صدقہ فطر

تحریر : مفتی ڈاکٹر محمدکریم خان


اسلامی معاشرتی نظام کا ایک خوبصورت مظہر

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ عبادات کے ذریعے جہاں بندہ اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کرتا ہے وہیں اسلامی تعلیمات معاشرے میں ہمدردی، مساوات اور باہمی تعاون کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہیں۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ایمان، تقویٰ اور عبادات کی بہار لے کر آتا ہے، اور اسی بابرکت مہینے کے اختتام پر شریعت مطہرہ نے مسلمانوں پر صدقہ فطر کو واجب قرار دیا ہے تاکہ روزوں میں ہونے والی کمی و کوتاہی کی تلافی ہو اور معاشرے کے محروم و نادار طبقات بھی عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ 

صدقہ فطر دراصل اسلامی معاشرتی نظام کا ایک خوبصورت مظہر ہے جو دولت مند اور غریب کے درمیان محبت، اخوت اور مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے ذریعے معاشرے میں فقر و احتیاج کے اثرات کم ہوتے ہیں اور عید کے موقع پر کسی محتاج کو دستِ سوال دراز کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ رسول اکرمﷺ نے اس صدقہ کو روزہ دار کیلئے طہارت اور مساکین کیلئے کفالت قرار دیا ہے (ابو داؤد: 1609)۔ آج کے دور میں جہاں مہنگائی، معاشی عدم توازن، بے روزگاری اور سماجی ناہمواری جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، وہاں صدقہ فطر کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ ذیل میں صدقہ فطر کے اہم شرعی مسائل، احادیث مبارکہ اور فقہی توضیحات کی روشنی میں پیش کی جا رہی ہیں۔

صدقہ فطرکاحکم

صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے،حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓکابیان ہے: رسول اللہﷺ نے فطرانے کی زکوٰۃ فرض فرمائی ہے، کہ ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جَو، ہر غلام اور آزاد مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان کی طرف سے، اور اسے لوگوں کے نماز عید کیلئے نکلنے سے پہلے ہی ادا کر دیا جائے(صحیح بخاری:1503)۔ علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:صدقہ فطراداکرناواجب ہے،اس لیے کہ احادیث مبارکہ میں صدقہ فطراداکرنے کاحکم دیا گیا ہے (عمدۃ القاری،ج9،ص155)۔

 وجوب کی شرائط

صدقہ فطر کے واجب ہونے کی تین شرائط ہیں۔ (1) مسلمان ہونا،(2) آزادہونا،(3) صاحب نصاب یعنی غنی ہونا۔ علامہ حصکفی ؒلکھتے ہیں: صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں۔(درمختار،کتاب الزکاء، ج3، ص 365)۔ اورکسی ایسے شخص کواس کامالک بناناہے جوفقیر،غیرصاحب نصاب ہواورہاشمی نہ ہو۔

صدقہ فطر احادیث مبارکہ کی روشنی میں

صدقہ فطر کے فضائل ومسائل کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ واردہوئی ہیں ان میں سے چندایک درج ذیل ہیں۔حضرت ابو سعید خدری ؓفرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر کا ایک صاع کھانا نکالا کرتے، یا ایک صاع جَو،یا ایک صاع کھجوریں، یا ایک صاع پنیر ،یا ایک صاع کشمش میں سے(صحیح مسلم:985)۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا : صدقہ فطر نماز عید کیلئے جانے سے پہلے ادا کیا جائے(صحیح مسلم: 986)۔ حضرت سلیمان بن عامر ؓسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (روزہ) افطار کرے تو کھجور سے کرے کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاک ہے، نیز فرمایا مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے لیکن رشتہ دار پر صدقہ دو چیزیں ہیں، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی (جامع ترمذی:658)۔

 حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کابیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر کو فرض فرمایا، جو روزہ داروں کی لغویات اور بیہودہ باتوں سے پاکی ہے اور غریبوں کی پرورش کیلئے ہے۔ جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے، اور جس نے اسے نماز عید کے بعد ادا کیا تو یہ دوسرے صدقات کی طرح ایک صدقہ ہو گا ( ابو داؤد:1609)۔حضرت عبد اللہ بن ابی صعیر ؓ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: گندم کا ایک صاع (صدقہ فطر) تم میں سے ہر چھوٹے بڑے، آزاد وغلام، مرد و عورت، غنی اور فقیر پر فرض ہے۔ غنی کو اللہ تعالیٰ (اس کے ذریعے) پاک کر دیتا ہے اور فقیر جتنا دیتا ہے اس کی طرف اس سے زیادہ اسے واپس لوٹا دیا جاتا ہے(مسنداحمد:23714)۔

حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓنے رمضان کے آخر میں بصرہ شہر کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو۔ لوگ کچھ نہ سمجھے تو انہوں نے فرمایا جو یہاں مدینہ منورہ کے رہنے والے ہیں وہ اپنے بھائیوں کے پاس جائیں اور انہیں بتائیں ،کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر کو مقرر فرمایا ہے یعنی ایک صاع کھجوریں یا جَو اور نصف صاع گندم ہر آزاد، غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے کی طرف سے۔ جب حضرت علی ؓ تشریف لائے اور غلے کی فراوانی دیکھی تو فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں وسعت دی ہے لہٰذا ہر چیز کا ایک صاع رکھ لو۔ (ابو داؤد: 1619)

صدقہ فطرکے مسائل

صدقہ فطرکے چندضروری مسائل حسب ذیل ہیں۔

٭…جس شخص کیلئے زکوٰۃ لیناجائز ہے اس پر صدقہ فطراداکرناواجب نہیں، اور جو شخص ساڑھے باون تولہ چاندی کا مالک نہ ہو،اس کیلئے صدقہ فطر لینا جائز ہے۔ (التمہید، ج5، ص530)

٭…صدقہ فطر واجب ہے، عمر بھر اس کا وقت ہے یعنی اگر ادا نہ کیا ہو تو اب ادا کر دے۔ ادا نہ کرنے سے ساقط نہ ہوگا، نہ اب ادا کرنا قضا ہے بلکہ اب بھی ادا ہی ہے، اگرچہ مسنون قبل نمازِ عید ادا کر دینا ہے۔( درمختار،  ج3، ص362 )۔

٭… صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں، لہٰذا مر گیا تو اس کے مال سے ادا نہیں کیا جائے گا۔ ہاں اگر ورثہ بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہوسکتا ہے کچھ ان پر جبر نہیں۔ اگر وصیّت کر گیا ہے تو تہائی مال سے ضرور ادا کیا جائے گا( الجوہرہ النیرہ، ص174)

٭… عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا ،یاغنی تھا فقیر ہوگیا ،یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا ،یا بچہ پیدا ہوا ،یا فقیر تھا غنی ہوگیا ،تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔( فتاویٰ ھندیہ،ج1، ص192)

٭… صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر، جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں۔ (درمختار، ج3، ص362-365)

٭… نابالغ یا مجنون اگر مالک نصاب ہیں تو ان پر صدقہ فطر واجب ہے، ان کا ولی ان کے مال سے ادا کرے، اگر ولی نے ادا نہ کیا اور نابالغ بالغ ہوگیا یا مجنون کا جنون جاتا رہا تو اب یہ خود ادا کر دیں(درمختار، ج3،ص365)

٭…صدقہ فطر ادا کرنے کیلئے مال کا باقی رہنا بھی شرط نہیں، مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ واجب رہے گا ، ساقط نہ ہوگا۔ زکوٰۃ و عشر مال ہلاک ہو جانے سے ساقط ہو جاتے ہیں (درمختار،ج3، ص366)۔

٭…صدقہ فطر واجب ہونے کیلئے روزہ رکھنا شرط نہیں، اگر کسی عذر، سفر، مرض، بڑھاپے کی وجہ سے یا بلاعذر روزہ نہ رکھا،تب بھی صدقہ فطراداکرنا واجب ہے(ردالمحتار، ج3، ص367)۔

٭…باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتی کی طرف سے اس پر صدقہ دینا واجب ہے (درمختار، ج3،ص368)۔ماں پراپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ دینا واجب نہیں۔ (ردالمحتار ،ج3،ص368)

صدقہ فطر کی مقدار 

(1)گندم یا اس کا آٹا یا ستّو نصف صاع، (2) کھجور یا (3)کشمش یا (4)جَو یا اس کا آٹا یا ستّو ایک صاع(فتاویٰ ہندیہ ،ج1)۔ موجودہ وزن میں ایک صاع کا وزن ساڑھے چارسیرہے اور آدھا صاع دو سیراور تقریباً پینتالیس گرام کا بنتا ہے۔ مختلف آمدنی رکھنے والے طبقات اپنی اپنی آمدن اور مالی حیثیت کے مطابق سوادوسیرگندم کی قیمت سے لے کر ساڑھے چار سیر کشمش کی قیمت تک کسی بھی مقدار کو صدقہ فطر کے طور پر ادا کریں، تاکہ غرباء و مستحقین کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ اگر فطرانہ میں اس مقدار کے برابر قیمت دے دی جائے تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ محتاجوں کو اس سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ 

 صدقہ فطر کے مصارف

صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں انھیں فطرانہ بھی دے سکتے ہیں اور جنھیں زکوٰۃ نہیں دے سکتے، انھیں فطرانہ بھی نہیں دے سکتے (درمختار، ج3، ص379)۔ مصارِف میں سے بہتر یہی ہے کہ فقراء و مساکین کو ترجیح دی جائے۔ ایک شخص کا فطرانہ ایک مسکین کو دینا بہتر ہے اور چند مساکین کو دے دیا تو بھی جائز ہے۔(درمختار ،ج3،ص377) اورصدقہ فطر اجتماعی طور پر کسی ایک محتاج کو بھی دیا جا سکتا ہے۔

صدقہ فطر اسلام کی ایک عظیم سماجی عبادت ہے جو عبادت اور انسانیت دونوں کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ یہ عبادت نہ صرف روزوں کی روحانی تکمیل کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرے کے کمزور اور نادار افراد کی کفالت کا بہترین نظام بھی ہے۔ اگر مسلمان صدقہ فطر کو اخلاص اور صحیح نیت کے ساتھ ادا کریں تو معاشرے میں محبت، ہمدردی اور مساوات کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی عبادات کو صحیح طورپہ اداکرنے، صدقہ فطر کو صحیح طریقے سے ادا کرنے اور اس کے حقیقی مقاصد کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ آیت 38 میں بتایاکہ اللہ کی قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر:چوبیسویں پارے کا آغاز سورۂ زمر سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔

رمضان کا آخری عشرہ

’’رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے‘‘ (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)

مسائل اور ان کا حل

پلاٹ کی زکوٰۃ ادا کرنے کا مسئلہ :سوال: تین دوستوں نے مل کرتجارت کی نیت سے ایک پلاٹ خریدا، پھر اس کی پوری کنسٹرکشن کروائی اب اسے فروخت کر رہے ہیں۔اس پر زکوۃ کا کیا طریقہ کار ہو گا اس کی مالیت پر ہوگی یاجب یہ فروخت ہو جائے گا تب ہو گی ؟ (عثمان بھٹی،جدہ )

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

معبودِبرحق: اس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: ’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں معبودبرحق کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

مردمومن کی تبلیغ:تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰسٓ سے ہوتا ہے۔ بائیسویں پارے کے آخر میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مردِ مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی عبادت کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اوراسی کی طرف مجھے پلٹ کر جانا ہے۔