بچوں کی تعلیم اور کامیابیوں میں والدین کا کردار

تحریر : سائرہ ظفر


بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اس معاشرے کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ سکول، اساتذہ اور تعلیمی ادارے بچوں کو علم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر بات شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور مستقل کامیابی کی ہو تو اس کی اصل بنیاد گھر میں رکھی جاتی ہے۔ والدین بچوں کے پہلے استاد ہوتے ہیں اور ان کا کردار تعلیم کے ہر مرحلے پر نہایت فیصلہ کن ہوتا ہے۔

ابتدائی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری

بچوں کی ذہنی نشوونما کا آغاز پیدائش کے فوراً بعد ہو جاتا ہے۔ والدین کا بچوں سے بات کرنا، انہیں کہانیاں سنانا، سوالات کے جواب دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ابتدائی تعلیم کی شکلیں ہیں۔ ایسے گھروں میں جہاں والدین بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، مطالعے کی عادت ڈالتے ہیں اور سیکھنے کو خوشگوار عمل بناتے ہیں وہاں بچے سکول میں زیادہ پراعتماد اور متجسس  نظر آتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق ابتدائی عمر میں والدین کی توجہ اور رہنمائی بچوں کی زبان، یادداشت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔ یہی بنیاد آگے چل کر تعلیمی کامیابیوں کی صورت اختیار کرتی ہے۔

تعلیمی ماحول کی فراہمی

والدین کی ایک بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھر میں ایسا ماحول فراہم کریں جو تعلیم کے لیے سازگار ہو۔ اس کا مطلب صرف مہنگے سکول یا جدید کتابیں نہیں بلکہ منظم روٹین، مطالعے کے لیے پرسکون جگہ اور تعلیم کی اہمیت پر یقین شامل ہے۔جب والدین خود کتاب یا اخبار پڑھتے ہیں، خبریں دیکھتے یا سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں تو بچے بھی لاشعوری طور پر اس رویے کو اپناتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر گھر میں ہر وقت موبائل فون، ٹی وی یا غیر ضروری مصروفیات کا غلبہ ہو تو بچے کی توجہ بکھر جاتی ہے۔

حوصلہ افزائی اور اعتماد سازی

تعلیم میں کامیابی صرف اچھے نمبروں کا نام نہیں بلکہ خود اعتمادی، مستقل مزاجی اور ناکامی سے سیکھنے کا ہنر بھی اسی کا حصہ ہے۔ والدین اگر ہر وقت بچوں کا موازنہ دوسروں سے کریں یا ناکامی پر سخت ردِعمل دیں تو بچے میں خوف اور دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس وہ والدین جو کوشش کو سراہتے ہیں، غلطیوں کو سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں اور بچوں کی صلاحیتوں پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں وہ بچوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ یہی حوصلہ بعد میں زندگی کی بڑی کامیابیوں کا ذریعہ بنتا ہے۔

والدین اور اساتذہ کا رابطہ

بچوں کی تعلیمی بہتری کے لیے والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط رابطہ نہایت ضروری ہے۔ پیرنٹ ٹیچر میٹنگز میں شرکت، بچوں کی کارکردگی پر گفتگو اور اساتذہ کی تجاویز پر عمل بچوں کے تعلیمی مسائل بروقت حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔اگر کسی بچے کو کسی مضمون میں دشواری ہو تو والدین کا بروقت توجہ دینا، اضافی مدد کا انتظام کرنا یا استاد سے مشورہ کرنا بچے کو احساس دلاتا ہے کہ اس کی تعلیم والدین کے لیے اہم ہے۔

اخلاقی تربیت اور کردار سازی

تعلیم صرف نصابی علم تک محدود نہیں بلکہ اخلاقیات، برداشت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا شعور بھی اسی کا حصہ ہے۔ یہ اوصاف سکول سے زیادہ گھر میں سیکھے جاتے ہیں۔ والدین کا رویہ، گفتگو اور فیصلے بچوں کے لیے عملی مثال ہوتے ہیں۔سچ بولنا، دوسروں کا احترام کرنا اور محنت کی قدر کرنا وہ اقدار ہیں جو والدین اپنے عمل سے بچوں میں منتقل کرتے ہیں۔ ایسے بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔

جدید دور کے چیلنجز 

آج کے دور میں سوشل میڈیا، موبائل فون اور ڈیجیٹل گیمز بچوں کی توجہ پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ والدین کا کردار یہاں مزید اہم ہو جاتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے درست اور متوازن استعمال کی نگرانی کریں۔ بچوں کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو پہچاننا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے نہیں ہوتا؛ کوئی فنون، کھیل، تحقیق یا تخلیقی شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ والدین کی مثبت رہنمائی بچوں کو اپنی صلاحیت کے مطابق راستہ اختیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔بچوں کی تعلیم اور کامیابیوں میں والدین کا کردار محض معاون نہیں بلکہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ باشعور، باخبر اور ذمہ دار والدین بچوں کو نہ صرف اچھا طالب علم بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنا سکتے ہیں۔ اگر والدین محبت، رہنمائی اور اعتماد کے ساتھ بچوں کا ساتھ دیں تو وہ تعلیمی میدان میں بھی یقینا کامیاب ہوں گے اور عملی زندگی میں بھی ان شاء اللہ باوقار مقام حاصل کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

7ویں برسی:ڈاکٹر جمیل جالبی عظیم محقق،ادیب اور نقاد

علمی خدمات کا درخشاں باب، فکر و تحقیق کا معتبر حوالہ:انہیں ’’ تاریخ ادب اردو ‘‘لکھنے کا خیال5 196 ء کے آس پاس آیا تھا۔ اس کی پہلی جلد 1975ئمیں شائع ہوئی اس میں قدیم دور آغاز سے 1750ء تک کی داستان قلم بند ہے‘

مرزا غالب کی عصری معنویت

شاعری اپنے مزاج اور ماہیت کے اعتبار سے کسی مخصوص زمانے میں شاعر کے وجدان یا تجربات و مشاہدات کا عکس تو ضرور ہوتی ہے مگر معرضِ اظہار میں آتے ہی وہ لا زمانی بھی بن جاتی ہے۔

تماشائیوں کے بغیرپاکستان سپر لیگ

کرکٹ میلہ یا مجبوری کا سودا؟پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن کسی حد تک اداس کن منظرنامے کے ساتھ شروع ہوا، جس کی مثال ماضی میں صرف کورونا دور کی ملتی ہے:جنگ بندی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ سٹیڈیم کے دروازے تماشائیوں کیلئے مکمل طور پر کھول دئیے جائیں،تاکہ قومی لیگ روایتی جوش و خروش اورخوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو

نیشنل سٹیڈیم کراچی :ریکارڈز کی نئی لہر

پاکستان سپرلیگ11کادوسرامرحلہ:پشاور زلمی نے سٹیڈیم کو ریکارڈز کی کتاب میں ایک نیا باب عطا کر دیا: دونوں نئی فرنچائزز حیدرآباد کنگزمین اور راولپنڈیز کی کارکردگی متاثرکن نہیں رہی ، دونوں پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے ، پلے آف مرحلے میں رسائی کے آثار معدوم

فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔