تحفہ

تحریر : طوبیٰ سعید


فیضان بہت ہی معصوم سا بچہ تھا۔ وہ گھر میں ہونے والی تیاریوں اور چہل پہل کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے مشاہدے کے بعد اپنی دادی سے پوچھنے لگا۔ ’’دادی یہ سب کیا ہے؟ کیا کوئی آنے والا ہے؟‘‘۔

 دادی جان جو کہ تلاوتِ قرآنِ پاک میں مصروف تھیں، فیضان کے سوال پر مسکرائیں اور بولیں: ’’میرے پیارے معصوم بیٹے! میں آپ کو بتائوں کہ ہمارے ہاں واقعی ایک بہت اچھا مہمان آرہا ہے۔ جو بہت ساری اللہ کی خاص نعمتیں، برکتیں اور رحمتیں لیے ہمارے ہاں آرہا ہے‘‘۔ 

فیضان یہ سب غور سے سن رہا تھا اور ساتھ میں حیران بھی تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد حیران ہو کر بولا: ’’دادی پلیز! بتائیں نا کہ کون آرہا ہے ہمارے گھر‘‘۔

 دادی مسکرائیں اور بولیں بیٹا: مبارک ترین مہینہ رمضان آرہا ہے۔ رمضان اللہ کا ایک خاص مہینہ ہے۔ اس کے تین حصے رحمت، مغفرت اور نجات ہیں۔ اللہ پاک اس مہینے جہنم کے تمام  دروازے بند کردیتا ہے اور جنت کے تمام دروازے کھول دیتا ہے۔ مطلب اللہ تعالیٰ کا یہ خاص مہینہ ہم سب کیلئے باعث برکت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ایک خاص انعام بھی ہے۔ رمضان کے  روزے رکھنا اور اللہ کی عبادت کرنا ہم پر فرض ہے اور اس طرح اللہ بھی بہت خوش ہوتا ہے ‘‘۔

 فیضان نے سنا تو خوشی سے کھل اٹھا اور بولا: ’’دادی جان میں بھی رمضان کے روزے رکھوں گا اور ساتھ میں اللہ کی عبادت کروں گا‘‘۔ 

دادی بولیں: ’’ابھی آپ چھوٹے ہو، جب تھوڑے اور بڑے ہوگے تو روزے رکھنا‘‘۔ 

’’نہیں دادی جان میں رکھ لوں گا، آپ بے فکر رہیں میں سکول بھی جائوں گا۔ روزے بھی رکھوں گا اور نمازیں بھی پڑھوں گا ‘‘ فیضان نے تو جیسے اپنا پورا شیڈول بتادیا۔ 

رمضان شروع ہوا تو سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ ایک دوسرے سے رمضان کو لے کر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 سحری کا وقت ہوا تو فیضان بھی منہ ہاتھ دھو کر   باہر آگیااور سب میں بیٹھ کر سحری کرنے لگا۔ اس کے بعد اس نے روزے کی نیت کی تو اس کی امی نے کہا! ’’بیٹا آپ ابھی چھوٹے ہو۔ ابھی روزہ نہ رکھو اور اگر رکھنا ہے تو آدھا رکھ لو۔ آپ نے تو سکول بھی جانا ہے نا ‘‘ اس کی امی بولیں تو وہ کہنے لگا ’’نہیں میں پورے روزے رکھوں گا‘‘ ۔

فیضان نے فجر کی نماز اپنے ابو کے ساتھ مسجد جا کر پڑھی۔ سکول کیلئے اٹھا تو اس کی امی نے ناشتہ کروانا چاہا، مگر اس نے کچھ نہ کھایا۔ لنچ دیا تو بھی اس نے کچھ نہ لیا۔ سکول سے آیا تو بھی کچھ نہ کھایا بلکہ نماز پڑھ کر آرام کیا اور پھر سکول کا کام کیا۔ اور پھر افطارکے وقت سب کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ 

امی اور دادی اس سے بہت خوش ہوئیں اور اس کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ فیضان نے دس روزے رکھے تو اس کی دادی نے اگلے روز افطار سے کچھ دیر قبل اسے ایک خوبصورت تحفہ دیا اور وہ تھا ایک بہت ہی خوبصورت قرآن مجید اور دوسرا نمازوں کا چارٹ تاکہ فیضان نمازوں کا پوری طرح پابند ہوجائے اور قرآن کو سمجھ کر خوشدلی سے پڑھے۔

 فیضان دادی کا دیا ہوا تحفہ پاکر بہت خوش ہوا اور اس تحفے کو اپنے لیے بہترین تحفہ قرار دیا اور دادی کے گلے لگ کر امی ابو اوردادی سے کہا ’’میں سارے روزے رکھوں گا اور عبادت کروں گا،ان                شاء اللہ۔ نہ صرف اب بلکہ بعد میں بھی‘‘ ۔

یہ سن کر سب بہت خوش ہوئے اور سب نے مل کر روزہ افطار کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

اعتکاف قرب الٰہی کا سنہری موقع

اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے(بیہقی) ’’جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے‘‘ (طبرانی، بیہقی)

صلوٰۃ التسبیح گناہوں کی معافی کا عظیم تحفہ

ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، وہ ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ہے۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں۔

مسائل اور ان کا حل

تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدیوں کا پیچھے بیٹھے رہنا سوال:۔ جب حافظ صاحب تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز تراویح شروع کر دیتے ہیں، تو عموماً مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بلا عذر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور جب حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً کھڑے ہو کر رکوع میں شامل ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔