آؤ سنو! اک پیارا قصہ
آؤ سنو! اک پیارا قصہ کل ممی نے مجھ سے پوچھا
کون سی تاریخ ہے بتاؤ!
ذہن کو اپنے کام میں لاؤ!
ذہن کو اپنے میں نے کھنگالا
لیکن کچھ بھی یاد نہیں آیا
پاپا جب بازار سے آئے
ساتھ ہی کچھ سامان بھی لائے
میں نے سب سامان کو رکھا
پھر ڈبوں کو کھول کے دیکھا
اک ڈبے میں کیک بھرا تھا
اس پر میرا نام لکھا تھا
نام کو پڑھ کر جان گئی میں
سالگرہ ہے ،مان گئی میں
(فراغ روہوی)