موسم بہار کے صحت پر اثرات

تحریر : اقصیٰ احمد


رہنمائی، احتیاط اور مفید مشورے

موسمِ بہار کو خوشیوں، رنگوں، پھولوں اور خوشگوار موسم کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ سردی کی شدت کم ہو جاتی ہے، دن معتدل اور راتیں خوشگوار ہو جاتی ہیں، فضا میں تازگی آ جاتی ہے اور قدرت ایک نئے انداز میں مسکراتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جہاں یہ موسم ذہنی سکون اور خوشی لاتا ہے، وہیں صحت کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی پیش کرتا ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ خواتین چونکہ گھریلو ذمہ داریوں، بچوں کی دیکھ بھال، پیشہ ورانہ مصروفیات اور سماجی فرائض سب ایک ساتھ نبھاتی ہیں، اس لیے موسم کی تبدیلی ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ موسمِ بہار میں الرجی، جلدی مسائل، ہارمونل تبدیلیاں، ذہنی دباؤ اور کمزوری جیسے مسائل عام دیکھے جاتے ہیں۔

موسمِ بہار کے مثبت اثرات

سب سے پہلے خوش آئند پہلوؤں پر نظر ڈالیں تو موسمِ بہار خواتین کے موڈ پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ سورج کی روشنی بڑھنے سے جسم میں وٹامن ڈی کی پیداوار بہتر ہوتی ہے جو ہڈیوں، قوتِ مدافعت اور ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اس موسم میں چہل قدمی، ورزش اور باہر کی سرگرمیوں کا رجحان بڑھتا ہے جو وزن کو متوازن رکھنے اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔پھلوں اور سبزیوں کی تازہ فصلیں دستیاب ہوتی ہیں، جیسے اسٹرابیری، آلو بخارا، پالک، میتھی اور ہری سبزیاں، جو غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں اور جسم کو ڈی ٹاکس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ممکنہ منفی اثرات اور صحت کے مسائل

موسمِ بہار کے ساتھ کچھ صحت کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں:

 الرجی اور سانس کے مسائل:فضا میں پولن (زرِگل) کی مقدار بڑھنے سے نزلہ، چھینکیں، آنکھوں میں خارش، گلا خراب ہونا اور سانس کی تکالیف عام ہو جاتی ہیں۔ دمہ کی مریض خواتین کے لیے یہ موسم خاص طور پر حساس ہو سکتا ہے۔

 جلد کے مسائل:درجہ حرارت میں اضافہ اور پسینہ بڑھنے سے جلد پر دانے، خارش، الرجی اور ایکنی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین میں سورج کی روشنی سے جلد پر دھبے بھی پڑ جاتے ہیں۔

 ہارمونل اور ذہنی اثرات:موسم کی تبدیلی ہارمونز پر اثر ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں تھکن، چڑچڑاپن، نیند کی کمی یا بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔ کچھ خواتین میں موسمی ڈپریشن یا موڈ سوئنگز بھی دیکھے گئے ہیں۔

 قوتِ مدافعت میں کمی:درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی سے جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ سکتا ہے، جس سے فلو، بخار اور انفیکشنز کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

 مفید مشورے

موسم بہار میں ہلکی اور غذائیت سے بھرپور غذا استعمال کریں۔ ہری سبزیاں، تازہ پھل، دہی، دلیہ اور دالیں غذا کا حصہ بنائیں۔ زیادہ تلی ہوئی اور مصالحے دار اشیاء سے پرہیز کریں کیونکہ یہ الرجی اور معدے کے مسائل بڑھا سکتی ہیں۔اکثر خواتین موسم معتدل ہونے کی وجہ سے پانی کم پیتی ہیں، جو غلطی ہے۔ دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی ضرور پئیں تاکہ جسم میں نمی برقرار رہے اور جلد صحت مند رہے۔اگر آپ کو پولن الرجی ہے تو صبح سویرے یا تیز ہوا میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔ باہر سے آ کر ہاتھ، منہ اور ناک اچھی طرح دھوئیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی الرجی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔دھوپ میں نکلتے وقت سن سکرین کا استعمال کریں، ہلکے اور سوتی کپڑے پہنیں، اور پسینہ آنے کی صورت میں جلد کو صاف رکھیں۔ کیمیائی بیوٹی پراڈکٹس کے بجائے قدرتی اجزاپر مشتمل اشیابہتر رہتی ہیں۔ہلکی پھلکی ورزش یا واک نہ صرف جسم کو فِٹ رکھتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی کم کرتی ہے۔ گھریلو خواتین بھی گھر کے اندر سٹریچنگ یا ہلکی ورزش کر سکتی ہیں۔موسمِ بہار میں دن لمبے ہونے کے باعث نیند کا معمول متاثر ہو سکتا ہے۔ سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کریں، موبائل فون کے زیادہ استعمال سے بچیں اور ذہنی سکون کے لیے تلاوت، ذکر یا مطالعہ کو معمول بنائیں۔موسم بہار قدرت کا حسین تحفہ ہے جو اگرچہ تازگی اور خوشی لاتا ہے مگر صحت کے حوالے سے احتیاط بھی ضروری ہے۔ خواتین اگر متوازن غذا، مناسب آرام، صفائی اور ذہنی سکون کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو وہ اس موسم کے مثبت اثرات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور ممکنہ بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ صحت مند خاتون ہی صحت مند خاندان اور معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے اپنی صحت کو ترجیح دینا ہر عورت کا حق اور ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

7ویں برسی:ڈاکٹر جمیل جالبی عظیم محقق،ادیب اور نقاد

علمی خدمات کا درخشاں باب، فکر و تحقیق کا معتبر حوالہ:انہیں ’’ تاریخ ادب اردو ‘‘لکھنے کا خیال5 196 ء کے آس پاس آیا تھا۔ اس کی پہلی جلد 1975ئمیں شائع ہوئی اس میں قدیم دور آغاز سے 1750ء تک کی داستان قلم بند ہے‘

مرزا غالب کی عصری معنویت

شاعری اپنے مزاج اور ماہیت کے اعتبار سے کسی مخصوص زمانے میں شاعر کے وجدان یا تجربات و مشاہدات کا عکس تو ضرور ہوتی ہے مگر معرضِ اظہار میں آتے ہی وہ لا زمانی بھی بن جاتی ہے۔

تماشائیوں کے بغیرپاکستان سپر لیگ

کرکٹ میلہ یا مجبوری کا سودا؟پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن کسی حد تک اداس کن منظرنامے کے ساتھ شروع ہوا، جس کی مثال ماضی میں صرف کورونا دور کی ملتی ہے:جنگ بندی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ سٹیڈیم کے دروازے تماشائیوں کیلئے مکمل طور پر کھول دئیے جائیں،تاکہ قومی لیگ روایتی جوش و خروش اورخوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو

نیشنل سٹیڈیم کراچی :ریکارڈز کی نئی لہر

پاکستان سپرلیگ11کادوسرامرحلہ:پشاور زلمی نے سٹیڈیم کو ریکارڈز کی کتاب میں ایک نیا باب عطا کر دیا: دونوں نئی فرنچائزز حیدرآباد کنگزمین اور راولپنڈیز کی کارکردگی متاثرکن نہیں رہی ، دونوں پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے ، پلے آف مرحلے میں رسائی کے آثار معدوم

فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔