رمضان کا آخری عشرہ
’’رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے‘‘ (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)
رمضان سارا ہی عبادت کا مہینہ ہے مگر اس کے آخری عشرے کی عبادات کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ رمضان کے آخری دس دنوں میں اپنے اہل و عیال کو عبادت کیلئے خصوصی ترغیب دلانا نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ (عبادت کیلئے )کمر بستہ ہو جاتے ، راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے(صحیح بخاری 2024)۔
ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں:رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)۔آپ ﷺ حضرت فاطمہؓ اورحضرت علی ؓ کادروازہ بھی کھٹکھٹاتے اور فرماتے : ’’کیا تم دونوں نماز پڑھنے کیلئے اٹھوگے نہیں‘‘۔( معجم ابن الاعرابی: 2332)
آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزاریں۔ اگر ممکن ہو توکام سے چھٹی لے لیں اور عبادت کیلئے یکسو ہو جائیں۔ تراویح، تہجدوغیرہ میں حتی الوسع طویل قیام کریں۔کثرت سے تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر و اذکار کریں۔ رات کو خود بھی جاگیں اور گھر والوں کو بھی عبادت کیلئے جگائیں۔
اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کیلئے عبادت کی غرض سے مسجد میں رہنا اعتکاف کہلاتا ہے۔ یہ سنتِ مؤکدہ کفایہ ہے یعنی اگر بڑے شہروں، دیہاتوں میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے ذمہ ترک ِ سنت کا وبال رہتا ہے اور اگر کوئی ایک بھی اعتکاف کر لے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہو جاتی ہے اور اس کی مدت رمضان کا تیسرا عشرہ یعنی آخری دس دن ہیں۔اس مدت میں دنیا وی کاموں، نفسانی خواہشات، دل پسند مشاغل اور اہل و عیال سے الگ ہو کر خود کو صرف اللہ کی عبادت کیلئے وقف کر دیا جاتاہے ۔
حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے :ہر سال رمضان میں نبی کریم ﷺدس دن اعتکاف فرماتے لیکن وفات کے سال آپﷺنے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ (صحیح بخاری2044)
اگر کسی کو اعتکاف کیلئے دس دن میسر نہ آسکیں تو جتنے دن میسر ہوں اتنے دنوں ہی کا اعتکاف کر لیناچاہیے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی آپﷺنے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو (صحیح بخاری: 6697)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والوں کیلئے اعتکاف کے معاملے میں سنت یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کرے ، نہ جنازے میں جائے ، نہ عورت کو ہاتھ لگائے، نہ کسی حاجت کیلئے مسجد سے نکلے بجز سوائے اس حالت کے کہ جس کیلئے مسجد سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو(ابو داؤد: 2483)۔ رمضان کی 20 تاریخ کو مسجد میں اعتکا ف کیلئے بیٹھنا سنت ہے ۔اور جب عید کا چاند نظر آئے تب اعتکاف سے باہر آجائیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپﷺ نے وفات پائی تو آپﷺ کے بعدآپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔(صحیح مسلم:2784)
زندگی کی اہم مصروفیات کا متبادل بندوبست ہو سکے تو اعتکاف ضرور کریں۔خود اعتکاف نہ کر سکیں تو گھر سے کسی اور فرد کو اعتکاف کرنے میں مدد دیں۔ اعتکاف کو مؤثر انداز میں گزارنے کیلئے اوقات کی تقسیم کریں۔ نوافل، تلاوت قرآن، دعاؤں، ذکر اذکار،مطالعہ کتب اورغوروفکر میں وقت گزاریں۔ہر قسم کے غیر مفید کاموں اور مشاغل سے اجتناب کریں۔مسجد میں اعتکاف کے دوران دیگر ساتھیوں کے ساتھ غیر ضروری گفتگو اور بحث و مباحثہ یا لڑائی سے گریز کریں۔اعتکاف کامقصود خلوت یعنی گوشہ نشینی ہے اس لیے غیر ضروری میل ملاقات سے پرہیز کریں۔ دوران اعتکاف کسی بھی تکلیف پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔