فیض کی غزل،امید کااستعارہ

تحریر : ڈاکٹر نبیل احمد نبیل


فیض کی غزل میں زنداں اور قفس سے جو روشنی نمودار ہوتی ہے وہ زندگی کے راستوں کو منور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی غزل امید اور رجائیت سے بھر پور نظر آتی ہے، کہیں بھی کسی بھی مقام پر مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی۔بلکہ ان کی شاعری آگے بڑھتے رہنے کا عزم پیدا کرتی ہے۔

صبا جب درِ زنداں پہ دستک دیتی ہے تو فیض اسے امید کے استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس لیے کہ فیض کو حالات کی بہتری کا پختہ یقین تھا۔ ڈاکٹر انیس اشفاق نے فیض احمد فیض کی غزل میں رمز و ایما اور علامتی نظام کے حوالے سے بات کی ہے: ’’علامتوں کی معنویتیں فیض کے یہاں ایک سی نہیں ہیں۔مختلف شعروں میں انہیں مختلف معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔واعظ، شیخ، زاہد اور محتسب صاحبان اقتدار کا مفہوم بھی ادا کرتے ہیں اور رہنماؤں اور قائدین کا بھی۔ایسے رہنماؤں کا جن کی نیتیں صاف نہیں ہیں اور جو درپردہ صاحبان اقتدار کے ہم نوا ہیں۔ اس طرح رند اور میکش اگر ایک طرف باغیوں، انقلابیوں اور نظامِ نو کے طلب گاروں کی علامت ہے تو دوسری طرف یہ ایسے لوگوں کی علامت ہیں جو بغاوت اور انقلاب کا صرف لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، حقیقتاً باغی اور انقلابی نہیں۔’صبح‘ فیض کے یہاں آزادی اور نظامِ نو کی علامت ہے ،شام غلامی کی ،میخانہ، میکدہ وطن کی علامت بھی ہے اور ہمارے نجی نظام کی علامت بھی۔اس طرح گل سیاسی مسلک اور سیاسی آدرش کی علامت ہے اور اس خوش گوار فضا کی علامت بھی ہے جس کے ہم منتظر ہیں۔صبا ایک طرف مغربی اقتدار اور اشتراکیت دشمن قوتوں کی علامت ہے اور دوسری طرف اس ملک میں قائم ہونے والی نئی حکومت کی علامت بھی ہے جس نے ہمیں پھر گوشہ قفس میں پہنچا دیا ہے۔ صبا قفس اور بیرونی دنیا کے درمیان ایک مستقل رابطے کی علامت ہے۔فیض نے اپنے شعروں میں صباکی دوسری معنویتوں کو بھی نمایاں کیا ہے‘‘۔

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو

کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں

ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

فیض کی غزل میں رموز وعلائم کا نظام فارسی اور اردو کی کلاسیکی غزل سے ماخوذ نظر آتا ہے البتہ ان کا یہ رمزیہ اسلوب کسی طرح بھی کلاسیکی عہد کا تسلسل نہیں کہا جاسکتا کہ یہ الفاظ نئے سماجی اور نئے معنوی تناظر پیش کرتے ہیں۔ فیض نے ان رموز و علائم کے ذریعے نئے تخلیقی پیکروں کی صورت گری کی ہے۔فیض کا تغزل رومانوی انداز کا ہے لیکن ان کے یہاں رومانویت انقلابی طرز کی ہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں محض اس لیے برداشت کیں کہ وہ پوری سچائی کے ساتھ اپنے طبقے کے لوگوں کیلئے اور سماجی ناانصافیوں اور ناہمواریوں کے خلاف صداے احتجاج بلند کرتے رہے، اور قید و بند کے دورانیے میں تو ان کا یہ جذبہ اور بھی شدت اختیار کر گیا۔ ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے سزا، خطاے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے مقام ہے اب کوئی نہ منزل فرازِ دار و رسن سے پہلے سقوط ڈھاکہ پر ان کی آنکھیں اور قلم اشک بار ہو گئے اور انہیں وطن عزیز کے دو لخت ہونے کا گہرا صدمہ پہنچا۔ فیض اس زمانے میں لندن میں قیام پذیر تھے اور اس خبر کے بعد وہ کئی روز تک گھر سے باہر نہیں نکلے تھے۔پاکستان دو لخت ہونے کے بعد فیض1974ء میں جب بنگلہ دیش گئے تو انہوں نے اپنے احساس کو کچھ یوں پیش کیا: 

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

 فیض کی شاعری میں تخلیقی ترفع ایک اہم عنصر ہے ۔یہ وہ وصفِ خاص ہے جو فیض کی شاعری میں نغمگی پیدا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں غنائیت کے عنصر کو خلق کرتا ہے۔ اگرچہ ان کے کلام میں سیاسی جبریت کے خلاف دھیمے لہجے میں ان کے مافی الضمیرکی آواز سنائی دیتی ہے لیکن رمزو ایما کے انداز میں جو ان کی شاعری میں فطری چہکار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 04)

چوتھے پارے کا آغاز سورہ آل عمران سے ہوتا ہے، پہلی آیت میں بیان ہوا کہ نیکی کا مرتبۂ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 04)

چوتھے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے‘ جب تک اس چیز کوخرچ نہیں کرتے‘ جو تمہیں محبوب ہے اور جوکچھ تم خرچ کرتے ہو‘ اللہ اس کو خوب جانتا ہے‘‘۔

خلاصہ قرآن (پارہ 03)

تیسرے پارے کے شروع میں اس امر کا بیان ہے کہ اس حقیقت کے باوجودکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول علیہم السلام معزز و مکرم ہیں اور ان کی شان بڑی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں ایک کیلئے دوسرے کے مقابلے میں فضیلت اور درجے کی بلندی رکھی ہے۔ آیت 254 میں فرمایا کہ قیامت کے دن (نیکیوں کا) لین دین‘ دوستی اور سفارش نہیں چلے گی اور کفار ہی حقیقت میں ظالم ہیں۔

خلاصہ قرآن (پارہ 03)

تیسرے پارے کا آغاز بھی سورہ بقرہ سے ہوتا ہے۔ تیسرے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے بعض رسولوں کو دوسرے رسولوں پر فضیلت حاصل ہے‘ ان میں سے بعض نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے درجات کو اللہ رب العزت نے بلند فرما دیا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمام رسولوں میں سے سب سے زیادہ بلند مقام ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں احکام صوم

قصداً قے کرنے، کوئی چیز نگل لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

رمضان الکریم ‘ عبادت و ریاضت کا مہینہ

نفل کا ثواب فرض اور فرض کا ثواب 70فرائض کے برابر ملتا ہے