فیض احمد فیض روایت اور انفرادیت سے کہیں آ گے

تحریر : ڈاکٹر نصرت آرا چودھری


انہیں بجا طور پر انہیں نئے شعری معیار کا امام سمجھا جا سکتا ہے:دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیضؔ، نئے دبستان کا بانی

فیض احمد فیض 13 فروری 1911ء کو پنجاب کے ضلع نارووال کے نواحی گاؤں کالا قادرمیں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی اور عربی میں ایم اے کیا۔1935ء میں امرتسر کے محمڈن اورینٹل کالج میں بحیثیت لیکچرر ملازمت شروع کی۔9 مارچ 1951ء کو لیاقت علی خاں کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش (راولپنڈی سازش کیس) میں معاونت کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ چار سال سرگودھا، حیدر آباد اور کراچی کی جیلوں میں گزارے۔ 2 اپریل 1955ء کورہاہوئے۔ 1958 میں سیفٹی ایکٹ کے تحت فیض کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔قید خانوں میں فیض پر جو گزری سو گزری مگر اردو شاعری کا دامن بہت ثروت مند کر گئے۔ جیل میں فیض نے دو کتابیں لکھیں’’ دست صبا‘‘ اور’’ زندان نامہ‘‘۔1960ء میں رہائی ملی اور وہ پہلے ماسکو اور وہاں سے لندن چلے گئے۔ 1962ء میں ان کو لینن امن انعام ملا۔  20 نومبر 1984ء کو اردو شاعری کے نئے دبستان کے بانی فیض احمد فیض نے وفات پائی۔1990ء میں حکومت پاکستان نے ان کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوار ’’نشان امتیاز‘‘ سے نوازا۔   

ہر ادیب اپنے عہد کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس کی شکست و ریخت ، بازیافت، تعمیر و ترقی، انحطاط اور زوال سب براہ راست اس کے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے ماحول، اپنے گرد و پیش سے دست و گریباں ہو جائے مگر ہر بڑی ذہنی اذیت ہر حادثہ اس کے ذہن کی آبیاری کرتا ہے۔فیض جس وقت اردو ادب کے افق پر طلوع ہوئے وہ کم و بیش ایسا ہی دور تھا۔ نئے تجربے ہو رہے تھے، شعرا زیادہ تر مغربی شعر و ادب کی تقلید میں شاعری کر رہے تھے جسے پرانا اور روایتی ذہن پوری طرح سے قبول بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ اُس زمانے میں فیض ایک پُل بن کر سامنے آئے جو روایت کی سنگلاخ چٹانوں کو تجربوں کی پر خار وادی سے ملاتا ہے۔ اس تعلق سے اردو شاعری میں ایک نئے معیار کی بنیاد رکھی گئی ۔ بجا طور پر فیض کو اس نئے شعری معیار کا امام سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ سوال یقینی طور پہ اہم ہے کہ فیض نے اپنی روایات سے تعلق برقرار رکھتے ہوئے اپنے عہد کے تقاضوں کو کیسے ملحوظ نظر رکھا؟اپنے عہد کی  سیاسی اور تہذیبی تحریکات اور رجحانات سے ہوتے ہوئے شعری روایت کو کیسے برقرار رکھا؟ فیض کی ابتدائی دور کی شاعری کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتدا روایتی موضوعات سے ہی کی۔ ان کے شروع کے کلام میں ان کے ہاں عشقیہ موضوعات کا رنگ نمایاں ہے۔ عشق و محبت کا موضوع اُردو شاعری کا روایتی اور محبوب موضوع ہے۔ ولی دکنی سے لے کر موجودہ دور تک تقریباً سب ہی شعرا نے اس میں طبع آزمائی کی ہے، لیکن جب ایک تخلیقی فن کار اس مرحلے سے گزرتا ہے تو وہ اپنے داخلی جذبات کو شاعرانہ رنگ عطا کرتا ہے۔ اردو شعری روایات میں اس جذبے کے اظہار کی خوب صورت مثالیں موجود ہیں۔ فیض کے یہاں عشقیہ موضوعات کا تذکرہ غزلوں اور نظموں دونوں میں ملتا ہے۔ فیض کی شاعری کے ابتدائی دور میں جب ان کے نازک احساسات و جذبات محبت کی پرخار وادیوں سے روشناس ہوئے تو ان کی شاعری نے ایک واضح رنگ اختیار کیا اور انہوں نے اپنے جذبات و احساسات کو شعری پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جذبہ عشق نے ان کے خوابیدہ شعری سوتوں کو جگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ محبت کا حادثہ فیض کی زندگی اور شاعری کیلئے اہم محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بات پر اکثر نقاد متفق ہیں کہ ان کی زندگی میں حادثہ محبت نے ان کے شعری وجود کو متحرک کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔فیض کی شاعری کی ابتدا عشقیہ موضوعات سے ہوئی، اس لئے ان کی ابتدائی نظموں میں محبت اور خود فراموشی کا جذبہ ہر مصرع سے مترشح ہے۔ ان نظموں کو پڑھتے ہوئے اس جذباتی طوفان کا اندازہ ہوتا ہے جو اُن کی ذات کے اندر برپا تھا۔ فیض کا جذبہ عشق مختلف کیفیات مثلاً انتظار، جدائی، وصل اور درد و کرب پر حاوی ہے۔

فیض کی محبت اُردو کے عام روایتی شعرا کی طرح روایت کی تقلید میں عشق کی کوئی فرضی داستان نہیں۔ ابتدا میں کلاسیکی شعرا میں عشق ماورائی تصور کے ساتھ ابھرا اور محبوب کو ایک اہم ہستی قرار دیا گیا، جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ فیض نے عشقیہ موضوعات میں روایت کے تصور سے انحراف کرکے جدید رویے کو روا رکھا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عشق ان کی زندگی کی حقیقی واردات کا اظہار ہے۔ جذبہ عشق نے ان کی شخصیت کی خوابیدہ قوتوں کو بیدار کیا۔ ان کے دل میں لاکھوں آرزوئوں کو جگایا ہے اور آزوئوں کی ناکامی کے نتیجے میں ان کا دل ناامیدیوں، اداسیوں اور محرومیوں سے گزرا ہے اور انوکھے انداز میں اس کا اظہار کیا ہے۔ فیض عشق کے معاملے میں روایتی انداز کے حق میں نہیں جس میں عشق کو مثالی یا ماورائی بنایا گیا ہے۔ وہ عشق کے تجربوں کو انسانی سطح پر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے پیچھے ان کا جلی وجود کار فرما ہے ،یہی وجہ ہے کہ عشق کے معاملے میں وہ آزاد روی سے کام لیتے ہیں۔

 محبت کا جذبہ فیض کی شاعری میں مرکزی محرک کا درجہ رکھتا ہے، یہی وہ جذبہ ہے جس نے انہیں شعر کہنے پر اکسایا اور اپنے دل و دماغ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد دی۔ ان کے جذبات اور احساسات میں آتشیں لہریں پیدا ہوئیں اور انہیں نئے نئے تجربات ہاتھ آئے۔ ان کی عشقیہ شاعری چونکہ ان کے وجود کی گہرائیوں سے نکلی ہے اس لئے یہ حقیقی رنگ لئے ہوئے ہے۔فیض اپنی عشقیہ شاعری کے ابتدائی دور میں ذات میں کھوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے ساتھ ہی سرگوشیاں کر رہا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عشق کو خارجی حقائق سے الگ کرکے دیکھتے ہیں۔ یا زندگی سے بالکل لاتعلق ہیں، ایسا نہیں ہے زندگی سے ان کا تعلق ہے مگر براہ راست نہیں، جیسا کہ ن م راشد نے کہا ہے، وہ عشق کے تعلق سے زندگی اور سماج کی تلخ حقیقتوں کو محسوس کرتے ہیں ۔ اختر جمال فیض کے نشاطیہ اور حزنیہ پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’ فیض کی عشقیہ شاعری میں ایک ایسا دور گزرا ہے جو ان کے لہجے اور آہنگ کے ساتھ مل کر ایک لطیف مسرت کا احساس پیدا کرتا ہے، اور ایک درد بھری خوشی، خاص طور پر ایام اسیری میں کہی ہوئی نظموں میں یہ بات زیادہ ہے۔ ہجر میں بھی وہ اس کی یاد سے وصال کے مزے لیتے ہیں۔ اس کی یاد کی ٹھنڈک اس کے پیراہن کی خوشبو، اس کے زلف کی مہک، ان سب چیزوں  کا ذکر جہاں رنگینی، رعنائی اور حسن پیدا کرتا ہے، وہاں ایک بے نام سی اداسی بھی چھا جاتی ہے‘‘۔

فیض کی عشقیہ شاعری ان کے جذباتی خلوص کے ساتھ ساتھ ان کے احساسِ جمال کی تابناکیوں اور رنگینیوں کو بھی پیش کرتی ہے۔ وہ ازل سے ایک حسن شناس دل لے کر آئے اور زندگی کے حسین جلوئوں کو مرکز نگاہ بناتے ہیں۔ انہیں فطرت کے حسین مظاہر سے دلی وابستگی ہے، حسن ان کے لئے دائمی سرچشمہ مسرت ہے؛ چنانچہ حسن و عشق کے کوائف مظاہر  اور نیرنگیوں کا ذکر بھی ان کے یہاں ایک حسن پرستی کے جذبے کے تحت ہوتا ہے، خاص کر محبوب کی شخصیت ان کیلئے جمالیاتی لذتوں اور لطافتوں کا مرکز بن جاتی ہے۔وہ رنگ پیراہن جلوہ بہار،بیاضِ رخ، چشم میگوں مخملیں بانہیں، آتش گل، تابش حنا، مخمور نگاہیں اور دلدار نظر سے اپنے جمالیاتی شعور کا احساس دلاتے ہیں۔ ان کی پوری شاعری میں عشق کا عنصر کار فرما ہے ۔

’’ نقش فریادی‘‘ سے لے کر میرے دل میرے مسافر‘‘ تک تقریباً سبھی مجموعوں میں عشق کا موضوع نمایاں رنگ میں جلوہ گر ہے۔ عشق کی رو فیض کے ذہن میں کچھ اس طرح آہستہ خرام اور غیر محسوس طور پر رہی کہ وہ عشق کے گرداب میں گرفتار نظر آتے ہیں۔ ہر طرح کے موضوعات کو عشقیہ قالب میں ڈھال کر پیش کیا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حقیقت نگاری اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود عشق اور حقیقت کو دو خانوں میں تقسیم نہیں کیا ۔ بنیادی طور پر اُن کی شاعری پر عشق کا ہی تاثر رہتا ہے۔ یہ تاثر ان کے ہر شعر میں کار فرما ہے اور حسین  منظر کی تصویر میں ڈوبتے ابھرتے رنگوں کا پس منظر آتا ہے۔ عشق کے موضوع کے دائمی رنگ  کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے  شاعری کے اس موضوع کو جس پر پوری اردو شاعری کی روایت قائم ہے کو مسلسل برقرار رکھا۔

فیض کی غزلیں

شرح بے دردیٔ حالات نہ ہونے پائی

اب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائی

پھر وہی وعدہ جو اقرار نہ بننے پایا

پھر وہی بات جو اثبات نہ ہونے پائی

پھر وہ پروانے جنہیں اِذنِ شہادت نہ ملا

پھر وہ شمعیں کہ جنہیں رات نہ ہونے پائی

پھر وہی جاں بلبی، لذت مے سے پہلے

پھر وہ محفل جو خرابات نہ ہونے پائی

پھر دم دید رہے چشم و نظر دید طلب

پھر شب وصل ملاقات نہ ہونے پائی

پھر وہاں بابِ اثر جانیے کب بند ہوا

پھر یہاں ختم مناجات نہ ہونے پائی

فیض سر پر جو ہر اک روز قیامت گزری

ایک بھی روز مکافات نہ ہونے پائی

…………

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا

رنگ بدلے کسی صورت شب ِ تنہائی کا

دولت لب سے پھراے خسرو شیریں دہناں

آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا

گرمیٔ رشک سے ہر انجمن ِگل بدناں

تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا

صحنِ گلشن میں کبھی اے شہِ شمشاد قداں

پھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کا

ایک بار اور مسیحائے دلِ دل زدگاں

کوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کا

دیدۂ و دل کو سنبھالو کہ سر شام فراق

سازو سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا

منتخب اشعار

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

…………

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب

آج تم یاد بے حساب آئے

…………

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

…………

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

…………

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا

تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

…………

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

…………

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

…………

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

…………

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

…………

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

…………

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

…………

خوبصورت کلام

کب تک دل کی خیر منائیں، کب تک رہ دکھلائو گے

کب تک چین کی مہلت دو گے ،کب تک یاد نہ آئو گے

بیتا دید امید کا موسم، خاک اڑتی ہے آنکھوں میں

کب بھیجو گے درد کا بادل، کب برکھا برسائو گے

عہدِ وفا یا ترکِ محبت جو چاہو سو آپ کرو

اپنے بس کی بات ہی کیا ہے، ہم سے کیا منوائو گے

کس نے وصل کا سورج دیکھا، کس پر ہجر کی رات ڈھلی

گیسوئوں والے کون تھے ،کیا تھے، ان کو کیا جتلائو گے

فیض دلوں کے بھاگ میں ہے، گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی

تم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اترائو گے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کی تعلیم اور کامیابیوں میں والدین کا کردار

بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اس معاشرے کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ سکول، اساتذہ اور تعلیمی ادارے بچوں کو علم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

موسم بہار کے صحت پر اثرات

رہنمائی، احتیاط اور مفید مشورے

آج کا پکوان:چکن وائٹ کڑاہی

اجزا:چکن :آدھا کلو،پیاز :تین عدد، لہسن کا پیسٹ : آدھا چائے کا چمچ،ادرک :ایک انچ کا ٹکڑا باریک کٹا ہوا،ہری مرچ: باریک کتری ہوئی 3 عدد،پسی کالی مرچ؛

فیض کا منفرد اسلوب

کسی شاعر کے فنِ شاعری اور شعری محاسن کا اندازہ اس کے اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نمائندہ اور عہد ساز شعرا کی شاعری میں ان کے عہد کا تہذیبی شعور جھلکتا ہے۔

ٹی 20ورلڈ کپ2026ء:پاکستان کا فاتحانہ آغاز

عالمی کپ کے پہلے میچ میں شاہینوں کے ہاتھوں نیدر لینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست

پاکستانی اعلان، بھارت نوازآئی سی سی پریشان

پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار:پاکستان بائیکاٹ کے اعلان پر نظر ثانی کرے:سری لنکا کا پی سی بی کو خط،ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026ء میں بنگلہ دیش کیخلاف جانبدارانہ فیصلے کے بعد پاکستانی ردعمل نے آئی سی سی اور بھارت کی نیندیں اڑا دیں