تحفہ
فیضان بہت ہی معصوم سا بچہ تھا۔ وہ گھر میں ہونے والی تیاریوں اور چہل پہل کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے مشاہدے کے بعد اپنی دادی سے پوچھنے لگا۔ ’’دادی یہ سب کیا ہے؟ کیا کوئی آنے والا ہے؟‘‘۔
دادی جان جو کہ تلاوتِ قرآنِ پاک میں مصروف تھیں، فیضان کے سوال پر مسکرائیں اور بولیں: ’’میرے پیارے معصوم بیٹے! میں آپ کو بتائوں کہ ہمارے ہاں واقعی ایک بہت اچھا مہمان آرہا ہے۔ جو بہت ساری اللہ کی خاص نعمتیں، برکتیں اور رحمتیں لیے ہمارے ہاں آرہا ہے‘‘۔
فیضان یہ سب غور سے سن رہا تھا اور ساتھ میں حیران بھی تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد حیران ہو کر بولا: ’’دادی پلیز! بتائیں نا کہ کون آرہا ہے ہمارے گھر‘‘۔
دادی مسکرائیں اور بولیں بیٹا: مبارک ترین مہینہ رمضان آرہا ہے۔ رمضان اللہ کا ایک خاص مہینہ ہے۔ اس کے تین حصے رحمت، مغفرت اور نجات ہیں۔ اللہ پاک اس مہینے جہنم کے تمام دروازے بند کردیتا ہے اور جنت کے تمام دروازے کھول دیتا ہے۔ مطلب اللہ تعالیٰ کا یہ خاص مہینہ ہم سب کیلئے باعث برکت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ایک خاص انعام بھی ہے۔ رمضان کے روزے رکھنا اور اللہ کی عبادت کرنا ہم پر فرض ہے اور اس طرح اللہ بھی بہت خوش ہوتا ہے ‘‘۔
فیضان نے سنا تو خوشی سے کھل اٹھا اور بولا: ’’دادی جان میں بھی رمضان کے روزے رکھوں گا اور ساتھ میں اللہ کی عبادت کروں گا‘‘۔
دادی بولیں: ’’ابھی آپ چھوٹے ہو، جب تھوڑے اور بڑے ہوگے تو روزے رکھنا‘‘۔
’’نہیں دادی جان میں رکھ لوں گا، آپ بے فکر رہیں میں سکول بھی جائوں گا۔ روزے بھی رکھوں گا اور نمازیں بھی پڑھوں گا ‘‘ فیضان نے تو جیسے اپنا پورا شیڈول بتادیا۔
رمضان شروع ہوا تو سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ ایک دوسرے سے رمضان کو لے کر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سحری کا وقت ہوا تو فیضان بھی منہ ہاتھ دھو کر باہر آگیااور سب میں بیٹھ کر سحری کرنے لگا۔ اس کے بعد اس نے روزے کی نیت کی تو اس کی امی نے کہا! ’’بیٹا آپ ابھی چھوٹے ہو۔ ابھی روزہ نہ رکھو اور اگر رکھنا ہے تو آدھا رکھ لو۔ آپ نے تو سکول بھی جانا ہے نا ‘‘ اس کی امی بولیں تو وہ کہنے لگا ’’نہیں میں پورے روزے رکھوں گا‘‘ ۔
فیضان نے فجر کی نماز اپنے ابو کے ساتھ مسجد جا کر پڑھی۔ سکول کیلئے اٹھا تو اس کی امی نے ناشتہ کروانا چاہا، مگر اس نے کچھ نہ کھایا۔ لنچ دیا تو بھی اس نے کچھ نہ لیا۔ سکول سے آیا تو بھی کچھ نہ کھایا بلکہ نماز پڑھ کر آرام کیا اور پھر سکول کا کام کیا۔ اور پھر افطارکے وقت سب کے ساتھ روزہ افطار کیا۔
امی اور دادی اس سے بہت خوش ہوئیں اور اس کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ فیضان نے دس روزے رکھے تو اس کی دادی نے اگلے روز افطار سے کچھ دیر قبل اسے ایک خوبصورت تحفہ دیا اور وہ تھا ایک بہت ہی خوبصورت قرآن مجید اور دوسرا نمازوں کا چارٹ تاکہ فیضان نمازوں کا پوری طرح پابند ہوجائے اور قرآن کو سمجھ کر خوشدلی سے پڑھے۔
فیضان دادی کا دیا ہوا تحفہ پاکر بہت خوش ہوا اور اس تحفے کو اپنے لیے بہترین تحفہ قرار دیا اور دادی کے گلے لگ کر امی ابو اوردادی سے کہا ’’میں سارے روزے رکھوں گا اور عبادت کروں گا،ان شاء اللہ۔ نہ صرف اب بلکہ بعد میں بھی‘‘ ۔
یہ سن کر سب بہت خوش ہوئے اور سب نے مل کر روزہ افطار کیا۔