 69 رنز سے شکست دی۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس میچ میں لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز بنائے۔قلندرز کے اوپننگ بلے باز فخر زمان نے 53 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، ان کا ساتھ 30 رنز کے ساتھ محمد نعیم نے دیا۔مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرتے ہوئے وکٹ کیپر بلے باز حسیب اللہ نے ناقابلِ شکست 40 رنز بنائے۔ سکندر رضا 24 اور آصف علی 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ شاہین آفریدی 12 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

حیدرآباد کینگزمین کی جانب سے میریڈتھ اور حسان خان نے 2، 2 جبکہ محمد علی نے ایک وکٹ لی۔ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے حیدرآباد کنگز مین ترنوالہ ثابت ہوئی اور لاہور کی تباہ کن بولنگ کے سامنے مقررہ 20 اوورز 130 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔قلندرز کی جانب سے عبید شاہ، سکندر رضا اور حارث رؤف نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ شاہین آفریدی اور متفیض الرحمان نے ایک ایک وکٹ لی۔

یہ سطور شائع ہونے تک مجموعی طور پر چار میچز ہوچکے ہیں اور لیگ میں شامل تمام 8ٹیمیں اپنا ایک، ایک میچ کھیل چکی ہیں۔ آج بروز اتوار بھی قذافی سٹیڈیم میں2میچز شیڈول ہیں جبکہ کل آرام کا دن ہے۔پہلی بار لیگ میں 6 کے بجائے 8 ٹیمیں(بشمول نئی ٹیمیں حیدرآباد کنگز مین اور راولپنڈی پنڈیز)مدمقابل ہیں۔اس ایڈیشن کامثبت پہلویہ ہے کہ زیادہ میچز(کل 44)اور نئے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے زیادہ مواقع ملیں گے،لیکن چیلنج یہ درپیش ہوگا کہ ٹیموں کی تعداد بڑھنے سے ٹیلنٹ کی تقسیم کا خطرہ ہوتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا مقامی ٹیلنٹ 8 ٹیموں کے معیار کو برقرار رکھ پائے گا؟ پی سی بی نے لاجسٹک مجبوری یا سٹریٹجک فیصلہ کرتے ہوئے لیگ کو 6شہروں کی بجائے صرف لاہور اور کراچی تک محدود کردیا ہے۔راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور کو شیڈول سے نکالنا ان شہروں کے شائقین کیلئے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ پشاور اور فیصل آباد میں میچز کا انعقاد ایک طویل عرصے سے مداحوں کا خواب تھا۔ پی سی بی نے یہ قدم ’’کفایت شعاری مہم‘‘ کے تحت سفری اخراجات اور سکیورٹی کے بھاری بوجھ کو کم کرنے کیلئے اٹھایا ہے۔ صرف دو شہروں میں رہنے سے ٹیموں کی نقل و حرکت آسان ہو گی، لیکن اس سے ’’ہوم گرائونڈ ایڈوانٹیج‘‘کا تصور ختم ہو کر رہ گیا ہے۔لیگ کا میلہ 39 دن جاری رہے گا، ایونٹ میں مجموعی طور پر فائنل سمیت 44 میچز کھیلے جائیں گے۔ایونٹ کے تمام میچز لاہور اور کراچی میں یکساں تعداد میں ہوں گے، قذافی سٹیڈیم اور نیشنل سٹیڈیم 22، 22 میچز کی میزبانی کریں گے۔پی ایس ایل 11کے ایلی منیٹر 1 اور 2 لاہور میں ہوں گے جبکہ کوالیفائر کی میزبانی کراچی کرے گا ، میگا کرکٹ ایونٹ کا فائنل بھی لاہور میں ہو گا۔

مختصر فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی کا تصور ہی شائقین کرکٹ کو سٹیڈیمز میں لانے کیلئے شروع کیاگیا تھا جو بڑا کامیاب رہا، اور لوگ تین سے چار گھنٹے کے میچ کیلئے آسانی سے وقت نکال کر اپنے پسندیدہ کرکٹ سٹارز کو براہ راست دیکھنے کیلئے میدان پہنچتے ہیں، دنیا بھر کی کرکٹ لیگز کی کامیابی کا دارومدار ہی تماشائیوں پر ہوتاہے۔ تماشائیوں کے بغیر میچزکو کرکٹ کا بے رنگ میلہ سمجھا جاتا ہے۔  چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا تماشائیوں کے بغیر میچز کرانے کا فیصلہ سب سے زیادہ متنازع رہا ہے۔ کرکٹ شائقین کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔ سٹیڈیم کا شور کھلاڑیوں کیلئے توانائی کا باعث ہوتا ہے۔ گیٹ منی(ٹکٹوں کی فروخت) سے ہونے والی آمدنی کا نقصان بھی فرنچائزز کیلئے ایک بڑا مالی بوجھ ہو گا۔ اب سارا انحصار ٹی وی اور ڈیجیٹل ویورشپ پر ہوگا۔ پی سی بی کو اپنی پروڈکشن کو اس قدر جاندار بنانا ہوگا کہ گھر بیٹھے شائقین سٹیڈیم کی کمی محسوس نہ کریں۔

پاکستان سپر لیگ 11 میں منتظمین نے نیا قانون متعارف کراتے ہوئے ٹورنامنٹ کو پر کشش بنانے کی کوشش کی ہے۔ نئے قانون کے مطابق ٹاس سے قبل دونوں کپتان میچ ریفری کو دو الگ الگ پلیئنگ الیون کی ٹیم شیٹ دیں گے۔ دونوں ٹیموں میں گیارہ گیارہ کھلاڑی اور چار چار متبادل ہوں گے۔ٹاس کے بعد کپتان کسی بھی ایک الیون کو فائنل کریں گے۔ جس ٹیم کو حتمی شکل دی جائے گی وہ تبدیل نہیں ہوسکے گی۔ میچ کے دوران وہی متبادل کھلاڑی ، متبادل فیلڈر کی حیثیت سے ایکشن میں ہوں گے جن کے نام شیٹ پر ہوں گے۔ قانون کے مطابق میچ ریفری غیر معمولی حالت میں متبادل کھلاڑی کو فیلڈنگ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ رپورٹ کے تجزئیے سے یہ واضح ہوتا ہے اگرچہ بھارت کی انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل)مجموعی درجہ بندی میں پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)سے آگے ہے، تاہم کھلاڑیوں کے حقوق، معاہدوں کی شفافیت اور گورننس کے بیشتر شعبوں میں پی ایس ایل کا نظام زیادہ مضبوط اور متوازن ہے۔

رپورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود آئی پی ایل کو 62.6 جبکہ پانچویں نمبر کی پی ایس ایل کو 48.0 پوائنٹس دئیے گئے تھے، لیکن اس فرق کی بنیادی وجہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں کو دی جانے والی غیر معمولی اہمیت ہے۔ رپورٹ کی ترتیب میں کھلاڑیوں کی مجموعی اوسط تنخواہ کو 45 فیصد دیا گیا ہے، جو کسی بھی لیگ کی مجموعی درجہ بندی پر فیصلہ کن اثر ڈالتا ہے۔

 آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی اوسط ہفتہ وار آمدن 59,041 امریکی ڈالر ہے،اس کے برعکس پی ایس ایل میں اوسط ہفتہ وار آمدن 16,579 ڈالر ہے، جو آئی پی ایل کے مقابلے میں تقریبا 28 فیصد بنتی ہے۔ تنخواہوں کی تفصیل کا گہرائی سے جائزہ لینے پر ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے، کم از کم تنخواہ کے معاملے میں پی ایس ایل نسبتاً بہتر نظر آتی ہے، جہاں کھلاڑیوں کو تقریباً 3,868 ڈالر ہفتہ وار ملتے ہیں، جو عالمی معیار کا 36.8 فیصد ہے، جبکہ آئی پی ایل میں یہ رقم تقریباً 2,300 ڈالر یعنی 22 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ایس ایل میں آمدن کی تقسیم نسبتاً زیادہ متوازن ہے۔

ریونیو شیئر کے معاملے میں بھی پی ایس ایل سبقت رکھتی ہے۔ گورننس اور کھلاڑیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی پی ایس ایل کئی شعبوں میں بہتر ثابت ہوئی ہے۔ تنازعات کے حل کے نظام کو پی ایس ایل میں آزاد اور غیر جانبدار قرار دیا گیا ہے، جہاں کھلاڑی اور منتظمین کے درمیان مسائل شفاف انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں آئی پی ایل کا نظام زیادہ تر اندرونی ہے، جس پر جانبداری کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ معاہدوں کے حوالے سے بھی واضح فرق موجود ہے۔ پی ایس ایل میں معاہدوں کو زیادہ متوازن اور یکطرفہ شقوں سے پاک قرار دیا گیا ہے، جبکہ آئی پی ایل میں ایسی شقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو منتظمین کو کھلاڑیوں کے معاہدے یکطرفہ طور پر تبدیل یا بڑھانے کا اختیار دیتی ہیں۔

کلیکٹو بارگیننگ کے معاملے میں بھی پی ایس ایل کو برتری حاصل ہے، جہاں کھلاڑیوں کی نمائندگی کے کچھ شواہد موجود ہیں، جبکہ آئی پی ایل میں اس نوعیت کا کوئی مضبوط یا آزاد ڈھانچہ موجود نہیں۔اسی طرح کھلاڑیوں کے کمرشل رائٹس کے حوالے سے بھی پی ایس ایل کا نظام نسبتاً بہتر ہے۔ پی ایس ایل میں کھلاڑیوں پر غیر ضروری پابندیاں کم ہیں اور وہ اپنی ذاتی برانڈنگ اور امیج کے استعمال پر کسی حد تک کنٹرول رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل اپنی کل آمدن کا تقریباً 32 فیصد کھلاڑیوں کودیتا ہے جبکہ آئی پی ایل میں یہ شرح صرف 8 فیصد ہے۔ 

پی ایس ایل11 اب صرف ایک کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پی سی بی کیلئے ایک''بحرانی انتظام''(Crisis  Management) کا امتحان بن چکا ہے۔ جہاں 8 ٹیمیں لیگ کی عالمی ساکھ میں اضافہ کریں گی، وہاں تماشائیوں کی عدم موجودگی لیگ کے کمرشل ماڈل کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حالات بہتر ہوتے ہی تماشائیوں کی واپسی پر غور کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک مثبت امید ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (آخری قسط )

اُس انصاری نے کہا ’’ آپ نے جو کچھ دیکھا، بس یہی عمل تھا، میں تو اتنا ہی عمل کرتا ہوں‘‘۔

فیضان نے دی عیدی

آج فیضان بہت خوش تھا، کیونکہ عید کی چھٹیاں ہونے والی تھیں لیکن ساتھ یہ رمضان کا مہینہ مکمل ہونے پر اداس بھی تھا۔ فیضان نے رمضان کا مہینہ بہت خوشی سے گزارا تھا۔

کھیتوں اور کھلیانوں کا پرندہ... بٹیر

بٹیر ایک مشہور اور جانا پہچانا پرندہ ہے، یہ ہمارے دیہی علاقوں میں عام ملتا ہے۔ اس پرندے کا تعلق پرندوں کے ایک بڑے خاندان، گالی فورمز (Galliformes) سے ہے۔ مرغی، مور اور تیتر بھی اس خاندان میں شامل ہیں۔

آؤ سنو! اک پیارا قصہ

آؤ سنو! اک پیارا قصہ کل ممی نے مجھ سے پوچھا

معلومات کا خزانہ

٭… زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور ایک چکر 365 دن میں مکمل ہوتا ہے۔٭… زمین کو ’’نیلا سیارہ‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا زیادہ حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

اچھی باتیں

٭… تین چیزیں محبت بڑھانے کا درجہ رکھتی ہیں، سلام کرنا، دوسروں کیلئے مجلس میں جگہ خالی کرنا، مخاطب کو بہترین نام سے پکارنا۔