ایفل ٹاور

تحریر : (اربش انجم، فیصل آباد)


ایفل ٹاور دنیا کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں واقع ہے۔

ایفل ٹاور کو 1889ء میں بنایا گیا تھا جوبعد میں فرانس کی پہچان بن گیا۔

یہ ٹاور لوہے سے بنایا گیا ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً 300 میٹر ہے، یعنی اگر ہم 100 منزلہ عمارت کا تصور کریں تو ایفل ٹاور اس سے بھی اونچا ہے۔اس کے تین حصے ہیں۔ اوپر سے پورا پیرس شہر نظر آتا ہے۔ نیچے دریا، سڑکیں، گاڑیاں اور عمارتیں بہت چھوٹی لگتی ہیں، جیسے کھلونے ہوں۔رات کے وقت ایفل ٹاور اور بھی حسین ہو جاتا ہے۔ اس پر ہزاروں روشنیاں جلتی ہیں جو اسے جگمگاتا ہوا بنا دیتی ہیں۔ 

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ محنت، علم اور تخلیق انسان کو عظیم بنا دیتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (چوتھی قسط )

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے۔ ہمیشہ عبادت میں مصروف رہتے۔ دن میں روزہ رکھتے اور راتوں کو اپنے اللہ کے حضور عجزو انکسار کے ساتھ نوافل ادا کرتے۔

تحفہ

فیضان بہت ہی معصوم سا بچہ تھا۔ وہ گھر میں ہونے والی تیاریوں اور چہل پہل کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے مشاہدے کے بعد اپنی دادی سے پوچھنے لگا۔ ’’دادی یہ سب کیا ہے؟ کیا کوئی آنے والا ہے؟‘‘۔

اقوال زریں

٭… کام سے غلطی، غلطی سے تجربہ، تجربے سے عقل، عقل سے خیال اور خیال سے نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔

مکھن ٹیکس

ایک بادشاہ بہت سی جائیداد کا مالک تھا۔ ہر سال بادشاہ مقامی لوگوں سے مکھن کا ٹیکس وصول کرتا تھا۔ اگر وہ مکھن کا ٹیکس ادا نہ کرتے تو وہ انھیں سخت سزائیں دیتا تھا۔

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہےان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

ذرا مسکرایئے

استاد (شاگرد سے) :بلبل کا مذکر بتاؤ؟شاگرد:جناب بلبلہ۔