مسائل اور ان کا حل

تحریر : مفتی محمد زبیر


پلاٹ کی زکوٰۃ ادا کرنے کا مسئلہ :سوال: تین دوستوں نے مل کرتجارت کی نیت سے ایک پلاٹ خریدا، پھر اس کی پوری کنسٹرکشن کروائی اب اسے فروخت کر رہے ہیں۔اس پر زکوۃ کا کیا طریقہ کار ہو گا اس کی مالیت پر ہوگی یاجب یہ فروخت ہو جائے گا تب ہو گی ؟ (عثمان بھٹی،جدہ )

جواب:مذکورہ پلاٹ اور اس پر ہونے والی تعمیر مال تجارت ہے، ہر صاحب نصاب شریک اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کے دن دیگر اموال کی زکوٰۃ کے ساتھ اس پلاٹ میں اپنے حصہ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر بھی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ 

ڈائیلاسز کے مریض کیلئے 

روزہ اور اس کی قضاء و فدیہ 

سوال: میں 3 سال سے ڈائیلاسز کرا رہا ہوں، میرے جگر اور معدے میں سوزش ہے، کیا میں روزہ چھوڑ سکتا ہوں؟ یہ علاج تو زندگی بھر ہو گا۔ (عظمت اللہ، کراچی)

جواب: اگر روزے کی طاقت ہے تو ڈائیلاسز کے باوجود روزے رکھیں، البتہ روزہ رکھنے سے مرض بڑھنے یا کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو روزہ چھوڑ سکتے ہیں۔ بعد میں صحت یابی کی امید ہو تو قضاء کرنا لازم ہے ورنہ فدیہ ادا کریں۔ نیز واضح رہے کہ ڈائیلاسز سے شرعاً روزہ نہیں ٹوٹتا۔

روزے کا فدیہ کون دے سکتا ہے؟

سوال :فدیہ کون دے سکتا ہے یعنی کوئی بیمار آدمی جو روزہ نہ رکھ سکے وہ فدیہ دے سکتا ہے ؟اور فدیہ کتنا ہوتاہے؟(عبداللہ ،شکر گڑھ)

جواب :ہر بیمار شخص فدیہ نہیں دے سکتا بلکہ کوئی بھی شخص مرض اور بیماری کی وجہ سے اگر روزہ نہ رکھ سکے اس پر بعد میں اس روزے کی قضا لازم ہے تاہم ایسا مریض جو بیماری کی وجہ سے ابھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو اور مستقبل میں بھی صحت بحال ہونے کی امید نہ ہو یا ایسا بوڑھا جو ابھی اور مستقبل میں بھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو اس کیلئے فدیے کا حکم ہے ۔وہ فدیہ دے گا اور ایک روزے کا فدیہ پونے دوسیر گندم یا اس کی قیمت ہے جوکسی مستحق زکوٰۃ پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ 

 نصاب سے زیادہ زکوٰۃ ادا کرنا 

سوال : میں نے سنا ہے کہ کسی شخص کو زکوٰۃ کی رقم اتنی نہیں دینی چاہئے کہ وہ خود صاحب نصاب بن جائے، میرا ایک دوست لاکھوں کا قرض دار ہے، کیا اسے میں نصاب سے زیادہ زکوٰۃ دے سکتا ہوں ؟(مزمل، کراچی )

جواب : آپ نے جو سنا ہے وہ درست ہے اور عام حالات میں کسی مستحق زکوٰۃ کو اتنی زکوٰۃ کی رقم دینا جس سے وہ خود صاحب نصاب بن جائے مکروہ تنزیہی ہے۔ اگر دے دی تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی تاہم اگر مستحق زکوٰۃ مقروض ہو تو اس کو بقدر قرض خواہ قرض جتنا بھی ہو تو اس کو مقدار نصاب سے زیادہ دے دینا بھی شرعاً درست ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

سولہ سالہ لڑکا تراویح کا امام؟

سوال :۔میرا سولہ سال ایک عزیز تراویح پڑھا رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے پیچھے تراویح نہیں ہوسکتی۔ آپ واضح فرمائیے کہ کیا سولہ سال کے لڑکے کے پیچھے تروایح پڑھ سکتے ہیں، اس کی داڑھی بھی نہیں آئی (جاویداکرم،  لاہور)۔

جواب :سولہ سال کی عمر کا لڑکا تراویح کی امامت کرسکتا ہے ،چاہے اس کی داڑھی نہ آئی ہو لہٰذا آپ کے عزیز کے پیچھے تراویح پڑھنا شرعاً درست ہے ۔

بیٹی کی ملکیت کئے جانے والے 

سونے کی زکوٰۃ کا معاملہ

سوال: میرے پاس ساڑھے 9 تولے سونا ہے۔3 تولے میں نے پہنا ہوا ہے باقی کم استعمال ہوتا ہے۔ اس کی زکوٰۃ میرے شوہر ادا کرتے ہیں۔ جو سونا رکھا ہوا ہے اس کا مالک میں نے بیٹی کو بنا دیا ہے۔ اس کو میں ہاتھ بھی نہیں لگائوں گی۔کیا اس سونے کی زکوٰۃ ہوگی ؟ بیٹی کی عمر 10 سال ہے (علی حیدر، حیدر آباد)۔

جواب: جو سونا آپ نے 10 سالہ بچی کی ملکیت کردیا ہے تو جب تک وہ نابالغ ہے اس وقت تک اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور نہ اس میں آپ کو کسی طرح کے تصرف کا اختیار ہے ، اور جو سونا آپ کی ملکیت ہے (اگر وہ قابل زکوٰۃ ہو یعنی مثلا ًساڑھے سات تولہ سونا ہو یااس سے کم ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ کچھ نقدی یا چاندی ہوتو ) اس کی زکوٰۃ آپ پر لازم ہے ،چاہے آپ خود اداکریں یا آپ کی اجازت سے آپ کے شوہر ادا کریں۔ دونوں صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ آیت 38 میں بتایاکہ اللہ کی قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر:چوبیسویں پارے کا آغاز سورۂ زمر سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔

صدقہ فطر

اسلامی معاشرتی نظام کا ایک خوبصورت مظہر

رمضان کا آخری عشرہ

’’رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے‘‘ (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

معبودِبرحق: اس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: ’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں معبودبرحق کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

مردمومن کی تبلیغ:تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰسٓ سے ہوتا ہے۔ بائیسویں پارے کے آخر میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مردِ مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی عبادت کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اوراسی کی طرف مجھے پلٹ کر جانا ہے۔