ایفل ٹاور

تحریر : (اربش انجم، فیصل آباد)


ایفل ٹاور دنیا کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں واقع ہے۔

ایفل ٹاور کو 1889ء میں بنایا گیا تھا جوبعد میں فرانس کی پہچان بن گیا۔

یہ ٹاور لوہے سے بنایا گیا ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً 300 میٹر ہے، یعنی اگر ہم 100 منزلہ عمارت کا تصور کریں تو ایفل ٹاور اس سے بھی اونچا ہے۔اس کے تین حصے ہیں۔ اوپر سے پورا پیرس شہر نظر آتا ہے۔ نیچے دریا، سڑکیں، گاڑیاں اور عمارتیں بہت چھوٹی لگتی ہیں، جیسے کھلونے ہوں۔رات کے وقت ایفل ٹاور اور بھی حسین ہو جاتا ہے۔ اس پر ہزاروں روشنیاں جلتی ہیں جو اسے جگمگاتا ہوا بنا دیتی ہیں۔ 

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ محنت، علم اور تخلیق انسان کو عظیم بنا دیتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون: سورہ مؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات تعلیماتِ اسلامی کی جامع ہیں‘ ان میں فلاح یافتہ اہلِ ایمان کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ نمازوں میں خشوع وخضوع‘ ہر قسم کی بیہودہ باتوں سے لاتعلقی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ اپنی پاکدامنی کی حفاظت‘ امانت اور عہد کی پاسداری اور نمازوں کی پابندی۔ آخر میں فرمایا کہ ان صفات کے حامل اہلِ ایمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون:اٹھارہویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام یعنی فردوس کا وارث بننے والا ہے۔

غزوہ بدر:حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

17رمضان المبارک کو ملنے والی فتح اسلام کی عالمگیر ترویج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی:اسے قرآن کی اصطلاح میں ’’یوم الفرقان ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ:اخلاق و کردار کا روشن مینار

خادمہ ہونے کے باوجود آپؓ نبی کریم ﷺ کے کام خود انجام دیتیں، آٹا پیستیں، کھانا پکاتیں، بستر بچھاتیں: سیدہ عائشہ ؓسے مروی احادیث کی تعداد 2210 ہے، کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا، حج کی پابند تھیں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔