ریاض مجید:عہدِ حاضرکے بڑے نعت گو شاعر
ان کے پیرایہ اظہار پر قلبی واردات کے تسلسل بیاں کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے:انہوں نے نعتیہ مضامین میں رفعت فکر، پاکیزگی ارادت اور گداز ِجاں کو شامل کیا ہے‘ اس کے ساتھ پیکر الفاظ کو معانی بلند سے ہمنوا کرنے کیلئے ترکیب سازی بھی کی : ریاض مجید کا معجزنما قلم فکر کی ان بلندیوں کو چھوتا ہے جہاں دیگر نعت گو شعرا بڑی ریاضت کے بعد پہنچتے ہیں اس کی بنیادی وجہ گہرا شعور اور تاریخی مطالعہ ہے
مختصر حیات و خدمات
83سالہ ڈاکٹر ریاض مجید 13 اکتوبر 1942ء کو جالندھر کینٹ مشرقی پنجاب (بھارت) میں پیدا ہوئے۔1975ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ’’اردو میں گوئی نعت‘‘کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے مقالے کا خاکہ جمع کروایا اور اسی پہ انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔ڈاکٹر ریاض مجید نے نعت کے فن کی نازک خیالی اور اس کے تاریخی بیان کو سمویاہے، یہ تحقیق کی ایک نادر مثال ہے۔اس کتاب میں نعت کی پوری تاریخ تمام نعتیہ مجموعوں اور نعت گو شعراء کا تذکرہ نہایت خوبی سے ہوا ہے۔وہ گورنمنٹ کالج، فیصل آبادمیں تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ریاض مجید اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی شاعری کرتے ہیں۔
کتب
ان کی چند کتب درج ذیل ہیں۔ اللھم صل علیٰ محمد(اردو نعتیں )،سید نا محمد ﷺ(اردو نعتیں )،اللھم بارک علیٰ محمد(اردو نعتیں)، پس منظر(اردوغزلیں)،گزرے وقتوں کی عبارت(اردوغزلیں)،ڈوبتے بدن کا ہاتھ (اردو غزلیں)، خاک (اردو غزلیں)،انتساب (اردونظمیں)، نئی آوازیں(مرتب )،رفحان میں ایک شام(مرتب )،سید نا احمدﷺنعتیں(پنجابی نعتیں)،توے دے تارے(پنجابی نظمیں)،حی علی الثنا (نعتیہ بائیکوپنجابی)،پڑھ بسم اللہ(بچوں کیلئے نظمیں) ،خودی تے بے خودی(تنقید / اقبالیات)۔
اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ صنف نعت کاجو ربط و ضبط انسانی حیات سے ہے، اس کا متبادل دیگر اصناف سخن میں موجود نہیں۔ ایک کامل فن نعت گو محامدنبویہ پر اظہار ارادت کے وسیلے سے حقائق عالم اور مسلماتِ حیات کی چہرہ کشائی کرتا ہے۔ وہ اپنے اشعار میں اس جلیل القدر ہستی کا ذکر جمیل کرتا ہے، جو مقصودِ کائنات اور اصل ِممکنات ہے۔ دیگر اصنافِ سخن کی اثر انگیزی بہ وسائط ہے جبکہ نعت تعظیم و توقیر نبوی کے باعث مقصدیت کی امین ہے۔ تذکارِ سیرت نعت گوئی کی شکل میں ہو یا نعت خوانی کے رنگ میں، دونوں صورتیں تطہر فکر و عمل کی داعی اور اصلاح معاشرہ پر منتج ہیں۔
ریاض مجید کا اوّلین مجموعہ نعت ’’اللھم صل علی محمد‘‘ بار گاہ نبویﷺ میں مقتضیاتِ نعت عرفاں کی جانب ایک اہم قدم سمجھاجاتاہے۔ریاض مجید کی نعت کا ایک وصف خاص یہ ہے کہ وہ نعت میں حضور اکرمﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوئوں کو برملا بیان کرتے ہیں۔اس حوالے سے ان کی نعت جدید نعتیہ رنگ کا مکمل سراغ دیتی ہے۔ نعت گوئی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرت کے تمام تر پہلوئوں کو عام مسلمان کے جذبہ ایمانی کی تسکین کیلئے عمدگی اور مہارت کے ساتھ دل نشین پیرائے میں بیان کیا جائے۔ ریاض مجید کی نعت سیرت نگاری کے ضمن میں جدید نعت میں اپنی ایک الگ تھلگ پہچان رکھتی ہے۔
نعت نگاری کا عمومی انداز کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک نعت نگار حضورﷺ کی سیرت مبارکہ کے مختلف گوشوں پر اظہار کرتے ہوئے نعت کی تکمیل کرتا ہے مگر ریاض مجید نے ایک جداگانہ راہ بھی اختیار کی ہے، وہ یہ کہ فیضان نبویﷺ اور اس کے متعلقات میں سے کسی ایک موضوع پر مسلسل اشعار لکھتے ہوئے انہوں نے یک رنگی جذبات کو نظم کیا ہے کہ ان کی بعض نعتوں میں ایک باطنی کیف کی جزئیات نگاری دامن دل کھینچتی ہے اور پیرایہ اظہار پر قلبی واردات کے تسلسل بیاں کی چھاپ خاصی نمایاں نظر آتی ہے۔
ریاض مجید کی نعت کے ذریعے سے قاری کے دل میں حضور ﷺ کی ذات بابرکات کے مختلف پہلوئوں کا ادراک ہوتا ہے اور وہ ان کے عشق میں کیف و سرمستی کا اظہار کرتے ہوئے نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ درود شریف کے فیوض و برکات ان کے قلب و روح پر چھا جاتے ہیں، جن سے متاثر ہو کر وہ ایک رات میں کئی نعتیں لکھ لیتے ہیں۔
ریاض مجید درود غم کے عالم میں عصر حاضر کے باطنی اضطراب پر نظر دوڑاتے ہیں ہے تو نغمہ ہائے نعت کی طرف افرادِ امت کے قلوب کا میلان پاتے ہیں، جس کے باعث وہ روحانی طور پر ایک گونہ تسکیں محسوس کرتے ہیں اور یوں ذاتی کرب کا کتھارسس میسر آتا ہے۔ ان کی نعت ہمارے سامنے ایک ملی تشخص کے روپ میں بھی آتی ہے، جس میں ہمیں انسانیت پوری آب و تاب سے جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ احمد ہمدانی کی یہ رائے ریاض مجید کی نعت کی بابت درست نظر آتی ہے:
’’نعت گوئی صرف ہماری شاعری کی ایک صنف ہی نہیں بلکہ اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک منفرد عنصر بھی ہے۔ تہذیب و ثقافت کا عنصر ہونے کی حیثیت سے اس میں تہذیبی و ثقافتی تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں۔ ان مسلسل تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے ہم نہایت و ثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نعت گوئی ایک زندہ صنف ہے، جو اسلامی تعلیمات کی طرح زندگی کے ہر موڑ پر بھرپور معنویت کے ساتھ ہمیں اپنی طرف متوجہ رکھتی ہے‘‘۔
ارتقائے نعت کے سلسلے میں بھی ریاض مجید کی خدمات گراں بہا ہیں۔ انہوں نے نعتیہ مضامین میں رفعت فکر، پاکیزگی ارادت اور گداز ِجاں کو شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیکر الفاظ کو معانی بلند سے ہمنوا کرنے کیلئے ترکیب سازی بھی کی ہے۔ مگر ترکیب سازی کرتے ہوئے ان الفاظ کا انتخاب کیا ہے، جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے امیں اور اشعائر الہیہ کے علم بردار ہیں۔ یوں ریاض مجید کی نعت کے بارے میں کہنا درست ہوگا: ’’نعت عظمت و شوکت کے دنوں کی واپسی کا تمہید نامہ بھی ہے اور عظمت رفتہ کی بازیابی کی ایک شعوری سعی بھی۔ نعت ہمارے ثقافتی تشخص کا سب سے مربوط، محفوظ اور مضبوط حوالہ ہے‘‘۔
ریاض مجید نے نعت میں جس سپردگی اور دلی موانست کا اظہار کیا ہے، وہ ان کے جذبِ دروں کی عمدہ مثال ہے۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی مدحت سرائی میں جس عرق ریزی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بارے میں حافظ محمد افضل فقیر، رقمطراز ہیں: ’’ریاض مجید کی یہ عرق ریزی ،یہ سلسلہ ارتقائے نعت دیدنی ہے، اس کی افادیت کے دوسرے پہلو بھی قابل ستائش ہیں ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے عامۃ الناس کے ذوق نعت کی سطح کو بلند تر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کلاسیکی شعرا کی اقتدا میں خلق کی پسند و ناپسند سے مستغنی ہو کر زمزمہ پیرائی کی ہے۔ یہ امر ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا ہے کہ لفظ و معنی اور مضمون و بیاں کا رخ خلق کی بجائے موجب خلق کی طرف ہو‘‘۔
ریاض مجید معاصر شعرا کی ژولیدگی فکر اور پریشان خیالی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں نعت نگاری کی دعوت دیتے ہیں۔ ترویج نعت کے سلسلے میں یہ سعی مشکور ہے جس میں ایک فنکار کے ذہنی و قلبی انتشار کا علاج بھی مضمر ہے اور زاد آخرت بھی ہے۔جبکہ قوم و ملت کی رہبری و غم خواری اس پر مستزاد ہے۔
ریاض مجید نے حضور اکرم ﷺ کی مدحت سرائی میں شعور کی بلندیوں اور فکر کی جولانیوں کو، جو اوج عطا کیا ہے وہ یقیناً داد طلب ہے۔ ریاض مجید کی نعت کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر ریاض مجید عصر موجود میں اردو نعتیہ شاعری کا ایک معتبر نام ہے۔ ریاض مجید کو قدرت نے شعر گوئی کا سلیقہ اس فیاضی سے عطا کیا ہے کہ وہ عروض و قوافی کی حدود کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور انتخاب کلمات کے قرینے سے بھی بہرہ مند ہیں۔ محتاط الفاظ، صیقل کی ہوئی تراکیب اور شعور شریعت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے مفاہیم ریاض مجید کی شاعری کو عصر حاضر کا ممتاز اور لائق حوالہ مقام عطا کرتے ہیں‘‘۔
ریاض مجید بلاشبہ ہمارے عہد کے بڑے نعت گو شاعر ہیں انہوں نے نعت کے ضمن میں جو کام کیا ہے، وہ واقعی قابل صد تحسین ہے ان کا معجزنما قلم فکر کی ان بلندیوں کو چھوتا ہے جہاں دیگر نعت گو شعرا بڑی ریاضت کے بعد پہنچتے ہیں اس کی بنیادی وجہ ریاض مجید کا گہرا شعور اور تاریخی مطالعہ ہے۔ وہ دینی اعتبار سے بھی گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ صرف یہاں تک بس نہیں، وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ۔ ان کے عقید ہ کے در پردہ گہرا دینی شعور اور سیرت محمد ﷺ کے ایک ایک پہلو کا مطالعہ کار فرما ہے۔
نعتیہ کلام
ہم اپنے شاہؐ سے اُلفت ازل سے رکھتے ہیں
فقیر نعت یہ دولت ازل سے رکھتے ہیں
مطاف شہرِ مدینہ ہے اپنی روحوں کا
ہم اس زمیں سے عقیدت ازل سے رکھتے ہیں
غلام ازل سے ہیں ہم اُس نبیؐ کے نسل بہ نسل
یہ سلسلہ یہ روایت ازل سے رکھتے ہیں
گلہ گزار نہ دنیا نہ اہل دنیا کے
یہ وصف اہلِ طریقت ازل سے رکھتے ہیں
دل و مزاج کے پیدائشی اویسیؓ ہیں
ہم اہل جذب یہ نسبت ازل سے رکھتے ہیں
بہ فیض حُبِ نبیؐ فخر اپنے فن پر ہے
لبوں پہ آپ کی مدحت ازل سے رکھتے ہیں
انہیں خبر ہے کہ ہم انؐ کے امتی ہیں ریاض
وہ ہم پہ چشم عنایت ازل سے رکھتے ہیں
..........
فراق طیبہ کا سینے میں گھائو ڈالتے ہیں
اب اشک اور طرح کا کٹائو ڈالتے ہیں
ہیں پرامید بہت تیریﷺ شان رحمت سے
تیرے بھروسے سمندر میں نائو ڈالتے ہیں
اس آستاں کے سوا سائلوں کے کاسے میں
زرِ مراد کہیں پر بتائو ڈالتے ہیں؟
اویسؓ حال کہیں راستے میں رکتے نہیں
حرم پہنچ کے ہی پہلا پڑائو ڈالتے ہیں
درود پاک کے انوار سرمدی ہیں یہ شعر
یہ دل پہ اور طرح کا دبائو ڈالتے ہیں
مشاہدات سے کرتے ہیں عکس و لحن کشید
ثنا میں طرح نئی، ہمنوائو! ڈالتے ہیں
بہ شکلِ نعت، نشان و نقوشِ بخششِ رنگ
ریاض لوحِ زمانہ پہ آئو! ڈالتے ہیں
..........
حسنِ تہذیب کا اَتمام رسولِ عربیﷺ
تیرا اسوہ ترا پیغام رسولِ عربیﷺ
وقت کی روز بدلتی ہوئی تعبیروں میں
سرخرو ہیں تیرے احکام، رسولِ عربیﷺ
سلسلہ وحی کا لاریب ہوا تجھ پر ختم
تجھ پہ کامل ہوا اسلام، رسولِ عربیﷺ
نگراں میرے تغافل کی تری رحمت ہو
خود بخود ہوں مرے سب کام رسولِ عربیﷺ
فن میں خوبی ہے جو، صدقہ ہے تری نسبت کا
خیر ہر لفظ ترے نام، رسولِ عربیﷺ
رہے تذکار تری نعت، تری سیرت کا
میرے لب پر سحر و شام، رسولِ عربیﷺ
رخ میرے دل کا رہے تیری اطاعت کی طرف
بہ ہر انداز، بہ ہر گام، رسولِ عربیﷺ
ہے دُعا خاتمہ باالخیر ترے دین پہ ہو
عمر میری ہو خوش انجام، رسولِ عربیﷺ
لَو سکینت کی جو پاتا ہے دل اپنے میں ریاض
ہے تری نعت کا انعام، رسولِ عربیﷺ
..........
مدینے کا راستہ
ٹھہر ٹھہر کے مدینے کا راستہ طے کر
کچھ اور بھی ثمرِ اشتیاق پک جائے
گنبد خضرا
کسی مکاں میں بھی ایسا مکیں نہیں ہوگا
اس افتخار میں یکتا ہے گنبدِ خضرا
دعا، جو مانگتے ہیں آپ کے وسیلے سے
ہتھیلیوں پہ چمکتا ہے گنبد خضرا