پی ٹی آئی کا احتجاج کیوں کارگر نہیں؟

تحریر : سلمان غنی


حکومت نے تمام تر تحفظات کے باوجود لاہور میں بسنت کی تقریبات منعقد کر کے صوبائی دارالحکومت کو پنجاب کے ثقافتی رنگوں سے رونق بخشی۔

بسنت منانے کے فیصلے کا اثر آٹھ  فروری کو پی ٹی آئی کی احتجاجی کال پر بھی نظر آیا اورپی ٹی آئی کے لوگوں نے احتجاجی کال کا حصہ بننے کے بجائے بسنت کی تقریبات میں وقت گزارا،جس سے احتجاجی کال کو شدید دھچکا لگا۔ لاہور کے شہریوں کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے  قواعد و ضوابط کا خیال رکھا اور پرامن انداز میں بسنت کی تقریبات سے ثابت کیا کہ اگر حکومت تفریح کے مواقع دے تو لوگ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعے کی وجہ سے حکومت پر دباؤ تھا کہ بسنت کی تقریبات کو منسوخ کر دیا جائے لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنی سرکاری تقریبات تو منسوخ کیں مگر لوگوں کوبسنت سے نہیں روکا گیا۔جہاں تک پی ٹی آئی کے بائیکاٹ یا احتجاجی سیاست کا تعلق ہے تو یہ بات پہلے سے کہی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اس حد تک خراب ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کی پوزیشن میں نہیں۔ پنجاب  تومیں اس پارٹی کی پوزیشن کمزور نظر آتی ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی کوئی بڑی احتجاجی سیاست دیکھنے کو نہیں ملی۔یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی باہر بیٹھی قیادت نے یہ فیصلہ  کر لیا ہے کہ ہمیں کسی بڑے احتجاجی سیاست کا حصہ نہیں بننا ۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے پیچھے بھی پس پردہ مفاہمت کی سیاست تھی۔اسی طرح پی ٹی آئی کی قیادت احتجاج نہ کرنے کے حوالے سے بھی تقسیم نظر آئی ۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ہمیں بلا وجہ آٹھ مئی کو بنیاد بنا کر حکومت اور مقتدرہ کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہیں کرنی۔اسی طرح حکومت کی جو حکمت عملی تھی کہ عمران خان کی ملاقات آٹھ فروری تک کسی سے نہ کروائی جائے اس میں بھی حکومت کافی حد تک کامیاب نظر آئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ عمران خان کاایسا کوئی بیان احتجاجی تحریک کے حوالے سے نہیں ا ٓیا جس کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی کو بڑی تحریک چلانے کی تحریک مل سکتی۔ اب ایک بات ثابت ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی کوئی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسا نظر آتا ہے کہ ان کے پاس ایسی صلاحیت ہو گی کہ حکومت کیلئے دباؤ پیدا کر سکیں۔ایسے لگتا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو مجبور کر دیا ہے کہ احتجاجی سیاست سے نکل کر پارلیمانی سیاست کی طرف آئے اور پارلیمان میں کردار ادا کرے۔

ویسے بھی پی ٹی آئی میں ایک بڑا گروپ پارٹی قیادت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ہمیں اس وقت پارلیمانی سیاست میں کردار ادا کرنا چاہیے اسی سے ہمارے لیے سیاسی راستے کھل سکتے ہیں۔پی ٹی آئی کا وہ گروپ جو احتجاجی سیاست چاہتا ہے اس کی زبان اور لب و لہجے میں اب مفاہمت کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں ۔ ایسے لگتا ہے پی ٹی آئی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اس کے پاس مفاہمت کی سیاست کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد بلوچستان کا دورہ کیا اور بلوچستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور جس طرح سرکاری وسائل ان کی معاونت پر خرچ کرنے کی بات کی ہے اس کا مثبت اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب ہر صورت میں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بلوچستان کے ساتھ اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف کھڑے ہیں بلکہ اپنے مالی وسائل بھی بلوچستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی میں خرچ کریں گے۔مریم نواز نے دہشت گردوں کو یہ پیغام بھی دیاکہ وہ بلوچستان کو اکیلا مت سمجھیں پنجاب سمیت پورا پاکستان  دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے اور ہم مل کر اس دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتیں گے۔

 دوسری طرف ایک اچھی پیش رفت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ، وفاقی حکومت اورمقتدرہ کے درمیان ہم آہنگی دیکھنے کو مل رہی ہے اور ایک مشترکہ حکمت عملی بھی سامنے آرہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ وفاقی حکومت اور مقتدرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک طرف ہے اور کے پی کے کے وزیراعلیٰ یا ان کی حکومت دوسری طرف کھڑی ہے ۔یہ پیش رفت اس تاثر کی نفی کرتی ہے۔  اس کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ہونے والی ملاقات کو بھی جاتا ہے جس میں اس پہ اتفاق کیا گیا کہ ہمیں دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے اور اس تناظر میں جو غلط فہمیاں ہیں ان کو دور کرنا بنیادی طور پر ضروری ہے۔اس ملاقات  کا اچھا تاثر قائم ہوا اور اب ایسے لگتا ہے کہ وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومت ایک پیج پر ہیں اور دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کر رہی ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کے پیچھے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں اور ان کی سر پرستی بھارت اور افغانستان کر رہے ہیں۔ جب تک ہم ان کا مقابلہ نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

دوسری طرف پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز اور وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانا حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہے۔پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا ہماری حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور وہ اس بات کے حامی ہیں کہ یہ  انتخابات مستقبل میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ ہی ہونے چاہئیں ،اور اس سلسلے میں جوقانون سازی درکار ہے وہ ہونی چاہیے کیونکہ جب تک وفاق میں بلدیاتی اداروں کے بارے میں مکمل قانون سازی  نہیں ہوگی یا آئینی ترامیم کا سہارا نہیں لیا  جائے گا اس وقت تک صوبوں میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانا صوبائی حکومتوں کے لیے  ممکن نہیں ہو سکے گا۔اس وقت تین صوبوں میں تو بلدیاتی ادارے موجود ہیں لیکن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 2015ء کے بعد سے اب تک نہیں ہو سکے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب میں بھی فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے اور انتخابات کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کے مقامی مسائل مقامی دہلیز پر حل ہو سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ماہ صیام اور حضور اکرم ﷺ کے معمولات

’’تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو، جس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کردیا جاتا ہے‘‘ (الترغیب والترہیب) ’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما‘‘(المعجم الاوسط) ’’جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن وہ پیدا ہوا تھا‘‘ (النسائی)

رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار

یہ گنتی کے چند دن ہیں زیادہ وقت عبادات اور باعث اجر کاموں پر لگائیں

حیا:ایمان کی روح، کردار کی بنیاد

انسانی سیرت کی وہ خوبی اور خصلت جو اسے ایسی باتوں سے محفوظ رکھے جو اللہ کی ناراضی کا سبب بننے والی ہو اور ان کاموں پر آمادہ کرے جو رب کی رضا کے باعث ہوں اسے حیا کہتے ہیں۔

رمضان کی تیاری

نیت، عمل اور اخلاق، رمضان کا مکمل سبق

مسائل اور ان کا حل

قضا ء نمازکس وقت ادا کی جائے ؟ سوال: جو نماز قضاء ہوجائے وہ کس وقت ادا کی جاسکتی ہے۔ کیا مستقبل میں اسی نماز کے وقت میں اداکرنا لازمی ہے؟ (نصیر عالم، فیصل آباد )

نئی سولر پالیسی نے بجلی گرا دی !

پاکستان میں سولر سسٹم کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ ایوانِ سیاست میں بحث کا موضوع بن چکا ہے کیونکہ پاور ڈویژن اور نیپرا کی جانب سے جاری کئے گئے نئے ریگولیشنز نے سولر صارفین پربجلی گرا دی ہے۔